اسلام اور اس کے متعدد احکام کی تنقید و تنقیص کے شغل کریہہ میں مصروف عمل معترضین کی اچھی خاصی تعداد ہر دور میں رہی ہے مگر اْن کی بے سرو پا باتوں اور لایعنی اعتراضات کو ہر دور میں علمائے حق نے قرآن و سنت کی روشنی میں ہی ایسے جوابات دئے ہیں کہ وہ منہ بسورکے رہ گئے۔ َحریضان ِ اسلام کی اسلام کے خلاف اچھل کود بہر حال سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ حسد و عداوت نے دل کی آنکھ کی بصارت زائل کرکے رکھ دی ہے لیکن کچھ اپنی ہی آستینوں میں پلنے والے لوگوں نے بھی وقت وقت پر غیروں کے ہاتھوں میںکھیل کر اور اْن کے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے دینِ مبین میں شبہات و شکوک پیدا کرنے کا مذموم عمل شروع کردیا۔ لیکن یہاں بھی علمائے حق نے حق محاذ پر ڈٹ کر احادیث و فرامین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت کو واضح کرکے رکھ دیا کہ معترضین کی زمین سرک گئی اور اْمت نے انہیں گھاس ڈالنے اور منہ لگانے سے احتراز و اجتناب کیا۔کچھ سلاطین نے بھی مختلف قسم کے گل کھلانے شروع کئے لیکن علم و حلم کے مسند نشینوں نے بھی حق کا ایسے دفاع کیا کہ شجاع و پامردی کی اصطلاحوں کو اپنے پر فخر ہونے لگا اور علم کا سر فخر سے اونچا ہوکے رہ گیا۔فی الوقت اس موضوع پر تفصیلی گفتگو مقصود نہیں البتہ کچھ مدت سے کئی سقراط و بقراط یہ کہتے ہوئے میدان میں آگئے ہیں کہ ہر سال جانوروں کی قربانی پر یہ جو زرِ کثیر صرف ہوتا ہے کیوں نہ غرباء و مساکین کی اقتصادی حالت کو درست بنانے پر خرچ کیا جاوے،تاکہ اْمت معاشی اعتبار سے تنومند بن کر اْبھرے۔اس سوچ کے حامل اشخاص اور فہم دین سے عاری ان کے ہم نوا بنیادی طور پر حکمت و فلسفۂ قربانی سے آگاہ ہی نہیں اور نہیں جانتے کہ اسلام دراصل خالق کے ہر حکم کے تعمیل کا نام ہے اور عبدوہی جو اس کی غلامی کا قلادہ اپنی گردن میں ڈال دے اور غلامی وہی کہ اْس کے ہر حکم کو بلا چوں و چرا تسلیم کرے۔ وہ مخلوق جس کی سوچ محدود ہو ،جس کی عقل کا ایک مخصوص دائرہ کار ہو ،وہ خالق کے احکام کی اپنی من پسند تاویلیں کرنا شروع کردے، اِسے دیوانگی سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔اسلام سرافگند گی اور خود سپردگی کا نام ہے ایسی خود سپردگی جس کی مثالیں سیدنا خلیل اللہ ؑ نے صفحۂ گیتی پر رقم کیں اور تا قیام قیامت براہیمی تاریخ انسانیت کی تاریک راہوں کو روشن کرتی رہے گی۔ہاں بات ’’ان ذہین و فطین ‘‘لوگوں کی ہورہی تھی جو قربانی کے جانوروں کی قیمت غریبوں میں تقسیم کرنے کے لئے بے چین نظر آتے ہیںاور اس عمل کو رضاعت مال سمجھتے ہیں، اْن کے گوش گذار یہ بات کردیں کہ اْن بے چاروں کو ان غریبوں کا غم اْس وقت ہلکان کیوں نہیں کردیتا جب وہ ہزاروں لاکھوں کا لباس زیب تن کرتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ ان راہوں اور گھروں میں ایسے بھی لوگ پڑے ہیں جو دریدہ بدن ہیں ،سردی گرمی سے بچائو کے لئے اْن کے پا س کوئی معقول لباس بھی نہیں۔سارے سال مرغن و لذیذ غذائیں کھا کر انہیں ان مفلسوں کی فاقہ کشی کیوں بے قرار نہیں کرتی،شادیوں پر اسراف و تبزیر کے سارے ریکارڈ مات کرکے اور اَن گنت جانوروں کو ان مواقع پر ذبح کرنے پر ان پسماندہ لوگوں کی یاد کیوں نہیں آتی ؟ پیزا ،برگر اور دیگر اکل و شرب کی نئی اشیاء کے استعمال کے وقت وہ کیوں نہیں سوچتے کہ یہ اضاعت مال ہے ،کیوں نہ اس رقم سے کسی بھوکے کا پیٹ بھرا جائے یا کسی دریدہ بدن کے لباس کا بندوبست ہو،اپنے بچوں کو اعلیٰ ترین مدارس یا بیرون ملک حصول تعلیم کے لئے بھیجنے کے عمل پر ہوش ربا خرچہ برداشت کرنے کے موقع پر وہ کیوں انہیں عام سے مدارس میں ہی نہیں پڑھاتے اور بچی رقم سے کسی غریب کے بچے یا بچوں کی تعلیم کا بندوبست کردیتے ہیں ،جیب خرچہ کے نام پر اپنے نور نظر وں کو جو بھاری بھر کم رقوم دیتے ہیں اْس میں تھوڑی سی کمی کرکے وہ غرباء کی معاشی حالت بہتر بنانے کا بیڑہ کیوں نہیں اٹھاتے۔محلوں ،علاقوں میں سرگرم ہوکر اجتماعی زکوٰۃ کا حصول کیوں نہیں کرتے اور مقامی سطح پر منصوبہ بندطریقے پر اس کی تقسیم کا کام کیوں نہیں کرتے ،ان سے بے چاروں کو بس اسلامی شعائر ہی کیوں نظر آتے ہیں کہ ان سے اجتناب ہی ملت کی حالت غیر کو بدل سکتا ہے۔خود غریب و مسکین کی اعانت کے لئے وہ لوگ کس قدر کمر بستہ ہیں کوئی ان سقراط و بقراط سے پوچھ لے۔
جدید تہذیب کے دلدادہ اور مغرب سے متاثرہ اذہان ذوالحجہ کی آمد کے ساتھ ہی یہ اعتراضات بھی اٹھادیتے ہیں کہ قربانی کی وجہ سے لاکھوں جانوروں کی نسل کشی ہوتی ہے ،ڈھیر ساری رقوم ضائع ہوجاتی ہیں۔ان رقوم کو رفاہِ عامہ کے کاموں میں خرچ کردیا جاتا تو کتنا بہتر رہتا۔کچھ سادہ لوح مسلمان بھی اس گمراہ کْن پروپیگنڈہ کے شکار ہوکر قربانی دینے سے رہ جاتے ہیں۔واضح رہے کہ اگر قربانی کی بہ نسبت انسانی مخلوق کی خدمت اس موقع پر اہم ہوتی تو سید عالم ؐ کے دورِ مقدس میں قربانی کرنے والے سماجی کاموں اور غرباء پر ہی رقوم خرچ کردیتے ،جبکہ اْس دور میں واقعی ناداروں کا ایک بڑا طبقہ تھا۔لیکن رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم نہیں دیا کہ قربانی کے بدلے اس طبقہ کی دِل جوئی کریں تو قربانی ادا ہوئی۔خود رسول اللہؐ کا دائمی عمل ان ایام میں قربانی کرنے کا تھا۔آپ ؐ? کے بعد خلفائے راشدین بھی اسی راہ پرگامزن رہے ،قربانی کے سِوا کوئی دوسرا راستہ اپنانا درست نہیں۔اْن کے سامنے سردار دو عالم ؐ کا یہ ارشاد عیاں تھا کہ قربانی کے دنوں میں (قربانی کے جانور) خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ عمل کوئی نہیں۔اْمت نے ہمیشہ یہ بات پلے باندھی ہے کہ قربانی کے جانور کے بدلے صدقہ کرنے سے ایک بڑے شعار کا ترک لازم آتا ہے۔معترضین یہ بھی کہتے ہیں کہ قربانی کے جانور کی یہ نسل کشی رفتہ رفتہ اس دنیا سے اس نسل کو ناپید کرے گی۔لیکن انہیں کون سمجھائے کہ انسانوں اور جانوروں کو جس چیز کی ازل سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ اْس کی زیادہ افزائش فرماتا ہے۔سروے کیجئے جن ممالک میں قربانیاں دی جاتی ہیں ان ملکوں میں کیا قربانی کے جانور ناپید ہوچکے ہیں ؟جبکہ کتوں ،بلیوں کو دیکھئے ان کی نسل اْن ملکوں میں کس قدر ہے۔گائیں اور بکریاں ہمیشہ ذبح کے مراحل سے گذرتی ہیں لیکن تعداد بڑھتی ہی جاتی ہے۔دیارِ ہند میں جب سے گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگائی گئی ہے وہاں تو اس نسل کی پیداوار گھٹ گئی ہے۔یہاں تو ہر گھر اور ہر بستی گایوں ،بکریوں اور بھیڑوں سے بھرے ہوئے ہیں۔
ایک سرکردہ عالم دین کا کہنا اور لکھنا ہے کہ جب سے عرب میں سواری اور بار برداری کے لئے اونٹوں کا استعمال کم ہوا، وہاں اونٹوں کی پیداوار بھی گھٹ گئی ہے۔عقل کے جو اندھے قربانی کے جانوروں کی تسلسل کے ساتھ قربانی کے ان جانوروں کی نسل ناپید ہونے کا خطرہ اور اندیشہ ظاہر کررہے ہیں وہ یہ بھی دیکھ لیں کہ سینکڑوں برس سے تواتر سے یہ عمل جاری ہے مگر اس نسل کی افزائش میں اضافہ در اضافہ ہی دیکھنے کو ملتا ہے ،ان دانش وروں کی دانش وری پر ہنسیں یا روئیں ،جس خالق نے قربانیاں دینے کا حکم مرحمت فرمایا ہے وہ نہیں جانتا تھا کیا؟ کہ اس سے یہ نسل دنیا سے مفقود ہوگی۔بس یہ عقل و خِرد کے ٹھیکیدار ہی ہر شئے کی حقیقت جانتے ہیںلیکن یاد رکھیں کہ یہ لوگ قربانی تو کیا کسی بھی شعائر اسلام کی علت و حکمت سے قطعاً ناواقف ہیں اور نہیں جانتے کہ عبد کے ذمہ صرف معبود کے حکم کی تعمیل ہے۔
قربانی کے بارے میں خامہ فرسانی کرنے کے بجائے یہ معترض طرح طرح کے رسومات میں ضائع ہونے والے اربوں کھربوں کی مالیت کو بچالیں تو غریبوں کا بہت بھلا ہوگا ،وہ فضول خرچیاں انہیں نہیں دِکھتی کیوں نہیں، جو ملت کے اقتصادی بنیادوں کو ہلا کے رکھ دیتی ہیں،جنہیں مٹانے کی ضرورت ہے کتنی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو سگریٹ ،پان ،بیڑی پر بے حساب روپے خرچ کرتے ہیں۔کرکٹ ،ہاکی اور دوسرے کھیل کتنا پیسہ ہضم کرجاتے ہیں ،گھوڑ دھوڑ اور ناچ گانے میں کس قدر رقم پھونک دی جاتی ہے ،انٹر نیٹ ،کیبل ،وی سی آر ،سینما ،تصویر بازی ،مووی بازی ،فحش اخبارورسائل۔عید کارڈوں ،شادی کارڈوں ،ویدیو کیسٹس ،سی ڈی ،ویڈیوز گیمز ،آتش بازی ،غیر شرعی بیوٹی پارلروں پر کیا پانی کی طرح روپے خرچ نہیں کیا جاتا۔ اگر غرباء کی امداد ،یتیموں کی اعانت ،بیوائوں کی مدد اور ملی امور کی انجام دہی میں صرف کیا جاتا تو کتنا بہتر رہتا۔ لیکن یہ دانشمند ا س حوالہ سے کچھ سننے کو اس لئے تیار نہیں کہ اْن کے پاس اسلام کو زد پر رکھنے کے سوا کام ہے نہ ایجنڈا۔۔۔۔
وہ یہ نہیں جانتے کہ جو مردجلیل ؑ خواب میں بس ایک اشارہ پاکر اپنے لخت ِ جگر کو قربان کرنے پرنہ صرف آمادہ ہوا بلکہ حلقوم پر چھری تک رکھ دی اور یہ تک نہ پوچھا کہ علت کیا ہے اور حکمت کیا نہ کہ اس عمل سے ہم کو کیا ملنے والا ہے، ایمان ایسا کہ سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے۔یہی اسلام کی اصل روح ہے کہ حکم ملے اور ہمارے ذمے بس حکم کی تعمیل ہے۔
ہاں ! بات پھر یہاں آکر رْک جاتی ہے کہ قربانی کو اضاعت مال سمجھنے والے الٰہی حکمت سمجھیں نہ سمجھیں لیکن کیا انہیں یہ بھی نہیں دِکھتا کہ اسلامی دنیا میں غرباء کا ہی ایک بڑا طبقہ ہے ،پہاڑوں اور صحرائوں میں پلنے والے لوگ بھی ہیں جو مویشی کی صنعت کو فروغ دیتے ہیں ،لاکھوں گلہ بانوں کو مزدوری ملتی ہے اور سار سال ان جانوروں کو پال کر پھر قربانی کے موقع پر بیچ کر اْمت کے معاشی پہئے کو چلانے میں ایک مضبوط کردار ادا کرتے ہیں۔ان جانوروں کی کھالیںکھربوں اربوں میں بکتی ہیں ،دنیا میں ہمارے کتنے ہی ادارے اور خیراتی ہسپتال ان ہی کھالوں کے بل پر اپنی زندگی کی رفتار قائم رکھے ہوئے ہیں۔انہی کھالوں سے ہمارے لیدر پرڈیکٹس بنتے ہیں ،ان اربوں کھربوں ڈالروں پر ان عقل کے ٹھیکداروں کی نگاہ کیوں نہیں جاتی جو خود Cosmeticsپر استعمال کرتے ہیں تاکہ زیادہ عرصہ جواں نظر آسکیں۔انہیں یہ بھی نہیں دِکھتا کہ ان جانوروں کی چربی سے چراغ جلائے جاتے ہیں اور سب سے بڑا یہ قربانی کا یہ گوشت ان پسماندہ لوگوں تک پہنچتا ہے جو سارا سال گوشت کی ایک بوٹی بھی نہیں دیکھ پاتے۔
ہاں آج اگر قربانی پر یہ لوگ سوال اٹھاتے ہیں تو کل کلاں ان کا نشانہ نماز ،روزہ اور حج بھی ہوگا۔اللہ کے خوف سے عاری اور شرم سے کوسوں دور ان لوگوں کو کون سمجھائے۔اس دنیا پرستی کے دور میں بس زر اور حصولِ زَر ہی اْن کے ذہن پر سورا ہے اور معاش و معشیت کے سِوا اْنہیں کچھ نظر نہیں آتا۔ بس یہ غم انہیں گھلا رہا ہے قربانی پر یہ اْمت کتنا کچھ خرچ کرتی ہے۔کل کوئی دوسرا یہ کہہ اْٹھے گا کہ سارا سال ہم نماز کے ساتھ ایک خاصا وقت لگا دیتے ہیں ،یہ وقت کسی غریب کی مدد میں لگا دیجئے ،پانی بھی بہت خرچ ہوتا ہے ،چٹائیاں بھی گھستی ہیں اور نمازوں کے لئے بھی تو اب کروڑوں اربوں کی مساجد بھی تعمیر کرنا پڑتی ہیں یہ رقم بھی تو بچ جائے گی۔پھر روزہ کے بارے میں فرمان شروع ہوگا کہ نقاہت و کمزوری کا باعث بنے ہیں۔دفاتر ،کارخانے متاثر ہوتے ہیں ،اس پر بھی سوچا جاناچاہئے۔حج پر مال ،انرجی اور وقت اتنا سارا خرچہ آتا ہے۔کہیں گے یہ رقم بھی کسی غریب و مفلس کے حوالہ کردیجئے۔پھر ادھر باقی کیا بچا؟
یاد رہے یہ انسانی مخلوق نعوذ باللہ جس چیز کو اضاعت مال سمجھ رہی ہے، اس کے بارے میں اْن کے خالق کا فرمان ہے ’’اس میں بھلائی ہے ‘‘اور یہی بھلائی جو اْن کی سمجھ سے فروتر ہے ،کاش اللہ تعالیٰ اِن کا بھلا کرکے انہیں اسے بھلائی کا ادراک بھی دے۔آمین
رابطہ۔ 9419080306