بانہال // پیرکی صبح سے نئی خریدی گئی کار سمیت ضلع ادہمپور کے رام نگر سے ادہمپور کی طرف آتے ہوئے لاپتہ پانچ افراد خانہ سمیت لاپتہ ہوئی کار کا معمہ گذشتہ روز حل ہوا ہے اور کھوج کے بعد پولیس کو معلوم ہوا ہے کہ یہ پانچوں بدنصیب افراد خانہ ایک دلدوز سڑک حادثے کا شکار ہوکر کار سمیت ایک تیز بہائو والے میں بہہ گئے۔رام نگر پولیس اور ایس ڈی آر ایف کی انتھک محنت کے بعد پانچ افراد خانہ میں سے گھر کے کفیل کی لاش کو بدھ کی شام دریا سے برآمدلہ کی جبکہ نالے کے گندلے پانی کے تیز بہائو میں یقینی طور بہہ گئے دیگرچار افراد خانہ کی لاشوں کو ڈھونڈ نکالنے کیلئے پولیس کی تلاشی کارروائیاں جمعرات کو بھی جاری رہیں۔ تلاش کارروائی کے دوران جمعرات کی صبح پولیس اور ایس ڈی ار ایف کی ٹیموں نے خالی کار کو بھی نالہ ککگوٹ سے برآمد کیا ہے۔ پولیس ذرائع نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا کہ پیر کے روز موہن لعل اپنے بدنصیب کنبہ سمیت خریدی گئی نئی کار میں سوار ہوکر اپنے گھر واقع لنگہ ، رامنگر سے ادہمپور کے راستے چینینی میں اپنے سسرال جارہے تھے اورجب صبح گیارہ بجے رامنگر سے نکلے کار سوار دیر شام تک بھی چینینی میں اپنے رشتہ داروں کے پاس نہیں پہنچے اور انکا موبائل فون بھی بند آنے لگا تو انہوں نے تشویش کے عالم میں یہ معاملہ رامنگر پولیس سٹیشن کی نوٹس میں لایا۔ انہوں نے کہا کہ کار کی تلاش میں ایس ڈی پی او رامنگر اور ایس ایچ او رامنگر جسویندر سنگھ کی قیادت میں تلاشی کارروائیوں کا آغاز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فون کی آخری لوکیشن کی مدد سے سڑک سے نالہ کی طرف کچھ نشان پانے کے بعد پولیس ٹیمیں رامنگر ادہمپور سڑک پر کھگوٹ کے مقام یہ دل دہلانے والا سراغ کھوج نکالنے میں کامیاب ہوگئیں ، جس سے معلوم ہوا کہ یہ کار اپنے پانچوں افراد خانہ سمیت سڑک سے لڑھک کر سیدھے نالہ کھگوٹ کے تیز اور مٹیالے پانی میں گر گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منگل سے شروع ہوئی تلاش کے بعد پولیس نے بدھ کی شام کنبہ کے سربراہ چالیس سالہ موہن لعل کی لاش کو نالہ کے گہرے پانی سے برآمد کی جبکہ کار میں سوار موہن لعل کی اہلیہ ریکھا دیوی عمر 30 سال ، انکے دو بیٹے دس سالہ مکیش بھگت ، تین سالہ نکیش بھگت اور 8 سالہ بیٹی پوجا دیوی کی لاشوں کو ڈھونڈ نکالنے کی کارروائی جمعرات شام تک بھی جا ری تھی۔