جموں// اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے کہاکہ حد بندی کا عمل کورونا وائرس کی وجہ سے مزید تعطل کاشکا رنہیں ہوناچاہئے اور اسے مارچ2021تک مکمل کرکے جموں وکشمیر میں ایک عوامی منتخبہ حکومت کیلئے انتخابات کروائے جائیں ۔جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الطاف بخاری نے کہا کہ ’’ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جموں وکشمیر میں حد بندی کے عمل کو فوری طور پر مکمل کرے ،لیکن اگر یہ عمل کورونا کی وجہ سے تعطل کاشکار ہے تو 83اسمبلی نشستوں پر انتخابات کروائے جائیں ‘‘۔یہ الطاف بخاری کی اپنی پارٹی متعارف کروانے کے بعد جموں میں پہلی پریس کانفرنس تھی ۔الطاف بخاری نے کہاکہ حکومت ان سات اسمبلی نشستوں کی نامزدگی بھی کرسکتی ہے جو حد بندی کمیشن کی طرف سے بڑھایاجانے متوقع ہے ۔ان کاکہناتھاکہ اسمبلی انتخابات کیلئے نوٹیفکیشن جاری کی جانی چاہئے اور اس عمل کو تاخیر کاشکار نہ بنایاجائے ۔انہوں نے کہا’’کسی کو چوردروازے سے سامنے آنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے ، کیوں ہمیں جموں وکشمیر میں عوامی منتخبہ حکومت سے محروم رکھاگیاہے‘‘۔
الیکشن کمیشن ایک جماعت کا پشت پناہ
الطاف بخاری نے کہا’’جموں وکشمیر اپنی پارٹی یہ جانتی ہے کہ الیکشن کمیشن کے افسران کس ایک جماعت کے دفتر میں جاتے ہیں اور دفتر میں کیا شیئر کرتے ہیں ،یہ کسی سے پوشیدہ بات نہیں ہے ،حد بندی کا عمل شفاف ہوناچاہئے اور یہ کسی ایک پارٹی کو مدد دینے کیلئے نہیں ہوناچاہئے کیونکہ کچھ افسران ایک پارٹی کے دفتر جاتے ہیں اور وہاں سے ہدایات پاتے ہیںجو ہم نہیں جانتے‘‘۔
ٹول پلازہ پر تنقید
الطاف بخاری نے بھاجپا کا نام لئے بغیر اس پر تنقید کرتے ہوئے کہا’’کیا ہمیں جموں میں ٹول پلازوں کو ترقی کی علامت کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے ، کیا یہ ٹول پلازہ لگاکر جموں کے حقوق کا تحفظ کررہے ہیں ،کیا ان کے پاس جموں والوں کی ترقی کیلئے اس کے سواکوئی دوسرا راستہ نہیں‘‘۔بخاری نے نے کہاکہ انہوں نے جموں میں اس قدر بجلی کٹوتی اس سے پہلے نہیں دیکھی اورترقی کاعمل غائب ہے۔بیوروکریسی کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بخاری نے کہا’’ہماری بیوروکریسی کا عوام سے کوئی رابطہ نہیں ہے،لوگوں کی مشکلات کی کوئی سنوائی نہیں ہوتی، افسر فون نہیں اٹھاتے ہیں، بات نہیں سنتے ہیں، ترقیاتی کام جمود کے شکار ہیں‘‘۔ان کا مزید کہناتھا’’تلنگانہ میں بھی کورونا وائرس ہے،وہاں حکومت نے پچھلے چار ماہ کے دوران زیر زمین ڈرینیج مکمل کیا اور کیبل بچھائیں، پوری ریاست میں سڑکوں پر میکڈم بچھایا گیا، وہاں حکومت نے سوچا کہ لاک ڈائون میں ہم یہ چیزیں کرسکتے ہیں، ہمارے ہاں افسوس کی بات ہے کہ کورونا وائرس کی آڑ میں سب کچھ بند کیا گیا ہے‘‘۔انہوں نے کہاکہ جن ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کا علاج ہوتاہے ان کی حالت انتہائی خستہ ہے،یہ بھی بیوروکریسی کی وجہ سے ہے ۔انہوں نے کہاکہ انہیں حیرانی ہے کہ کیوں جموں وکشمیر کی اقتصادی بحالی کیلئے کوئی روڈ میپ نہیں ہے۔
اپنی پارٹی تفریق پسند سیاست ختم کریگی
بخاری نے کہاکہ پچھلے 72برسوں میں جموں اور کشمیر کے درمیان تفریق کی سیاست کی گئی اور خلیج پیدا کرنے کی کوششیں ہوئیں لیکن اپنی پارٹی اس سیاست کو ختم کرکے دونوں خطوں کے درمیان اتحاد قائم کرے گی کیونکہ دونوں خطوں کے عوام ریاست کا درجہ بحال چاہتے ہیں، جموں کی عوام چاہتی ہے کہ زمین کے مالکانہ حقوق ہمارے پاس ہی رہیں اور کشمیر کی عوام بھی ایسا ہی چاہتی ہے، دونوں خطوں کی عوام نوکریوں کا تحفظ چاہتی ہے، کچھ سازشی عناصر چاہتے ہیں کہ دونوں خطے ایک دوسرے سے لڑے لیکن دونوں خطوں کے لوگوں کو یہ سازشیں ناکام بنانی ہوں گی۔انہوں نے کہاکہ تفریق پسند عناصر کی کوششیں ناکام ہوں گی۔الطاف بخاری نے سرینگر کیلئے سنٹرل ایڈمنسٹریٹوٹریبونل کی علیحدہ شاخ کا مطالبہ کیا ۔
ریاستی درجہ اور فور جی انٹرنیٹ بحال کیاجائے
الطاف بخاری نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ریاست کا درجہ بحال کرے کیونکہ اسے لئے ہوئے ایک سال ہوگیاہے ۔انہوں نے جموں وکشمیر میں فورجی انٹرنیٹ کی بحالی پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ سزا کی بھی ایک انتہا ہوتی ہے۔ان کاکہناتھا’’پہلے یہاں کریک ڈائون ہوتا تھا ،اب لاک ڈائون ہوتا ہے، فرق صرف ’کے‘ اور’ایل‘ کا ہے، ہمارے لئے فور جی انٹرنیٹ خدمات ایسی چیز بن گئی ہے جیسے ہم چاند اور سورج کا مطالبہ کررہے ہیں، ہمارے بچوں کو آن لائن کلاسز سے بھی محروم کیا گیا ہے‘‘۔ ان کا مزید کہنا تھا’’میری بھارتی وزیر داخلہ، جو براہ راست ہماری اس ریاست کو چلا رہے ہیں، سے اپیل ہے کہ سزا کی بھی ایک انتہا ہے۔ بچوں کو فور جی انٹرنیٹ خدمات سے استفادہ کرنے دیجئے تاکہ ان کا مستقبل خراب نہ ہوجائے، جنگجو فور جی نہیں بلکہ سیٹلائٹ فون استعمال کرتے ہیں،مجھے سمجھ نہیں آرہا ہے کہ ہمیں کس بات کی سزا دی جارہی ہے‘‘۔
اقتصادی پیکیج کا مطالبہ
بخاری نے کہا’’یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور، تجارت پیشہ افراد اور نجی اداروں میں کام کرنے والے افراد گذشتہ چار ماہ کے دوران کوئی پیسہ کما نہیں پائے ہیں، مجھے یہ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ حکومت ان کے لئے کچھ کیوں نہیں کررہی ہے، ہم نے کوئی اقتصادی پیکیج نہیں دیکھا جس کی بدولت ان افراد کی مددت ہوتی، سیاحتی شعبے سے وابستہ لوگوں کی مدد کی جائے‘‘۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں اقتصادیات کا سب سے بڑا ذریعہ سیاحت اور مذہبی سیاحت ہے اور حکومت تاجروں، ہوٹل مالکان اور سیاحتی سرگرمیوں سے جڑے افراد کیلئے پیکیج کااعلان کرے اوران پرقرضوں کی شرح سود کو ختم کیاجائے ۔