بہت بری طرح سے اس سیاسی خلاء کو محسوس کیا جارہا ہے جو اس وقت جموں و کشمیر میں موجود ہے ۔دفعہ 370کے خاتمے کے بعد کورونا وائرس کے قہر نے جو صورتحال پیدا کردی، اس کو یونین ٹیریٹری انتظامیہ کے لئے سنبھالنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی نظر آرہا ہے کیونکہ اس ہنگامی صورتحال کے لئے عوام اور حکومت کے درمیان وسیع تر اور قریبی رابطہ ہونا انتہائی ضروری ہے ۔اس رابطے کے فقذان کی وجہ سے ہی کوروناوبا نے خاص طور پرکشمیر میں انتہائی خوفناک حد تک آبادی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے ۔موجودہ انتظامیہ صحیح وقت پر فیصلے کرنے میں کامیاب نہیں ہورہی ہے ۔ ریڈ زونوں میں سخت ترین پابندیاں عاید کی جاتی ہیں اس کے بعد پابندیوں میں نرمی کی جاتی ہے اور بعد میں پھر سخت پابندیوں کا اطلاق کیا جارہا ہے ۔نہ لوگ پابندیوں اور ضابطوں کی کوئی پرواہ کررہے ہیں اور نہ کورونا کے پھیلاو کو روکنے کی کوئی صورت پیدا ہورہی ہے ۔ایک بار پھر 27جولائی تک نئے لاک ڈاون کا اعلان کئے جانے کے باوجود صورتحال میں کوئی تبدیلی رونما ہونے کے آثار نہیں دکھائی دے رہے ہیں ۔اہم شاہرائوں اور تجارتی مراکز پر تار بندیوں اور فورسز کی تعیناتیوں کی وجہ سے سناٹا تو ہے لیکن اندرونی علاقوں میں نہ کوئی سماجی دوری ہے نہ ماسک کا استعمال کیا جارہا ہے ۔ان میں ایسے علاقے بھی ہیں جہاں کوڈ متاثرین بھی ظاہر ہوئے ہیں ۔اس لئے یہ لاک ڈاون بھی متاثرین کی تعداد میں کسی کمی کا باعث ہونا مشکل ہے اور کرونا کو روکنے کی کوئی تدبیر بھی نہیں ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد 27جولائی کو جب لاک ڈاون میں نرمی کی جائے گی تو عید کی خریداری کی وجہ سے پہلے سے بھی زیادہ بدتر صورتحال پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔
اہم عہدوں پر تعینات افسران میں سے اکثریت غیر مقامی ہیں،اس لئے عوام کے ساتھ ان کا تال میل پیدا ہونا دور کی بات ہے ۔ایسے موقعے پر وہ افسران اہم کردار ادا کرسکتے تھے جو مقامی رحجانات کی سمجھ بوجھ رکھتے اور اس کے مطابق اقدامات کرتے لیکن اس سے زیادہ وہ سیاسی قوتیں اس موقعے پر کام آسکتی تھیں جن کااپنا جماعتی نیٹ ورک ہو اور جو عوام کے اندر جاکر عوام کے اس طبقے کی مجبوریاں بھی سمجھ سکتے جو اپنے اہل خانہ کے پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے گھروں سے باہر آنے پر مجبور ہے اوروہ اس کی مجبوریوں کا سدباب کرنے کی کوئی ایسی تدبیر بھی کرسکتے تھے جس سے کہ ان کو بھی راحت مل سکتی اور کرونا کا بے لگام پھیلاو بھی نہیں ہوتا ۔ وہ کورونا کی قہر انگیزیوں کو بھی عوام پر ظاہر کرکے انہیں محتاط رہنے پر آمادہ کرتے۔ہر طرح کی ہنگامی صورتحال میں حکومت ہی سب کچھ نہیں کرسکتی زمینی سطح پر کام کرنے والی کوئی قوت ہی موثر کردار ادا کرسکتی ہے ۔ بدقسمتی سے خاص طور پر کشمیر میں اب کوئی ایسی قوت باقی نہیں رہی ہے جو اس موقعے پر کوئی کردار ادا کرسکتی ۔ہر سیاسی قوت پر سے عوام کا اعتماد ختم ہوچکا ہے۔ اس طرح سے جو خلاء پیدا ہوچکا ہے اس میں کسی طوفان کو روکنے کا کوئی بھی موثر ذریعہ باقی نہیں بچا ہے ۔جو سیاسی جماعتیں موجود ہیں ،وہ اس اہم ترین اور نازک ترین موقعے پر کوئی کردار ادا کرنے سے قطعی کوئی دلچسپی نہیں رکھتیں کیونکہ انہیں خود پر بھی کوئی اعتماد نہیں رہا ہے ۔نیشنل کانفرنس عوام سے ابھری ہوئی ایک جماعت تھی جس کی عمارت اب کھنڈروں میں تبدیل ہوچکی ہے لیکن اس کے باوجود اس کے لئے ایک سنہری موقع تھا کہ وہ اس صورتحال میں عوام کے اندر جاکر کام کرکے اپنا کھویا ہوا اعتبار بحال کرنے کی کوشش کرتی لیکن اس کی قیادت میں اب نہ وہ شعور باقی رہا ہے اور نہ جذبہ ۔علیحدگی پسند قیادت کہاں سے آئی تھی اور کہاں گئی اس پر کافی سوچ بچار کیا جارہا ہے لیکن کچھ ہاتھ نہیں آرہا ۔لگتا ہے کہ وہ سعادت حسن منٹو کا افسانہ تھا جس کا انجام ’’ ٹھنڈا گوشت ‘‘ ہوا۔
عا م طور پر سماجوں میںسیاسی اداروں کے علاوہ ایسے ادارے بھی ہوتے ہیں جو ہر طرح کی ہنگامی صورتحال میں متحرک ہوکرموثر کردار ادا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔ان میں سول سوسائٹی کے علاوہ تجارتی اور فلاحی ادارے بھی ہوتے ہیں۔ کشمیر میں ان سے بھی طاقتور مذہبی ادارے ہیں۔مذہبی جماعتوں کی ایک بڑی کہکشاں اب بھی موجود ہے ۔ مذہبی جماعتوں کے علاوہ مولویوں ، خطیبوں اور اماموں کی بھی بہت بڑی تعداد ہے جو گزشتہ تیس سال سے بہت متحرک رہی ہے ۔ یہ قوتیں مشرق وسطی کی صورتحال پر بھی عوام کو سڑکوں پر لاتی تھی اور امریکہ کے خلاف بھی لیکن جب ایک آفت نے اپنے ہی وجود کو ہلا ڈالا تونہ صرف ان کا بھی کوئی نام و نشاں کہیں نظر نہیں آرہا ہے بلکہ یہ اس موقعے پر بھی وہی کردار ادا کررہے ہیں جوعوام کو ہلاکتوں کی طرف ہی لے جارہا ہے ۔اس وقت جبکہ خانہ کعبہ بھی بند ہے اور مسجد نبوی ؐ بھی، یہ عوام کو مساجد میں بلاتے ہیں اور اجتماعات کا انعقاد کراتے ہیں ۔ لوگ ماسک کے بغیر اور کسی سماجی دوری کے تصور سے بھی نابلد نمازیں ادا کرتے ہیں ۔انہیں یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ مساجد میں نمازیں ادا کرنے سے اللہ انہیں کورونا جیسی وباء سے محفوظ رکھے گا حالانکہ وہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ کتنے ہی اعلیٰ ترین مرتبے کے صحابی وبائوں کا شکار ہوکر اس دنیا سے رخصت ہوئے ۔اس لئے اپنی جان کی حفاظت کرنا انسان کا سب سے بڑا فرض ہے ۔چنانچہ اپنی ا ور دوسروں کی جان کو محفوظ رکھنے کے لئے گھروں میں عبادت کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے ۔یہ امتحان کا وقت ہے اور امتحان کی اس گھڑی میں جذبات میں بہہ کر خطرے کو اپنے پاس بلانا احمقانہ فعل ہی ہوسکتا ہے ۔لیکن مولویوں اور اماموں کو یہ خطرہ لاحق ہے کہ اگر مساجدکو بند کیا گیا تو ان کا روزگار خطرے میں پڑجائے گا، اس لئے وہ اجتماعات منعقد کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ۔2014ء میںجب سیلاب نے تباہی مچادی تو دیہات سے نوجوانوں کی ٹولیاں ہر روز متاثرہ علاقوں میں سبزیاں اوردیگر ضروری اشیاء لیکر پہنچ جایا کرتی تھیں ۔ضرورت مندوں تک ہر چیز پہنچ جایا کرتی تھیں ۔آج ضرورت مندوں کی تعداد ا س سے کہیں زیادہ ہے لیکن کوئی نوجوان آج ان کی مدد کے لئے کہیں دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔کہا ں گئے وہ نوجوان اور ان کے انسانی جذبے ۔اب لوگ قربانی کی تیاریاں کررہے ہیں ۔بیس سے تیس ہزار روپے تک کے بھیڑ اور بکرے خریدے جارہے ہیں ۔قربانی کا یہ فرض ادا کرکے لوگ گوشت اپنے ان رشتے داروں کو بھیج دیں گے جو چار چار بھیڑیں ذبح کرچکے ہوں گے ۔وہ بھی جواب میں گوشت انہی کو بھیج دیں گے جن کا وہ وصول کرچکے ہوں گے ۔شاید گوشت کا کوئی ٹکڑا ان لوگوں تک نہیں پہنچ پائے گا جنہیں ایک سال سے کوئی کام نہیں مل سکا اور جن کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آپہنچی ہے ۔کیا اسلام جیسے دین کا مقصد روایتوں اور رسموں کو پورا کرنا ہی ہے ۔کہاں گیا وہ دین جس نے غربت ، افلاس اور حاجت مندی کا خاتمہ کرنے کے لئے انسان کو ایک مکمل نظام مہیا کیا تھا ۔حقیقت یہ ہے کہ مذہبی پیشوائوں میں وسعت نظر باقی نہیں رہی ہے اور انہوں نے مذہب کو روایتوں اور رسموںتک محدود کردیا ۔ یہ آج کی بات نہیں اور نہ یہ کشمیر تک محدود ہے بلکہ پوری مسلم دنیا اسی کی شکار صدیوں سے ہورہی ہے ۔ سلطنت عثمانیہ کا ایک واقعہ ہے کہ سلطان سلیمان مہتسم نے اپنے محل میں ایک درخت اپنے ہاتھوں سے لگا یا تھا ۔درخت بڑا ہوگیا تو ایک روز سلطان نے دیکھا کہ اس میں کیڑے لگ گئے ہیں ۔ اس نے باغوں کی رکھوالی کرنے والے کو بلا کر دکھایا تو اس نے کہا کہ اس میں دوا پاشی کرنے کی ضرورت ہے ہم دوا پاشی کرکے کیڑو ں کا خاتمہ کردیں گے ورنہ یہ درخت سوکھ کر ختم ہوجائے گا ۔ سلطان کو نہ جانے کیا سوجھی کہ اس نے سلطنت کے مذہبی پیشوا کے پاس یہ مسئلہ بھیج کر اس سے مشورہ طلب کیا تو جواب ملا کہ اگر تو نے دواپاشی کراکے کیڑوں کا خاتمہ کردیا تو یہ کیڑے روز محشر کو اللہ سے فریاد کریں گے کہ ان کی کیا خطا تھی کہ انہیں سلطان نے قتل کروایا ۔سلطان قائل ہوگئے تو انہوں نے دواپاشی کی اجازت نہیں دی ۔ان کی ملکہ نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے درخت کی دواپاشی کیوں نہیں کرائی۔ یہ تو سوکھ کر ختم ہوجائے گا ،جواب میں سلطان نے کہا کہ ایسا کرنے کی صورت میں روز محشر مجھ پر ان کے قتل کا الزام آئے گا اور میں جواب نہیں دے سکوں گا ۔ملکہ نے کہا کہ کیا روز محشر درخت یہ شکایت نہیں کرے گا کہ اسے کیوں کیڑو ں سے ختم کروایا گیا تو سلیمان خاموش ہوگیا ۔اگر مذہبی پیشوا واقعی عالم ہوتا تو وہ ایسی بات کبھی نہیں کہتا جو اس نے سلطان سے کہی ۔ یہی حال آج بھی ہے۔مذہب کے نام پر آج کیاکیا نہیں ہورہا ہے اور کیا کیا نہیں کروایا جارہا ہے ۔
بہرحال ہم پھر اپنے موضوع کی طرف پلٹ آتے ہیں ۔آج جو خلاء موجود ہے ،وہ ہمیں کورونا سے ہلاک کرکے ہی چھوڑے گا کیونکہ ہم جو بھی کررہے ہیں، وہ اس وبا کو عام کرنے کا ہی باعث ہورہا ہے ورنہ کورونا کو روکنا کو ئی بڑی بات نہیں ۔ہم فیصلہ کریں تو دو دن کے اندر ہی اس کو روک سکتے ہیں ۔ہمیں اس کے علاوہ کچھ نہیں کرنا ہے کہ ہم گھروںمیں رہیں ۔ مجبوری کی حالت میں باہر نکلنا پڑے تو ماسک پہن کر اور سماجی دوری کا یقینی بناکر ہی نکلیں ۔ بار بار ہاتھ دھوئیں اور صفائی کا بہت زیادہ خیال رکھیں ۔ یہ کوئی ایسے کام نہیں کہ جنہیں کرنا مشکل ہے اور یہ آسان کام کرکے ہم خود کو او ر اپنے سماج کو بچاسکتے ہیں ۔ہم اپنی آبادی کے اس حصے کو اپنی جمع پونجی کا کچھ حصہ دیکر ان کی پریشانیوں کو دور کرسکتے ہیں اور انہیں بھی گھروں میں اطمینان سے بٹھا سکتے ہیں ۔کورونا ویکسین اب زیادہ دور نہیں۔ہمارے دشمن برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں اسے تیار کررہے ہیں ۔ویکسین آئے گی تو ہم بے خوف ہوکر ان سے لڑسکیں گے ۔ہم جو کچھ بھی کررہے ہیں۔ خدا کی رضا کے لئے کررہے ہیں اور آج خدا کی رضا یہ ہے کہ ہم گھروں میں بیٹھیں ، ماسک کا استعمال کریں اور سماجی دوری بنائے رکھیں اور دعا کریں کہ اللہ ہمیں اس بلا سے نجات دے جو ہمارا وجود مٹانے پر آمادہ ہے ۔شاید اللہ کو ہم پر رحم آئے اور وہ ہمیں اس ڈر اور اس خوف سے باہر نکال دے جس نے ہمیں حواس باختہ کردیا ہے ۔