جموں// جموں و کشمیر پولیس نے توہین آمیز ریمارکس معاملے میں ایک اور شخص کو گرفتار کر لیا ہے جس کے ساتھ ہی گرفتار شدگان کی تعداد بڑھ کر چار ہوگئی ہے۔جموں کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شری دھر پٹیل نے بتایا کہ پولیس تھانہ پکا ڈنگا جموں میں درج ایف آئی آر نمبر 100 آف 2020 میں ملوث چوتھے شخص کو بھی گرفتار کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کی سرعت سے تحقیقات جاری ہے۔ پولیس کے انسپکٹر جنرل مکیش سنگھ کے مطابق معاملے میں جن تین افراد کو پہلے ہی گرفتار کیا گیا ہے ان میں توہین آمیز بیان دینے والے شخص ستپال شرما اور ان کے دو ساتھی دیپک اور روہت شرما شامل ہیں۔پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سینئر لیڈر ایڈوکیٹ فردوس احمد ٹاک نے توہین رسالت کے معاملے میں درج مقدمے کو قانونی اعتبار سے ناقص قرار دیا ہے۔فردوس ٹاک نے گزشتہ روز اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: 'توہین رسالت کے معاملے میں پولیس تھانہ پکا ڈنگا میں درج ایف آئی آر قانونی اعتبار سے ناقص ہے۔ تعزیرات ہند کی دفعہ 153 اے کے تحت مقدمہ صرف ضلع مجسٹریٹ کی شکایت پر درج کیا جاتا ہے۔ بصورت دیگر یہ مقدمہ منسوخ ہوجائے گا۔ مکیش سنگھ کی فوری کارروائی قابل سراہنا ہے لیکن یہ سنگھی کھیل کون کھیل رہا ہے؟'