سرینگر// صوبائی حکام کی جانب سے گوشت کی قیمت 480روپے مقرر کرنے کے فیصلے کے 2 روزبعد ہول سیلرس،سپلائر س ڈیلرس و قصابوں نے اس سرکاری نرخ نامے کو مسترد کرتے ہوئے ’’ فریقین اور متعلقہ محکموں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا جو بازاروں کا جائزہ لیکر قیمت مقرر کریں‘‘۔ ایوان صحافت کشمیر میں جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہول سیل مٹن ڈیلرس ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری معراج الدین گنائی نے کہا کہ ان کیلئے سرکاری نرخ نامہ نا قابل قبل ہے۔انہوں نے کہا کہ540سے لیکر550روپے تک گوشت وادی پہنچتا ہے،اور وہ کس طرح480روپے میں گوشت فروخت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ دانستہ طور پر آنکھیں بند کرہی ہے،ورنہ وہ بھی اصل حقائق سے آگاہ ہے۔ معراج الدین نے بتایا کہ5سال قبل جب گوشت کی قیمتیں مقرر کی گئی تھیں،اس کے بعد بازاروں میں قیمتوں میں کافی اضافہ ہوا ۔ گنائی نے کہا کہ 2016میں گوشت کی قیمت400روپے فی کلومقرر کی گئی تھی اور5سال بعد480روپے مقرر کی جا رہی ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرکار ماہرین کی ایک کمیٹی جس میں فریقین بھی شامل ہوں ،بیرون منڈیوں کا احاطہ کرنے کیلئے روانہ کرے اور اس کے بعد گوشت کی قیمت طے کریں۔ گنائی نے گزشتہ دنوں صوبائی کمشنر کے ساتھ میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میٹنگ میں محکمہ بھیڑ پالن کے ایک افسر نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ گوشت فی کلو 472روپے تیار ہوتی ہے،تاہم اُس کے بعد منڈیوں تک پہنچانے میں ٹرانسپورٹ اخراجات،ہول سیلروں کا منافع اور پھر دکانوں تک پہنچانے کے دوران ٹرانسپورٹ اور دکانداروں کے منافع کے بارے میں کوئی بھی بات نہیں کی گئی۔ ایک سوال کے جواب میں معراج الدین گنائی نے کہا کہ فی الوقت گوشت سے منسلک ڈیلروں،قصابوں،ہول سیلرس اور سپلائروں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ سرکاری فیصلے پر ہڑتال نہیں بلکہ احتجاج کرینگے،کیونکہ وادی میں شادیوں کا سیزن چل رہا ہے اور اس میں وہ لوگوں کو مشکلات میں نہیں ڈالنا چاہتے۔پریس کانفرنس میں ہول سیل مٹن ڈیلرس ایسو سی ایشن کے صدر منظور احمد قانون، چنار شیپ اینڈ گوٹس ویلفیئر ایسو سی ایشن کے فردوس احمد وانی، بوچرس ایسو سی ایشن کے صدر خضر محمد ریگو بھی موجود تھے ۔