’’جہان حمد ونعت‘‘ ایک ایسا بیش بہا اور قابل قدرعلمی وعقیدتی نمبر ہے جس میںاللہ تعالیٰ کی حمد وثنا اورمحمد مصطفیٰ ﷺ کے اوصاف حمیدہ کو مخلصانہ عقیدت کے ساتھ نعت کی صورت میںتر تیب دیا گیا ہے اس کی ترتیب وتہذیب سے ڈاکٹر جوہر قدوسی کی مدیرانہ صلاحیتوں کا انکشاف ہوتاہے ۔جموں کشمیر میں اس نوعیت کا یہ پہلا حمد ونعت نمبر ہے جس میں اہم مصنفین کے حمد ونعت کے بارے میںمضامین شامل کیے گئے ہیں جن میں بڑی وضاحت وصراحت اور دلائل وشواہد کے ساتھ حمد ونعت کا صحیح معنی ومفہوم اور مقام ومرتبہ بیان کیا گیا ہے ۔512صفحات پر مشتمل ’’جہان حمد ونعت‘‘کا مطالعہ میں نے نہایت عقیدت واحترام کے ساتھ کیا اور تقریباً ڈیڑھ مہینے میں میں نے اسے پڑھ ڈالا ۔حمد ونعت کا یہ ضخیم نمبر بڑی عرق ریزی اور عقیدت مندی سے تیار کیا گیا ہے ۔فہرست مضامین میں جہاں برصغیر کے نامور ناقدین ومحققین کے مضامین شامل کیے گئے ہیں تو وہیں بر صغیر سے باہر کے ملکوں کے ادبا وشعرا کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔اس طرح نثری ونظمی نگارشات کو جس حسن ترتیب سے الگ الگ عنوانات میں منقسم کیا گیا ہے وہ قاری کی دلچسپی اور معلومات میں اضافے کا باعث بنتے ہیں ۔مجلس مشاورت میں جناب پروفیسر مرغوب بانہالی( سری نگرکشمیر)علیم صبا نویدی (چینئی۔تامل ناڈو)فیروز احمد سیفی( نیویارک)ڈاکٹر سراج احمد قادری( خلیل آباد۔ اتر پردیش)رشید اختر خاں( دھنباد۔جھارکھنڈ)ابوالحسن خاور( نعت ورثہ/نعت کائنات،لاہور)مشتاق کاشمیری( سری نگرکشمیر)مشتاق فریدی( ڈوڈہ ۔جموں کشمیر)اور ڈاکٹر جوہر قدوسی( مدیر۔سری نگر ،کشمیر)شامل ہیں ۔ظاہر ہے ان تمام عالم وفاضل حضرات کے بہتر مشوروں سے ’’جہان حمد ونعت عالم وجود میں آیا ہے ۔علاوہ ازیں جن حمد ونعت شناسوں کے نام یہ نمبرمنسوب کیا گیا ہے اُن میں ڈاکٹر ریاض مجید ،سید صبیح الدّین رحمانی،ڈاکٹر اسمعٰیل آزاد فتح پوری،پروفیسر اقبال عظیم مرحوم،پروفیسر مرغوب بانہالی،مشتاق کاشمیری اور مشتاق فریدی شامل ہیں ۔حمد ونعت کے اس ضخیم نمبر میں پورے نثری وشعری مواد کو تفکرات ‘تدبرات ،تفہیمات ،تصّورات،تخیلات،تاثرات اورمتفرقات جیسے ابواب کے تحت سمیٹا گیا ہے۔ان مترادفات کے علاوہ قارئین کی آسانی کے لیے کچھ ضمنی ابواب بھی ترتیب دیے گئے ہیں مثلاً حمد ونعت:اکتشاف فکر،اقتضائے فن،حمد ونعت:عکس تحقیق ،نقش تنقید،حمد ونعت:انتقاد سخن ،احتساب اسلوب،حمد ونعت:اقوال زرّیں ،افکار روشن،حمد ونعت:حمد وثنائے ساقیٔ ازل،مدح وثنائے ساقیٔ کوثر ﷺ ۔
حرف آغاز میں مدیر جوہر قدوسی کا اداریہ شامل ہے جس میں انھوں نے اس جہان حمد ونعت کی اشاعت ،اہمیت وافادیت اور اغراض ومقاصد پر بھر پور روشنی ڈالی ہے ۔اپنے اداریے میں انھوں نے’ نعت رنگ‘ جیسے ادارے کا بھی خصوصی طور پر ذکر کیا ہے ۔اس کے بعد مظفر وارثی کا ہدیۂ حمد اور نعیم صدیقی کی ندائے نعت پڑھنے کو ملی۔حصۂ تفکرات میں حمد ونعت گوئی کے فن اور آداب واسلوب پر گیارہ مضامین شامل کیے گئے ہیں جن میں چارمضامین ڈاکٹر جوہر قدوسی کے ہیں ۔اس حصے کے مضامین بڑے معلوماتی اور مصنفین کے نام بڑے معروف ومعتبر ہیں ۔سمیہ اسلام کامضمون ’’حمد نگاری:اوّلین صنف شاعری‘‘ڈاکٹر حاجی ابوالکلام کا’’حمد ومناجات اور قرآن کا سلوب بیان ‘‘پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی کا ’’حمد کی دینی وادبی قدر وقیمت‘‘پروفیسر عاصی کرنالی کا ’’حمدیہ شاعری پر تنقید ‘‘مقصود احمد ضیائی کا ’’حمد ونعت کا تحلیلی مطالعہ‘‘ڈاکٹر جوہر قدوسی کا’’ حمد،نعت اور منقبت : ایک تقابلی جائزہ‘‘علی محمد عاجز کا ’’حمد نگاری ونعت گوئی: چند معروضات‘‘علیم صبا نویدی کا ’’نعتیہ شاعری کا تاریخی پس منظر ‘‘اورڈاکٹر جوہر قدوسی کے تین مضامین ’’نعت کے لغوی واصطلاحی معانی ومفاہیم پر ایک نظر ‘‘لفظ نعت کا اوّلین استعمال:ایک تاریخی جائزہ‘‘اور’’اردو نعت میں موضوعات کی بوقلمونی‘‘ایسے مضامین ہیں جو حمدیہ ونعتیہ شاعری کی فکری وفنی باریکیوں کو ہی سامنے نہیں لاتے بلکہ تحقیقی وتنقیدی شعور کے کئی باب بھی کھولتے ہیں ۔
حمد سے زیادہ نعت لکھنا مشکل ہے کیونکہ نعت میں معمولی سی لغزش یا غلو شاعر کو کہیں کا نہیں رکھتا یا اگر یوں کہا جائے کہ کلام میں آداب رسالت کی رعایت ملحوظ نہ رکھنااورجذباتیت سے مغلوب ہونا دونوں باتوں سے احتراز برتنا ایک اچھے شاعر کا بنیادی فرض ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ جیسا کہ اس بات کا ذکر ہوچکا ہے کہ حصہ ٔ تفکرات میں تمام مضامین معلوماتی اور قابل مطالعہ ہیں لیکن بطور حوالہ یہاں دو مضامین ایک علی محمد عاجز کا ’’حمد نگاری ونعت گوئی:چند معروضات‘‘اور دوسرا عصر حاضر کے جیّد عالم جناب علیم صبا نویدی کا مضمون ’’نعتیہ شاعری کا تاریخی پس منظر‘‘پر اظہار خیال تحریری صورت میں کرنا لازمی معلوم ہوتا ہے ۔علی محمد عاجز کشمیر کے رہنے والے ہیں ۔انھوں نے اپنے مضمون میں حمد نگاری ونعت گوئی پر چند اپنے معروضات پیش کیے ہیں ۔انھوں نے سب سے پہلے لفظ حمد کا معنی ومفہوم بڑی وضاحت کے ساتھ کیا ہے کہ جس سے خالق کائنات کی ربوبیت اور قدرت کے بارے میں بہتر معلومات حاصل ہوتی ہے ۔اپنے مضمون میں انھوں نے مختلف مقامات پر صحابہ کرام ؑ کے اقول بھی درج کیے ہیں ۔نعت گوئی کے حوالے سے انھوںنے جہاں بہت سے فارسی اور اردو شعرا کے نام گنوائے ہیں تو وہیں چند غیر مسلم شعرا کے اشعار کا حوالہ دے کر اس بات کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے کہ رحمت العالمین حضرت محمدﷺ کی محبت والفت غیر مسلموں کے دلوں میں بھی ہے۔علاوہ ازیں انھوں نے وادیٔ کشمیرمیں کشمیری زبان میں بھی نعت گوئی کی مستحکم روایت کاذکر کیا ہے ۔
’’نعتیہ شاعری کا تاریخی پس منظر‘‘علیم صبا نویدی کا مضمون ہے ۔یہ مضمون علی محمد عاجز کے مضمون سے زیادہ بصیرت افروز اور نہایت عرق ریزی سے لکھا گیا ہے ۔اس مضمون کا اختصاص یہ ہے کہ مضمون نگار نے بڑے عالمانہ اسلوب میں نعتیہ شاعری کا پس منظر بیان کیا ہے اور اس کے لیے انھیں صحابہ اور عرب کے شعرا کے متعدد اشعار کا حوالہ دینا پڑا ہے ۔اس مضمون میں جہاں انھوں نے شعرائے عرب کے اشعار کوعربی میں درج کیا ہے تو وہیں اردو والوں کے لیے انھوں نے ہر شعر کا اردو میں ترجمہ بھی لکھ دیا ہے ۔پورے مضمون میں تاریخی حقائق کی روشنی میں نعتیہ شاعری کے بارے میں مکمل واقفیت حاصل ہوتی ہے اور قاری علیم صبا نویدی کی شعری وعلمی استعداد کا قائل ہوجاتا ہے ۔مزیدبرآں اس مضمون کی ایک اہم خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں موصوف نے فارسی شعرا کے اشعار کے ساتھ ساتھ اپنے مضمون کے آخری حصے میں گرونانک جی اور کبیرداس جی بنارسی کے اشعار کا بھی حوالہ دیا ہے ۔علیم صبا نویدی کے اس بیان سے ہرایمان دالا اتفاق کرے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے لاڈلے اور پیارے محبوب حضرت محمدﷺ کی اپنے پاک کلام میں خود تعریف کی ہے ۔
’’جہان حمد ونعت‘‘کا دوسرا باب ،تدبرات،کے نام سے قائم کیا گیا ہے جس میں حمد ونعت:عکس ِ تحقیق ،نقش تنقیدکے تحت حمدیہ ونعتیہ شاعری پر تحقیقی وتنقیدی مضامین شامل کیے گئے ہیں ۔اس باب میں بھی ڈاکٹر جوہر قدوسی (مدیر)کے پانچ مضامین ہیں ۔ پہلا مضمون ڈاکٹر جوہر قدوسی کا’’اردو شاعری میں حمدیہ مضامین‘‘ڈاکٹر طفیل احمد مدنی کا ’’حمد ومناجات بیسویں صدی میں‘‘عبید اللہ کوٹی کا ’’کلام اقبال میں حمد ومناجات‘‘پروفیسر حامدی کاشمیری کا ’’صلاح الدّین پرویز کی نعتیہ نظم :رسول اللہ ﷺ‘‘ڈاکٹر اسمٰعیل آزاد فتح پوری کا’’نعت اور شاعرات نعت‘‘ڈاکٹر عزیز احسن کا ’’نقد نعت میں تنقیدی دبستانوں کی بوقلمونی‘‘ڈاکٹر شہزاد احمد کا ’’نعتیہ ادب میں پی۔ ایچ۔ ڈی مقالات کی اہمیت‘‘علامہ ناوک حمزہ پوری کا’’علیم صبا نویدی کی نورانی نعت گوئی‘‘علیم صبا نویدی کا’’نادم بلخی کی نعتیہ سانٹیں‘‘پروفیسر علیم اللہ حالی کا’’علیم صبا نویدی کی نعتیہ شاعری‘‘ڈاکٹر جوہر قدوسی کے مضامین ’’نعیم صدیقی کی نعتیہ شاعری‘‘علامہ عامر عثمانی کا نعتیہ کلام‘‘پروفیسر نادم بلخی کی نعت نگاری‘‘علیم صبا نویدی کا ’’دانش فرازی کی نعت گوئی‘‘ پروفیسرمناظر عاشق ہرگانوی کا ’’مشاہد رضوی کی نعت میں محسوساتی عمل‘‘علیم صبا نویدی کا ’’مناظر عاشق ہرگانوی کی نعت گوئی‘‘رشید اختر خاںکا ’’نعت کی ہمہ گیری اور ہند اسلامی تہذیب‘‘ڈاکٹر سراج احمد قادری کا’’نعت نبی ﷺ :نظریاتی افکار وخیالات کی نذر‘‘ڈاکٹر جوہر قدوسی کا’’کشمیر میں نعتیہ شاعری کی صورت حال‘‘اور مشتاق فریدی کا ’’وادیٔ چناب کے چند نعت گو شعرا‘‘ایسے مضامین ہیں جن میں حمد و نعت نگاری اور نعت گو شعر اکے بارے میں تحقیقی وتنقیدی افکار وخیالات اور احساسات کی بوقلمونی نظر آتی ہے ۔اس ضمن میں یہاں چند مضامین پر اظیار خیال اور اُن سے ماخوذ کچھ اقتباسات کو بطور حوالہ پیش کرنا لازمی سمجھتا ہوں تاکہ قارئین کی واقفیت میں اضافہ ہو اور مضمون نگار کا فکری ارتکاز اور اسلوبیاتی پہلو کھل کر سامنے آئے ۔اس سلسلے میں ڈاکٹر طفیل احمد مدنی کا مضمون ’’حمد ومناجات بیسویں صدی میں ‘‘عبیداللہ کوٹی کا مضمون ’’کلام اقبال ؔ میں حمد ومناجات‘‘ڈاکٹر عزیز احسن کا مضمون ’’نقد نعت میں تنقیدی دبستانوں کی بوقلمونی‘‘پروفیسر علیم اللہ حالی کا مضمون ’’علیم صبا نویدی کی نعتیہ شاعری‘‘ اورڈاکٹر جوہر قدوسی کا مضمون ’’پروفیسر نادم ؔبلخی کی نعت نگاری‘‘شامل تذکرہ ہے۔
ڈاکٹر طفیل احمد مدنی نے اپنے مضمون ’’حمد ومناجات بیسویں صدی میں‘‘کے تمہید ی حصے میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بارے میں مولانا رومی کے فارسی اشعار اوراُن کا ترجمہ درج کیا ہے ۔اُن کے علاوہ علامہ اقبالؔ،مولانامحمد ثانی مرحوم کی لکھی پوری ایک حمد او ر مناجات کے علاوہ مولانا محمد احمد پرتاپ گڑھی اور پاکستانی شاعر راز ؔ کاشمیری کی حمدیہ شاعری پر نہ صر ف اظہار خیال کیا ہے بلکہ کچھ نمونے بھی پیش کیے ہیں ۔اس مضمون میں ایک اہم معلوماتی بیان مولانا شبلی کے حوالے سے یہ رقم کیا گیا ہے کہ حضرت دواؤد علیہ السّلام کی زبور ازاوّل تاآخر مناجاتوں پر مشتمل تھی ۔
دوسرا مضمون عبیداللہ کوٹی کا ہے جس کا عنوان ہے ’’کلام اقبالؔ میں حمد ومناجات‘‘ظاہر ہے علامہ اقبال جیسی عبقری شخصیت کہ جن کی شاعری میں حیات وکائنات کے کئی سربستہ رازوں کا انکشاف موجود ہے ۔مضمون نگار نے شعوری طور پر کلام اقبال میں حمد ومناجات کے اُن اشعار کی نشاندہی کی ہے جن کا تعلق اللہ تعالی ٰ کی حکمت وقدرت اور محمدرسول اللہ ؐ کی ذات اقدس اور اُن کی نورانی وپاکیزہ زندگی سے ہے ۔اس سلسلے میں عبیداللہ کوٹی نے علامہ اقبال ؔکی اردو اور فارسی نظمیہ شاعری سے اشعار اخذ کیے ہیں ۔اس مضمون کے مطالعے سے یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ مضمون نگار کواقبال کی اردو اور فارسی شاعری کی خاصی جانکاری ہے ۔کہیں کہیں اقبال کی رباعیات سے بھی اشعار لیے گیے ہیں اور اُن کی صراحت ووضاحت میں کوئی کمی نظر نہیں آتی
’نقد نعت میں تنقیدی دبستانوں کی بوقلمونی‘‘ میںنعتیہ ادب کی تنقیداور منطقی استدلال واستدراک کے کئی پہلو سامنے آئے ہیں ۔اس مضمون میں ڈاکٹرعزیز احسن جن کا تعلق کراچی (پاکستان ) سے ہے پانچ کتابوں کو موضوع بنایا ہے جن میں انھوں نے اپنے تنقیدی نقطۂ نظر سے نقد نعت پر بھر پور روشنی ڈالی ہے اور اس بات کی وضاحت کی ہے کہ اکثر نعت گو شعرا کفر وشرک کی حدود میں داخل ہوجاتے ہیں ۔جن نعتیہ مجموعوں کو ڈاکٹر عزیز احسن نے اپنے مضمون میں زیر بحث لایا ہے اُن میں جمیل نظر کا’’مقدمۂ سحر وساحری‘‘امیر حسنین جلیسی کا’’بت خانہ شکستم‘‘امین راحت چغتائی کا’’ردعمل‘‘تحسین فراقی کا’’جستجو‘‘اورقمر عینی کا’’ولائے رسولؐ‘‘شامل ہیں ۔ڈاکٹر عزیز احسن نے اپنے مضمون کی ابتدا ئی سطور میں نعتیہ اد ب کے ناقدین کے بارے میں جو رائے قائم کی ہے وہ ہمارے ذہن کے کئی دریچوں کو کھولتی ہے ۔
ڈاکٹر عزیز احسن نے تحسین فراقی کے تنقیدی مضامین کے مجموعہ ’’جستجو‘‘کو بھی زیر بحث لایا ہے جس میں انھوں نے نعت کی ادبی ولسانی خوبیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے تحسین فراقی کے تنقیدی شعور کو قابل قدر گردانا ہے ۔اُنھوں نے تحسین فراقی کے ایک تنقیدی مضمون ’’علامہ اقبال اور ثنائے خواجہ‘‘سے ایک اقتباس بھی نقل کیا ہے ۔
پروفیسر علیم اللہ حالی کا مضمون ’’علیم صبا نویدی کی نعتیہ شاعری‘‘مختصر لیکن مدلل ہے جس میں انھوں نے علیم صبا نویدی جیسی ہمہ جہت ادبی شخصیت اور اُن کی فنکارانہ مہارت کے بارے میں کچھ بنیادی باتوں کا ذکر کرنے کے بعد بالخصوص اُن کی نعتیہ شاعری کو احاطۂ تحریر میں لایا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ علیم صبا نویدی ایک ذہین ،باذوق اور عصر حاضر کے ایک بہت بڑے شاعر وادیب کی حیثیت سے مشہور ومقبول ہیں جن کا شعر وادب اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ علیم صبا نویدی اپنی عملی زندگی میں بھی ایک نیک اور مرنجان مرنج شخصیت ہیں ۔انھوں نے جہاں ادب کی متعدد اصناف میں اپنی فکری وفنی جوہر دکھائے ہیں تو وہیں انھوں نے ہر مقام پہ اپنی انفرادیت کے نقوش چھوڑے ہیں ۔اُن کی غیر معمولی تخلیقی اپج اور غیر رسمی وغیر روایتی موضوعات سے دُور ی نے اُنھیں ایک منفرد مقام ومرتبے پر فائز کیا ہے ۔
ڈاکٹر جوہر قدوسی کا ایک مضمون ’’پروفیسر نادمؔ بلخی کی نعت نگاری‘‘کے عنوان سے جہان حمد ونعت،میں شامل ہے جس میں انھوں نے اختصار سے کام لیتے ہوئے پروفیسر نادم ؔ بلخی کی نعت نگاری پر ایک اچھا تجزیہ رقم کیا ہے ۔نادم بلخی کے ایک درجن سے زائد شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں لیکن زیر نظر مضمون میں ڈاکٹر جوہر قدوسی نے نادم بلخی کے جن مجموعوں کو زیر بحث لایا ہے اُن میں ’’ چودہ طبق‘‘( نعتیہ سانیٹ کا مجموعہ)’’جیون درشن‘‘اور ’’ضیائے عرفان ‘‘شامل ہیں ۔نادم بلخی کی نعتیہ شاعری کا انفرادیہ ہے کہ انھوں نے زیادہ تر ہندی الفاظ ومحاورات کا خاص طور پر استعمال کیا ہے اور رسول پاک محمد عربیؐ کی عقیدت ومحبت میں جذبات پہ قابو رکھتے ہوئے نعت نگاری کا معیار ووقار قائم کیا ہے ۔
حصہ ٔ تدبرات،میں ایک مضمون مشتاق فریدی کا ہے جس کا عنوان ہے ’’وادیٔ چناب کے چند نعت گو شعرا‘‘اس مضمون میں مضمون نگار نے تین چار اشعار کے علاوہ بقیہ تمام اشعار کشمیری میں درج کیے ہیں انھوں نے جتنے بھی شعرا کا ذکر کیا ہے وہ سب کشمیری میں نعت کہتے رہے ہیں ۔
حصۂ تفہیمات کا تعلق حمد ونعت کے انتقاد سخن اور احتساب اسلوب سے ہے ۔اس ذیلی عنوان کے تحت اُن نعت گو شعرا کے مجموعہ ہائے کلام کے حوالے سے تاثراتی اور انتقادی مضامین شامل ہیں جن کی نعتیہ شاعری نے ملکی سطح پر ایک امتیاز قائم کیا ہے ۔اس سلسلے میں ڈاکٹر مشاہد رضوی کا مضمون ’’ربنا لک الحمد‘‘مفتی اسحٰق قاسمی کا ’’علامہ انور شاہ کشمیری کا قصیدہ معراجیہ‘‘ابن عبداللہ کا ’’بحر تجلیات‘‘جوہر قدوسی کا ’’کشمیری نعتوں کا نمائندہ انتخاب ‘‘ڈاکٹر احسان اللہ طاہر کا ’’حافظ محمد الیاس کا نعتیہ دیوان‘‘ڈاکٹر محمد سہیل شفیق کا ’’نعتیہ شاعری کے فروغ میں ’’نعت رنگ‘‘ کی خدمات‘‘ڈاکٹر ریاض مجید کا ’’نعت رنگ‘‘کی تنقیدی خدمات‘‘ملک الظفر سہرامی کا ’’نعت رنگ ‘‘کا تجزیاتی وتنقیدی مطالعہ‘‘اطہر علی +ندیم صدیقی کا’’نعت رنگ‘‘کا 27واں اور28واں شمارہ‘‘ڈاکٹر منصور فریدی کا ’’ثنا کی نکہتیں :عشق رسولﷺ کا استعارہ‘‘محمد اویس رضوی کا ’’سلیم شہزاد کا مجموعہ:کشفیہ‘‘عقیل ملک کا ’’نقش:سرمایہ نعت میں گراں قدر اضافہ‘‘رفیع الزماں زبیری’’پاکستان میں اردو نعت کا ادبی سفر‘‘
ڈاکٹر جوہر قدوسی کا’’جناب صبیح رحمانی کی دو اہم کتابیں‘‘ابن عبداللہ کا ’’اردو نعت پاکستان میں‘‘ابن عبداللہ کا ’’نعت انسائیکلوپیڈیا( جلد اوّل)‘‘صبیح رحمانی کا ’’کلیات عزیز احسن : چند معروضات‘‘خاور اعجاز کا’’ نور نہایا رستہ،از:جلیل عالی‘‘اور فداراجوروی کا’’ڈاکٹر شمس کمال انجم کا نعتیہ مجموعہ:’’ بلغ العلٰی بکمالہ‘‘ مضمون شامل ہے۔
حصہ ٔ ’’تصورات‘‘میں نعت نگاری کے فن اور اس کے لوزمات ومقتضیات کے بارے میں مشاہیر کے اقوال وافکار اور آراء کو ترتیب دیا گیا ہے ۔یہ تمام تصورات قاری کی نعت جیسی مشکل صنف شعر کی تفہیم اور اس کے مقتضیات سے متعلق اضافے کا باعث بنتے ہیں ۔
حصہ ٔ تخیلات میں وہ منظوم حمدیہ و نعتیہ حصہ شامل ہے جسے ’’حمد وثنائے ساقیٔ ازل‘‘اور ’’مدح وثنائے ساقیٔ کوثرؐ ‘‘کا نام دیا گیا ہے ۔اس حصے میں جن شعرا ئے کرام نے حمدیہ منظومات پیش کی ہیں اُن میں علیم صبا نویدی،سلطان الحق شہیدی،مسعود ساموں ،ڈاکٹر ریاض مجید ،ڈاکٹر شبیب رضوی ،ذولفقار نقوی،ریاض حسین چودھری ،شرف الدین ساحل ،احمد سلمان اشرف،شاذ تمکنت،صبا اکبر آبادی،رفیق راز،رخسانہ جبیں ،مشاہد رضوی ،حکیم فاروق اعظم،صائمہ جبین مہک،بابر حسین بابر،تنویر پھول،ڈاکٹر محبوب راہی ،قاضی رؤف انجم،افتخار راغب،فداراجوری،ڈاکٹر ذولفقار علی دانش اور خان حسنین عاقب شامل ہیں ۔حصۂ نعت ومدحت میں جن شعرا کی حصہ داری رہی ہے اُن میں علیم صبا نویدی،سلطان الحق شہیدی،مسعود ساموں ،ذولفقار نقوی، ڈاکٹرشبیب رضوی ،سید رضا ،رخسانہ جبیں ،مظفر ایرج،ڈاکٹر نذیر آزاد،فداراجوروی،صائمہ جبیں مہک،مصطفٰی دلکش،ابوالحسن خاور،سید اولاد رسول،ڈاکٹر ذولفقارعلی دانش،عائشہ ناز،علی شیدا،میر امتیاز آفریں ،فردوس فاطمہ اشرفی،ازہرمدنی ،ابوالمیز اب محمد اویس آبؔ،پرویز اشرفی،فاضل میسوری،عروس فاروقی،مشتاق کاشمیری،مشتاق فریدی ،احمد جمیل ،سجاد بخاری،محتشم احتشام ،رفیع سرسوی،شمشاد شاد،عبدالغنی بیگ اطہر،مزمل ابن عبداللہ ،خان حسنین عاقب،بابر حسین بابر اور ریاض انزنوشامل ہیں ۔
’’جہان حمد ونعت‘‘کا ایک اور حصہ نہایت معلوماتی اور بصیرت افروز ہے جس کا نام ہے’ تاثرات‘اس حصے کو ایک ایسا عنوان دیا گیا ہے جس میں گہری معنویت پوشیدہ ہے عنوان ہے ’’نامہ ہائے شوق،رقعات ِ ذوق ،نقطہ ہائے نظر‘‘اسی عنوان کے تحت بہت سی کار آمد باتیں درج کی گئی ہیں ۔متفرقات آخری حصہ ہے جس میں ’’نعت گوئی اور نعت خوانی کے لیے شرعی اور شعری شعور ضروری ہے‘‘کے عنوان سے محمد مہدی کا انٹرویو ہے اس کے علاوہ ’’نعتوں کا ’’وکی پیڈیا‘‘: نعت کائنات‘‘سے متعلق ایک ا نٹرنیٹ سے ماخوذ سوال وجواب نامہ موجود ہے ۔آخر پہ کشمیری نعتیں درج کی گئی ہیں جو مقامی لوگوں کی زبان میں نعتوں کا گلدستہ کہا جاسکتا ہے ۔
حاصل مطالعہ ومشاہدہ یہ کہ ’’جہان حمد ونعت‘‘ ایک ایسا قابل قدر،تقدس احساس اور محبت الٰہی وعشق رسولؐ سے پُر یاد گاری نمبر ہے جس کو ترتیب دینے میں مشاورت کمیٹی کے تمام اراکین اور بالخصوص ڈاکٹر جوہر قدوسی نے بہت محنت وعقیدت سے کام کیا ہے ۔کہیں کہیں متن میں غلطیاں رہ گئی ہیں لیکن وہ غلطیاں کمپوزنگ کی ہیں ۔اتنے ضخیم اور معلوماتی نمبر کی جلد بندی مضبوط ہونی چاہیے تھی تاکہ یہ طویل مدت تک محفوظ رہتا ،مضبوط جلدبندی نہ ہونے کی صورت میں اس کا شیرازہ بکھرنے میں دیر نہیں لگے گی ۔مجھے یہ کہتے ہوئے مسرت محسوس ہورہی ہے کہ’’ جہان حمد ونعت ‘‘ایمان والوں کے لیے ایک بہترین سوغات ہے‘‘
رابطہ۔اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اردو،بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری
فون نمبر۔7889952532