یوروشلرم//سما عبدالہادی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس تمام درکار اجازت نامے موجود تھے۔انسانی حقوق کے کارکنوں اور تنظیموں نے فلسطینی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ سما عبدالہادی نامی ڈی جے کو رہا کر دیں۔انھیں اتوار کو غربِ اردن کے علاقے نبی موسیٰ میں ایک ایونٹ منعقد کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ یہاں پر ایک اسلامی مزار، ایک مسجد اور ایک ہاسٹل بھی قائم ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس وزارتِ سیاحت کی جانب سے فلم کی شوٹنگ کے لیے اجازت نامے موجود ہیں۔ شوٹنگ میں ٹیکنو پارٹی کے مناظر بھی ہونے تھے۔مگر مذہبی رجحان رکھنے والے چند فلسطینی مسلمانوں نے اس ایونٹ کو 'ہتک آمیز قرار دیا ہے۔چند لوگوں نے انٹرنیٹ پر لکھا کہ ان کے نزدیک یہ 'اشتعال انگیز ہے کہ کسی مذہبی مقام پر ٹیکنو میوزک بجایا جائے، بھلے ہی سما کے پاس درکار اجازت نامے موجود تھے۔مگر چند لوگوں نے مزید آزادی کا مطالبہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ فلسطینی معاشرے میں زیادہ تنوع پیدا ہو جائے۔سما عبدالہادی کی رہائی کے لیے مہم چلانے والے کارکنوں نے ایک آن لائن پیٹیشن بھی شروع کی ہے جس پر اب تک کئی ہزار لوگ دستخط کر چکے ہیں۔مگر نوجوان ڈی جے کے مخالفین نے نبی موسیٰ مسجد کے نزدیک عبادت کیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ ہاسٹل کا فرنیچر توڑ رہے ہیں۔