پلوامہ// ضلع پلوامہ میں اوجول اسکیم میںبڑے پیمانے پر گھوٹا لے کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعدضلع مجسٹریٹ پلوامہ ڈاکٹر راگو لنگر کی ہدایت پر3گیس ایجنسیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں ۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسکیم میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔دستیاب جانکاری کے مطابق اس اسکنڈل پر انتظامیہ کی نظراس وقت پڑ ی جب اپریل ، مئی جون2020 میںمرکزی سرکار نے لاک ڈائون کے دوران مزکورہ اسکیم کے تحت گیس کنکشن حاصل کرنے والے گاہکوںمیں 3گیس سلنڈرمفت فراہم کرنے کا اعلان کیا ۔انتظامی ذرائع نے بتایااس دوران پہلی سبسڈی کے طور851روپے گاہک کے اکانٹ میں جمع ہوئے ۔اس دوران متعدد افراد اس وقت حیران ہوئے جب ان کے اکاونٹ میں حیرت انگیز طور پر بنا کنکشن حاصل کئے سبسڈی کی رقم جمع ہوئی ۔ اس دوران کچھ لوگوں نے یہ رقم بنک کھاتوں میں جمع ہونے کے فوراً بعد بنک شاخوں اور ٹی ایس او سے رابطہ کیا جہاں وہ یہ سن کر ششد رہ گئے کہ ان کے نام پر کنکشن نکالے گئے ہیں ۔انتظامیہ کی جانب سے آج تک کی تحقیقات کو میڈیا کو جانکاری فراہم کی گئی ہے کہ واقعے کی تحقیقات کے دوران اسی طرح کی اطلاعات دوسرے علاقوں اور عوامی نمائندوں کی طرف سے آنا شروع ہوگئیں کہ ان کے بہت سے اوجول سکیم کے مستحقین اپنے اکاؤنٹس میں ایل پی جی سلنڈر سبسڈی وصول کر رہے ہیں لیکن ابھی تک انھیں مفت کنکشن نہیں ملا ، جس میں ایل پی جی سلنڈر اور گیس کا چولہا مفت دیا جاتا ہے۔عہدیداروں نے بتایا کہ متعلقہ ایل پی جی ایجنسیوں / ڈیلروں کی سفارشات اور کاغذات جمع کروانے کی بنیاد پر آئل مارکیٹنگ / گیس کمپنیوں (او ایم سی) کے ذریعہ اْوجول یوجنا کے تحت کنکشن مستحقین کو آن لائن منظور ہوجاتے ہیں۔اس کے لئے گیس کنکشن فارم ، بینک پاس بک اور آدھار کارڈ کی کاپیاں درکار ہوتی ہیں جو ایس ای سی سی سروے کی فہرست میں شامل اہل خاندانوں سے ان ایجنسیوں کے مقامی ایجنٹوں کے ذریعہ حاصل کئے جاتے ہیں۔انتظامی ذرائع نے بتایا کہ اکثرفائدہ اٹھانے والوں کو اپنے اکاؤنٹ میں فی ر فل 95۔200 روپے کا کریڈٹ ملنا شروع ہوتا ہے۔ زیادہ تر اوقات فائدہ اٹھانے والے اس رسید کی وجہ کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں ، کیوں کہ اس میں آسانی سے ایک’ اے بی پی ایس‘ کریڈٹ اندراج ہوتا ہے جس میں دوسری سماجی تحفظ،پنشن اسکیموں ، وزیر اعظم ، کسان ، اسکالرشپ اسکیموں ، ریاستی شادی سے متعلق امداد کے تحت سہ ماہی، ماہانہ رسید کی طرح ہوتا ہے۔ لہٰذا گھریلو گیس سلنڈر بلیک مارکیٹ میں جاتے ہیں اور عام طور پر ہوٹلوں، ریستورانوں، دکانوں، ڈھابوں، فیکٹریوں اوردیگر مقاصد وغیرہ کے استعمال میںلایاجاتا ہے ۔گھریلو اور کارباری اداروں میںاستعمال ہونے والے گیس سلنڈوں کی قیمتوں میںبہت زیادہ فرق ہے ۔معلوم ہوا ہے ابتدائی ویریفکیشن کے دوران ایسے سینکڑوں افراد پائے گئے ہیں جن کے کنکشن سال2017/18/19سے چالو حالت میں ہیں لیکن جن لوگوں کے نام پر وہ چلتے ہیں، انہیں اس بارے میں کوئی علمیت ہی نہیں ہے جبکہ صارفین کی ایک بڑی تعداد کا پتہ اور فون نمبرات بھی غلط پائے گئے ہیں ۔ا ضلع مجسٹریٹ پلوامہ نے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کے لئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر فوڈاینڈسپلائیز پلوامہ شیخ عنایت اللہ کے کاوشوں کی تعریف کی جس کے نتیجے میں اس گھوٹالے کا پتہ چل سکا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ ملوث افراد کے خلاف قانونی دفعات کے تحت کیس درج زیر نمبر120-Bدفعہ,406 417/420/463/464,403کے تحت درج کیا گیا ہے ۔