بیجنگ/ /یو این آئی// عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ماہرین کی ٹیم نے جمعرات کو چین کے ووہان میں کووڈ- 19 کی اصل کی تحقیقات کے لئے اپنے مشن کا آغاز کیا۔ٹیم کے ممبروں کے چین پہنچنے اور یہاں 14 دن تک کے قرنطین کی مدت پوری ہونے کے بعد ہوٹل چھوڑنے کی اجازت دی گئی۔ وائرسولوجسٹ مارین کوپومینس اور ماہر حیاتیات پیٹر ڈیسجک سمیت ڈبلیو ایچ او ٹیم کے ممبران نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر قرنطین کے دوران اپنی تصاویر شیئر کیں۔گذشتہ سال دسمبر میں چین کے ووہان میں کورونا وائرس (کووڈ ۔19) کا معاملہ سامنے آیا تھا اور اس وبا نے پوری دنیا کو اپنی زد میں لے لیا تھا۔عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ کورونا سے بچاؤ کیلئے دنیا کے بیشتر ممالک میں ویکسی نیشن کی مہم شروع ہوچکی ہے لیکن ابھی تک غریب ممالک ویکسین سے محروم ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے یہ بھی کہا ہے کہ موذی کورونا وائرس پر جلد قابو پالیں گے ۔ ہمیں آپس میں لڑنے کے بجائے جان لیوا وائرس کے خلاف جنگ لڑنا ہوگی۔ڈبلیو ایچ کا کہنا تھا کہ امیر ممالک اپنے عوام کو ویکسین کی فراہمی کے لئے کوشاں ہیں، غریب ممالک تاحال کورونا ویکسین کی پہلی خوراک کے منتظر ہیں۔واضح رہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 کروڑ 8 لاکھ 39 ہزار 430 سے زائد ہوگئی ۔