گاندربل//ضلع گاندربل کے علاقہ کرہامہ،سمبل بالااورآلسٹینگ رسیونگ اسٹیشنوں میں منظور شدہ مین ٹرانسفارمر نصب نہ کرنے کی وجہ سے درجنوں علاقوں میں بجلی کا بحران سنگین شکل اختیار کرچکا ہے جس کے نتیجے میں مقامی آبادی میں ناراضگی اور غصہ پایا جارہا ہے۔ضلع گاندربل میں موجودتین رسیونگ اسٹیشن کرہامہ،آلسٹینگ اور کنگن سے ملحقہ سمبل بالا میں مین ٹرانسفارمر، جو اکثر بیشتر اور لوڈ ہوجانے سے اِن رسیونگ اسٹیشنوں سے منسلک متعدد علاقوں کی بجلی سپلائی گھنٹوں منقطع ہوجاتی ہے۔کشمیر عظمیٰ کے پاس دستیاب محکمہ پاور ڈیولپمنٹ کے ایک حکمنامہ زیر نمبر CEO/KPDCL/19570_86بتاریخ 31/10/2020 کے تحت کرہامہ رسیونگ اسٹیشن کو 10 میگاواٹ صلاحیت کا بجلی ٹرانسفارمر منظور ہوگیا ہے جسے چار ماہ گزرنے والے باوجود بھی ابھی تک نصب نہیں کیا گیا جس کے سبب درجنوں علاقوں جن میں کرہامہ، بارسو،ززنہ،بادام پورہ، ینگورہ،چک ینگورہ،سمیت دیگر علاقوں کو گھنٹوں برقی رو منقطع ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد پر مشتمل آبادی گھنٹوں گھپ اندھیرے میں رہنے پر مجبور کردی گئی ہے۔ادھر ٓالسٹینگ اور سمبل بالا کے رسیونگ اسٹیشنوں میں بھی مین ٹرانسفارمر اوور لوڈ ہوجانے سے ان رسیونگ اسٹیشنوں سے منسلک متعدد علاقوں کی بجلی سپلائی گھنٹوں متاثر ہوجاتی ہے۔اعداد شمار کے مطابق آلسٹینگ رسیونگ اسٹیشن میں 6.3 میگاواٹ صلاحیت کا مین ٹرانسفارمر منظور ہوچکا ہے جبکہ کنگن سے ملحقہ علاقہ سمبل بالا کے رسیونگ اسٹیشن کو 10 میگاواٹ صلاحیت کامین ٹرانسفارمر منظور ہوچکا ہے لیکن محکمہ بجلی کی سست روی کی وجہ سے ان رسیونگ اسٹیشنوں میں یہ ٹرانسفارمرنصب نہیں کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے درجنوں علاقوں کی بجلی منقطع ہوجاتی ہے۔کرہامہ کے مقامی شہری الطاف احمد بٹ نے اس بارے میں کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ 24 گھنٹوں کے دوران 15 گھنٹوں بجلی سپلائی غائب ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں نفوس پر مشتمل آبادی میں محکمہ بجلی کے تئیں ناراضگی پائی جارہی ہے۔ اگرچہ رسیونگ اسٹیشن کیلئے گزشتہ سال اکتوبر میں 10 میگاواٹ کا ٹرانسفارمر منظور ہوچکا ہے لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پانچ ماہ گزرنے کے بعد بھی ٹرانسفارمر کو کیوں نصب نہیں کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر رسیونگ اسٹیشن میں منظور شدہ ٹرانسفارمر نصب کیا جائے۔