سوپور// شمالی کشمیر میں نوپورہ سوپور سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ طالب علم صہیب فردوس نے تاریخ رقم کر لی اور اپنے علاقے اور کشمیر کا نام روشن کر دیا۔صہیب نے اپنی محنت اور لگن سے ’’سیکیور نوعمر ماہرعلم طبعیات 2020‘‘ کا خطاب حاصل کیا۔صہیب، جو ڈگری کالج سوپور میں بی ایس سی فائنل سمسٹر کا طالب علم ہے، نے اپنی کم عمری میں ایک ایسا کارنامہ انجام دیا جو اب تک کوئی اور کشمیری انجام نہیں دے سکا ہے ۔صہیب فردوس اپنے سیب کے باغ میں دو پنکھ والے مختلف کیڑوں کا پیچھا کرنے میں کئی گھنٹے گزارا کرتے تھے۔ اس میں ان کی دلچسپی اس قدر تھی کہ وہ اکثر کھانا پینابھی بھول جاتے تھے لیکن اسے کہاں خبر تھی کہ یہ دو پنکھ والے کیڑے اس کیلئے ایک دن بہت بڑا انعام بنیں گے۔صہیب نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے بچپن سے ہی کیڑے مکوڑوں سے کھیلنا شروع کیا اور کھیلنے کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی کے بارے میں تحقیق کرنا شروع کی۔ ان کیڑے مکوڑوں کو گھر میں رکھ کر ایک ایسی حصولیابی حاصل کی جس کے لیے زندگی میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا انہیں حال ہی میں وائلڈ لائف پینٹنگ کے سلسلے میںسیکور نیچر فاؤنڈیشن کے بانی بٹو سیگل کے ہاتھوں ’’سیکور نوعمر ماہرعلم طبعیات‘‘ ایوارڈ سے نوازا ۔صہیب کے والد فردوس احمد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صہیب فی الحال وائلڈ لائف کنزرویشن فنڈ میں ڈیبٹ ڈائریکٹر ریسرچ ہیں۔ صہیب اب تک وائلڈ لائف کے میدان میں بہت سے ایوارڈ جیت چکے ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس کم عمری میں ہی انھیں 'جونیئر سائٹسٹ' کا خطاب بھی ملا ہے۔انہوں نے کہا کہ وائلڈ لائف کی زندگی کو آرٹ میں تبدیل کرنے کیلئے انہیں ایک پنسل اور برش لینے پر مجبور کیا ۔ انہوں نے اپنے فن کے لئے متعدد ضلعی اور ریاستی سطح کے ایوارڈ جیتے ہیں۔ وہ پیٹر اسکاٹ اور ڈیوڈ شیفرڈ کے کاموں سے متاثرہ وائلڈ لائف پینٹنگ سے پیار کرتا ہے ، اور بچوں کے لئے پنسل اور واٹر کلر کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ وہ بچوں کو شناخت ، مائکروسکوپی اور تحفظ کے بنیادی تصورات سے متعارف کرانے میں بھی تعلیم دینے سے لطف اندوز ہوتا ہے۔