کشمیر میں قائم سکولوں کے اندر ٹھیک اُنیس ماہ بعد درس و تدریس کا عمل شروع ہونے جارہا ہے ۔یہاں کے سکولوں کو پہلے اگست2019میں بند کیا گیا ،جس کے چار ماہ بعد سرمائی تعطیلات کا اعلان ہوا۔مارچ2020میں سرمائی تعطیلات کے بعد سکول کھلے لیکن محض بارہ روز بعد پوری دنیا کے ساتھ ساتھ ہمارے یہاں کے ننھے منھوں اور جواں سال طالبان علم کو کورونا وائرس سے پیدا وبائی صورتحال کے پیش نظر گھروں کے اندر ہی قید ہوکر رہنا پڑا۔اب حکام نے فیصلہ لیا ہے کہ وادی کے تعلیمی اداروں کے اندر یکم مارچ سے درس و تدریس کا کام شروع ہوگا ۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا اور کسی اور طبی یا سیاسی وائرس نے مداخلت نہیں کی تو ماہرین کے مطابق چھوٹے بچوں ،یہاں تک کہ ہائی، ہائیر سیکنڈری اور کالج سطح تک کے طالبان علم کو نئے معمولات کے ساتھ ہم آہنگ ہونے میں وقت لگے گا۔ماہرین کہتے ہیں کہ کلاس روموں کے اندر بچوں کیلئے نظم و نسق کے قدرے نرم ضوابط سے طالب علموں کی نفسیات پر مثبت اثرات پڑسکتے ہیں اور اس سے وہ اپنے اندر حصول تعلیم کے مزاج کوبھی بہت جلدپیداکرنے میں کامیابی حاصل کریں گے، بصورت دیگر سکولوں کا سخت ماحول پہلے ہی نفسیاتی طور مجروح طالب علموں کے زخموں کو ہرا کرے گا جس کے بے شک تعلیمی ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے اور بچوں کی نفسیات پر بھی۔
ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ بہتر اور مناسب تعلیمی ماحول پیدا کرنا اور اس میں طالبان علم کو بھی شامل کرنا، اساتذہ کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا۔ مدرسین کو بچوں کو اُن کے گھروں کے ماحول سے آہستہ آہستہ باہر لانا ہوگا کیونکہ ایک طویل عرصہ گھروں میں گذارنے کے نتیجے میں پہلے پہل بچے نفسیاتی طور پر سکولوں کے اندر یا تو پُرسکون محسوس نہیں کریں گے اوراُن کا رد عمل بھی معمول سے مختلف ہوسکتا ہے یہاں تک کہ وہ منفی انداز میں رد عمل کا بھی اظہار کرسکتے ہیں۔اس لئے ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ اساتذہ کیلئے آنے والے ایام پیچیدہ قسم کی آزمائش لیکر آرہے ہیں جن کے دوران اُنہیں اپنے طالب علموں کے ساتھ اساتذہ کے علاوہ ہمدرداور شفیق دوستوں کا بھی کردار ادا کرنا پڑے گا۔
بچوں کے اندرگذشتہ کم و بیش ڈیڑھ سال کے دوران کئی منفی عادتیں پیدا ہوئی ہیں جن میں دیر سے جاگنا اور آن لائن کلاسز شروع ہونے سے محض چند منٹ پہلے تیار ہونا اور اپنا فون یا لیپ ٹاپ ٹانگوں پر رکھ کر کبھی کبھی کھاتے پیتے ہوئے بھی آن لائن کلاسز میں شامل ہونا وغیرہ شامل ہیں۔ یہ ایسی عادتیں ہیں جن کو چھڑانا اب اساتذہ کی ذمہ داری ہے۔ خاص کر موبائیل فونوں سے بچوں کو نجات دلانا اساتذہ کا اولین کام ہونا چاہئے ، جن کے ساتھ وہ معلوم وجوہات کی بنا پر ابھی تک چمٹے ہوئے ہیں۔ماہرین بھی چھوٹے بچوں ،یہاں تک کہ بارہویں تک کے طالب علموں کیلئے بھی موبائیل فون کا حد سے زیادہ استعمال تباہ کن قرار دے رہے ہیں، لیکن گذشتہ کچھ عرصہ سے وہ اسی تباہی کے ساتھ ہی جیتے آرہے ہیں۔اساتذہ اور بے شک والدین کی مشترکہ کوششوں سے اس تباہی کو بچوں سے دور کیا جاسکتا ہے اور ایسا کرنا ازحد ضروری ہے۔
اساتذہ کو اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ بچے ایک خاص ماحول سے باہر آنے لگے ہیں۔ابھی تک وہ مخصوص وقت تک آن لائن کلاسز کے ساتھ گذارتے رہے ہیں لیکن اب اُنہیں اچانک صبح دس یا کہیں کہیں نو سے بعد دوپہر تین بجے تک فزیکل کلاسز کے ساتھ مصروف رہنا ہوگا اور اس اچانک اور بڑی تبدیلی سے اُن کی نفسیات متاثر ہوسکتی ہے۔سکولوں کے اندر ایسا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو بچوں کی وہاں رہنے کی دلچسپی بڑھائے تاکہ اُن کے اذہان سے کچھ وقت کے بعد ماضی قریب کے اثرات زائل ہوکر آہستہ آہستہ ختم ہوسکیں۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ اساتذہ اپنے اندر صبر اورشفقت کا جذبہ بڑھائیں۔ ہمارے یہاں مخلص اور بچوں کے تئیں جذبہ ہمدردی رکھنے والے مدرسین کی کمی نہیں ہے البتہ اساتذہ خود بھی ایک مخصوص ماحول سے نکل کر ایک بار پھر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ جڑ جانے والے ہیں اس لئے حکام کو چاہئے کہ اُن کیلئے بھی ماحول کو سازگار بنانے کے ٹھوس اقدامات کئے جائیں اور ہاں ،وہ اقدامات سکولوں کی سینی ٹائزیشن تک ہی محدود نہیں ہیں۔
پرائیویٹ سکولوں کے حکام کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ تجارت کے ساتھ ساتھ تعلیم کے کچھ اور بھی مقاصد ہیں۔ بے شک اُنہوں نے اس تجارت میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے لیکن ہر بار منافع کے بارے میں ہی سوچنا بھی اُن کیلئے مناسب نہیں ہے کیونکہ وہ جس تجارت سے وابستہ ہیں وہ ایک خاص قسم کی تجارت ہے ۔پرائیویٹ سکولوں کے منتظمین کو چاہئے کہ وہ سکولوں کے اندر تعلیمی سرگرمیاں شروع ہوتے ہی فیس کا تقاضا کرنے سے گریز کریں۔والدین تو کسی نہ کسی طرح پرائیوٹ سکولوں کی بھاری بلیں ادا کرتے رہتے ہیں لیکن ابتدائی ایام میں ہی گاڑیوں کی فیس ،سالانہ چارجز،وردیوں کی حصولیابی،ٹیوشن فیس جیسے ناموں پر وصولی کرنے کا عمل بچوں کے ساتھ ساتھ اوسط درجے کے والدین کو بھی پریشانیوں میں مبتلاء کرسکتا ہے۔ حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ کو وبائی صورتحال کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑی ہے لیکن اس کے باوصف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ جس منصب پر اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں اُس کے کچھ خاص تقاضے ہیں جن کا پورا کرنا ضروری نہیں تو مجبوری ضرور ہے۔
رہی بات سرکاری سکولوں کی تو وہاں طالبان علم کی زیادہ تعداد زیر تعلیم نہیں ہے مگر جتنے بھی ہیں مدرسین کو اُن کا معمول سے زیادہ خیال رکھنا پڑے گا۔ سرکاری ہائی سکولوں اور ہائیر سیکنڈریوں کے منتظمین اور اساتذہ کوکافی اہم کام انجام دینا ہے کیونکہ اُن کا ایک مخصوص اور حساس عمر کے طالب علموں سے واسطہ ہے۔یہی وہ عمر ہوتی ہے جب بچہ یا بچی رد عمل کا اظہار کرتا یا کرتی ہے اور یہ وہ عمر ہوتی ہے جہاں طالب علموں کی آنے والی زندگی کا تعین ہوتا ہے اور اس کی بنیادیں پڑتی ہیں۔بعض سرکاری مدرسین پر کام چوری کے الزامات اپنی جگہ، لیکن یہ بات مسلمہ ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ تجربہ کار بھی ہوتے ہیں اور اُن سے اُسی تجربہ کو بروئے کار لاتے ہوئے قوم کے مستقبل کی بہترتعمیر کی اُمیدیں وابستہ ہیں۔
اساتذہ کا پیشہ اس اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے کہ وہ ان کی دیکھ بھال میں رکھے ہوئے طلبا کو تعلیم فراہم کرتے ہیں ۔ ایک بہتر اور کامیاب اپستادوہی ہوتا ہے جو اپنے کلاس روم میں ایک ساتھ کئی کردارکرتا ہے۔وہ اپنے کلاس روم کو بہتر طریقہ سے ترتیب دیتا ہے ، علم و تعلیم کیلئے ایک پْرجوش ماحول تیار کرتا ہے ، اپنے طلباء کی رہنمائی اور پرورش کرتے ہوئے ان کا رول ماڈل بنتا ہے۔ایک مثالی استاد کیلئے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف اُن طلبا کی حوصلہ افزائی کرے جو خود ہی علم وتعلیم سے دلچسپی رکھتے ہوں بلکہ اُن کی بھی جنہیں سیکھنے اور سکھانے کی زیادہ ضرورت ہو۔
کہا جاتا ہے کہ معیاری زندگی کے لئے معیاری تعلیم شرط لازم ہے۔ یہ شرط فرد کے لیے بھی لازمی ہے اور سماج کے لئے بھی۔ تعلیم کا معیار تو نصا ب تعلیم سے متعین ہو تا ہے البتہ طلبا کی ہمہ جہت شخصیت سازی میں بہت ہی ذمہ دارانہ کردارایک اچھے معلم اور استاد کا ہو تا ہے۔ استاد کا کام محض طلباء کو چند حقائق سے آگاہ کردینا اور بعض معلومات منتقل کردینا نہیں ہے۔ استاد کا فرض طلبا کی شخصیت کی تعمیر، ان کی رنگارنگ صلاحیتوں کو پروان چڑھانا،ان کے اندر دانش و حکمت پیدا کرنا اورا نہیں سماج کا ایک متحرک اور مفید رکن بناناہے۔ اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لئے ضروری ہے کہ معلم طالبان علم اور سماجی تقاضوں کے درمیان ایک فکری اور نظریاتی پْل قائم کرے تاکہ بدلتی ہوئی دنیا میں طلباء ان صلاحیتوں سے لیس رہیں جو ایک جدوجہد سے بھرپور زندگی کی ضامن ہوں۔
اب جبکہ ایک طویل عرصہ بعد ہمارے اساتذہ ایک بار پھر قومی مستقبل کے خاکوں میں رنگ بھرنے کا کام شروع کرنے جارہے ہیں،اُنہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ تبدیلی اس دور کی سب بڑی حقیقت ہے۔اس دور کی تبدیلیوں نے تعلیم اور نظام تعلیم پربھی بھرپور اثر ڈالا ہے۔موجودہ دورتغیر اور تبدیلی کے لحاظ سے تیز رفتار واقع ہورہا ہے۔آج انفرادی تشخص اور اجتماعی روش کے مابین توازن قائم کرنے کی ضرورت پہلے سے بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔کسی صاحب فکر نے موجودہ صورتحال کی منظر کشی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علم میں فروغ کی رفتار اتنی شدید ہے کہ حصول علم کے طریقوں میں بنیادی تبدیلیوں کے بغیر علم،متعلم اور معلم کے درمیان ربط قائم رکھنا مشکل کام بن چکاہے۔آج کے زمانے میں علم حاصل کرنے سے کہیں زیادہ تدریس کے طریقوں پر عبور حاصل کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ علم اور عمل کے درمیان ہر خلیج کو پْر کرنا استاد کے بنیادی فرائض میں شامل ہو گیا ہے۔بدلتی دنیا میں قومی ورثہ اور اقدار کی حفاظت نئی تعلیمی ضرورت بن گئی ہے اس لئے ہمارے استاتذہ کو بدلتے ہوئے تقاضوں کا پورا پورا احساس کرتے ہوئے جدت طرازی کوبھی اپنے لائحہ عمل میں شامل کرنا ہے۔
اللہ کرے کہ ہمارے اُساتذہ اورطالب علموں کیلئے سب کچھ بہتر ہو!