سرینگر // دو سال قبل حکام نے جموں وکشمیر کو( اوپن ڈیفیکیشن فری) قرار دیا لیکن محکمہ کی اس سکیم میں ہی نقص رہا کیونکہ ناقص منصوبہ بندی کے تحت سکیم کے ذریعے اس مہنگائی کے دور میں 12ہزار روپے میں ایسے بیت الخلاء تعمیر کئے گئے جن میں سے وادی میں اب 40فیصد کا کہیں نام ونشان نہیں ہے اور 20فیصد بیت الخلاء ایسے ہیں جن میں پانی کا کوئی بندوبست ہی نہیں رکھا گیا جبکہ 10فیصد علاقوں میں ان کی تعمیر ہی مکمل نہیں ہو سکی ہے ۔ ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جموں وکشمیر حکام نے ان کی تعمیر کے دوران جلد بازی سے کام لیا اور ٹارگٹ مکمل کرنے کے دوران اس طرف کوئی بھی دھیان نہیں دیا گیا کہ آنے والے وقت میں ان کا کیا ہو گا ۔ذرائع کے مطابق کھلے میں حاجت بشری رفع کرنے کی روکتھام اور ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کی غرض سے 2014میں شروع کیا گیاسوچھ بھارت مشن محکمہ کی غلط منصوبہ بندی کے سبب عوام کیلئے اب دردسر بن گیا ہے ۔2 اکتوبر 2014 کو’ سوچھ بھارت مشن ‘ملک کے طول و عرض میںشروع کیا گیا۔ اس مہم کا مقصد 2اکتوبر 2019 تک ایک صاف ستھرا ماحول قائم کرناتھا۔جموں وکشمیر سرکار نے اس سکیم کے تحت 12اضلاع کے 4,171گرام پنچایتوں اور 7,565 گائوں کواو ڈی ایف قرار دیاتھا۔ ستمبر 2018میں سرکار نے یہ دعویٰ کیا کہ سوچھ بھارت مشن (گرامین) کے تحت 11لاکھ انفرادی بیت الخلاء اور 1350کمیونٹی بیت الخلا تعمیر کئے گئے ۔تاہم ان بیت الخلائوں کی حالت بیان سے باہر ہے ۔کئی جگہوں پر پانی کا کنکشن نہ ہونے کے نتیجے میں یہ عوام کیلئے ناقابل استعمال بن گئے، توکہیں انہیں مقفل کر کے اکھاڑ پھینکا گیا اور اب ان کا کہیں نام ونشان بھی باقی نہیں ہے۔ لوگ اب بھی حاجت بشری کیلئے کھلے کھیتوں اور نالوں کے قریبی علاقے استعمال کرتے ہیں جس سے ماحولیات پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔سوچھ بھارت سکیم کے تحت سینکڑوں مقامات پر تعمیر کئے گئے بیت الخلاء بغیر پانی کے تھے، جن کی تصویریں لیکر 12ہزار روپے نکالے گئے اور پھر ان کو اکھاڑ پھینکا گیا ۔ایس بی ایم کے تحت ہر گائوں میں بیت الخلاء بنانے کیلئے 12ہزار روپے فراہم کئے گئے جو ناکافی تھے اور یہی وجہ رہی کہ یہ سکیم ریاست میں ناکام بن کر رہ گئی ہے۔ جموں کشمیر حکام نے سکیم کے مکمل ہونے کے دوران یہ وعدہ کیا تھا کہ اب ایک تنکا گندگی کا کہیں نظر نہیں آئے گا لیکن شہر ہو یا گائوں دیہات ہر جگہ گندگی کے ڈھیر دکھائی دیتے ہیں ۔ ذرائع نے بتایا کہ مئی 2017میں محکمہ نے اس سکیم کے تحت 73کروڑ روپے واگزار کئے تھے۔ اننت ناگ، کولگام اورکپوارہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیاہے کہ ضلع اننت ناگ میں اس سکیم کے تحت 1 لاکھ 60ہزار گھروں کی نشاندھی کی گئی تھی جہاں 88ہزار289بیت الخلاء تعمیر کرنے کا نشانہ مقرر کیا گیا تھا تاہم نشانہ برابر نہ ہو سکا۔کپواڑہ ضلع میں 80ہزار گھروں کی نشاندہی کی گئی ۔ اگرچہ وہاں پر کچھ ایک گھروں میں بیت الخلا ء تعمیر ہوئے مگر کئی جگہوں پر اْن کا کہیں نام نشان ہی نہیں ہے۔اسی طرح کولگام ضلع میں 9ہزار212گھروں میںبیت الخلاء تعمیر کرنے کا نشانہ مقرر کیا گیا تھا تاہم یہاں بھی ٹارگٹ پورا نہ ہوسکا۔ذرائع نے بتایا کہ ریاستی سرکار کی جانب سے 2012میں کرائی گئی بنیادی سروے کے مطابق جموں وکشمیر میں کل 14,92,780 کنبوں میں سے 2,62,298 ایسے تھے جن کے پاس بیت الخلا ء تھے جبکہ 12,30,482گھروں میں بیت الخلاء کا کوئی بھی بندبست نہیں تھا۔ان میں 6,41,104کنبے بی پی ایل جبکہ 3,74,010اے پی ایل زمروں کے تحت آتے تھے۔اسی طرح 215382گھرانے ایسے تھے جو غیر زمرہ بندی کے تحت آتے تھے ، جو بغیر بیت الخلاء تھے۔