سرینگر//کووِڈ- 19کی نئی اقسام کے سامنے آنے کے بعد کورونامخالف ویکسین یاٹیکہ میں مناسب تبدیلیاں لائی جانی چاہیے تاکہ یہ ٹیکہ کووِڈ- 19کی نئی اقسام کا مقابلہ کرسکے۔ان باتوں کااظہار ڈاکٹرس ایسوسی ایشن آف کشمیرکے صدرڈاکٹر نثارالحسن نے ایک بیان میں کیا ہے۔انہوں نے کہا ،’’ہمیں کووِڈ19 – کی نئی اقسام کا مقابلہ کرنے کیلئے موجودہ کووِڈ ویکسین میں تبدیلیاں لانی ہوں گی۔انہوں نے کہاکہ فی الوقت کوروناوائرس کے تین اقسام جنوبی افریقی قسم،برازیل کی قسم اور برطانیہ کی قسم انسانی آبادی میں موجود ہے جواصل وائر س سے زیادہ تیزی کے ساتھ پھیل رہے ہیں ۔ان میں سے کچھ اصل وائرس کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار کئے گئے ویکسین سے بچ کر نکلتے ہیں ۔ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدرنے کہا کہ جوہانسبرگ جنوبی افریقہ کی یونیورسٹی میں کئے گئے تحقیق کے مطابق اکسفورڈویکسین کے اثرات کو جنوبی افریقہ میں پائے جانے والے کورونا وائرس کی قسم نے نمایاں طور کم کیاتھا۔ بدلنے والے اقسام سے تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی پر اصل وائرس کیلئے تیار کئے گئے ویکسین کے فوائدمحدود ہوں گے۔انہوں نے کہا ،’’کووِڈ 19- سے بچائو کیلئے لازمی ہے کہ ویکسین میں متعددبدلنے والے نئے کوروناوائرس کی اقسام موجود ہوں۔انہوں نے مزیدکہا کہ یہ حکمت عملی انفلنزاء کیخلاف عام طور سے اپنائی جارہی ہے اور حالیہ برسوں میں تمام ویکسینوں میں تین سے چار اقسام کے بدلنے والے وائرس موجود ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ویکسین جس میں ایک ہی قسم کے وائرس موجود ہو،سے کم یابالکل ہی تحفظ فراہم نہیں ہوگااُن بدلنے والے وائرس کے اقسام سے جو اس وقت متحرک آبادی میں پائے جاتے ہیں ۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ صرف وہی ویکسین جن میں متعدد اقسام کے وائر س سے لڑنے کا دفاع موجود ہو،سے کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کو ختم کیاجاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ویکسین تیار کرنے والوں کو اپنے موجودہ ویکسین کو اَپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ کووِڈ- 19 کی جینیاتی تبدیلیوں کامقابلہ کرسکے۔انہوں نے کہا کہ کچھ ویکسین تیار کرنے والوں نے اپنے ویکسین کو نئی ہیت دینے کاآغازکیا ہے تاکہ وہ کوروناوائرس کی نئی اقسام جو آبادی میں پائے جاتے ہیں ،کو بہتر طور نشانہ بنا سکے۔