سرینگر//پرنسپل اکاوٹنٹ جنرل جموں کشمیر نے سرکاری محکموں سے سبکدوش ہونے والے سرکاری ملازمین کے پنشن کیسوں کو3سال قبل ہی پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔انہوں نے پینشن کیسوں کو متعلقہ قواعد و ضوابط پر عمل کئے بغیر جمع کرانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ خاص طور پر تعمیراتی محکمہ جات،جل شکتی ، محکمہ تعمیرات عامہ ، بجلی ،آبپاشی و فلڈ کنٹرول ، یو ای ای ڈی اور دیگر دفاتر کے معاملات میں مجموعی بے ضابطگیاں پائی جاتی ہیں۔ اکاوٹنٹ جنرل کا کہنا ہے کہ یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ’’ ڈرائنگ اینڈ ڈسٹربسنگ آفیسرز‘‘ پنشن منظوری اتھارٹی ایس آر او 59 محررہ6فروری1990 کو بھی ایس آر او کی واپسی کی تاریخ سے آگے یعنی 15.01.1996 کی اجازت دے رہی ہے اور متعدد نگہداشت نگاری کے اختتام پر خدمت کے ، قواعد و ضوابط پر عمل کئے بغیرتعین کرنے سے خزانہ عامرہ پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ملازمین کی تنخواہوں کے تعین اور انضباط کے معاملے میں بے ضابطگیوں کی شدت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ اپریل2010سے مارچ220 کے عرصے میں111کروڑ4لاکھ روپے کی رقم بازیاب کی گئی۔ پرنسپل اکاوٹنٹ جنرل نے محکمہ پی ایچ ای،تعمیرات عامہ،آبپاشی و فلڈ کنٹرول،یو ای ای ڈی اور بجلی محکموں کے انتظامی سیکریٹریوں س کو ہدایت کی ہے کہ وہ پنشن کے معاملات کو دفتر بھیجنے سے قبل ایس آر او 59 سے فائدہ اٹھانے سے متعلق ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایس آر او 59 کا فائدہ ، جن ملازمین کو دیا گیا ہے ، اصول کے مطابق ،انہیںمل گیا ہے اور اس طرح کے فائدہ کی فراہمی کے لئے تمام شرائط کی تعمیل’’ ڈی ڈی او ‘‘کے ذریعہ ، پنشن کے ساتھ فراہم کی جائے ۔انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تنخواہوں میں بے ضابطگیوں کی صورت میں ، متعلقہ ڈی ڈی او کوذاتی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اوران سے معاوضہ وصول کیا جائے گا۔اس دوران فائانشل کمشنر فائنانس ڈاکٹر ران کمار مہیتہ نے ایک سرکیولر جاری کرتے ہوئے تمام انتظامی سیکریٹریوںسے درخواست کی کہ وہ ماتحت دفاتر’’ ڈی ڈی اوز‘‘ کو ہدایت دیں کہ3 سال یا اس سے زیادہ سروس رکھنے والے ملازمین کی تفصیلات اکاؤنٹنٹ جنرل کے دفتر میں جمع کیا کریں ۔