سرینگر// پیپلز کانفرنس کے سینئر نائب صدر عبدالغنی وکیل نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے کہ موجودہ سرکار نے میوہ صنعت کو بالکل ہر لحاظ سے نظر انداز کیا ہے ۔نوپورہ سوپور میں پارٹی کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وکیل نے کہاکہ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ مرکزی سرکار کی طرف سے بجٹ میں فروٹ صنعت کا کہیں نام ونشان نظر نہیں آرہا ہے ،فروٹ صنعت پچھلے دو برسووں سے کئی وجوہات سے خسارے کا سامنا کررہی ہے لیکن پھر بھی سرکار نے فروٹ صنعت کے فروغ کو مکمل طور نظر انداز کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ میوہ صنعت لاکھوں لوگوں کو روز گار فراہم کررہی ہے اور جموں وکشمیر میں اقتصادیات کے حوالے سے ریڈ کی ہڈی کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ امید تھی کہ مرکزی سرکار فروٹ صنعت کو فروغ کے لئے حالیہ بجٹ میں خصوصی اقتصادی پیکیج کو منظوری دے گی لیکن ایسا نہیں ہوا جس سے صاف عیاں ہے کہ مرکزی سرکار فروٹ صنعت کو نظر انداز کرکے ہزاروں لوگوں کو روز گار سے محروم کر رہی ہے۔ وکیل نے مرکزی سرکار اور جموںوکشمیر کی سرکار پر زور دیا ہے کہ وہ میوہ اُگانے والوں کی اقتصادی بد حالی کو مد نظر رکھ کر فروٹ صنعت کو بڑھاوادینے کے لئے ایک سپیشل پیکیج کا اعلان کریں اور ساتھ ہی کے۔سی لون معاف کرنے کے بھی احکامات صادر کریں جو فروٹ گرورس کی ایک دیرینہ مانگ ہے۔کنونشن سے اور لوگوں کے علاوہ رفیع آباد کے کانسچونسی کے سربراہ طارق احمد میر سینئر لیڈر ایڈوکیٹ معراج الدین ،حاجی غلام قادر ،عبدالرشید ڈار اور وومن ونگ کی صدر ایڈوکیٹ رقیہ جان نے بھی تقاریر کیں۔