مجھے خوشیوں کا وہ سماں اچھی طرح یاد ہے جو بچوں کے مفت اور لازمی تعلیم کے حق سے متعلق قانون یعنی آر ٹی ای ایکٹ 2009 کے پاس ہونے کے وقت تھا۔ ایک طویل جدوجہد کے بعد یہ قانون بنا تھا۔ ہمیں انتہائی مسرت ہوئی تھی جب 6 سے 14 سال کی عمر کے تمام بچوں کے حق تعلیم کو بنیادی حق قرار دیا گیا تھا۔ تبھی سے سی آر وائی کے بینر تلے ہم لوگ اس بات کو یقینی بنانے میں لگے ہوئے ہیں کہ آر ٹی ای ایکٹ میں بچوں کو جو حقوق دیئے گئے ہیں وہ انھیں پوری طرح سے حاصل ہوں۔ اس میں کامیابی ملنے کے بعد بڑی اُمید تھی کہ آر ٹی ای ایکٹ میں توسیع کی جائے گی اور پری اسکول کے ساتھ ساتھ سکنڈری سطح کی مفت اور معیاری تعلیم بھی بچوں کا قانونی حق بن جائے گا۔
بالآخرقومی تعلیمی پالیسی 3 سے 18 سال کی عمر کے بچوں کی تعلیم کے تئیں آفاقی رسائی کے وعدے کے ساتھ سامنے آئی، جس میں پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جی) 2030 کے ذریعہ بین الاقوامی عزائم کو سامنے رکھا گیا ہے۔ ایک طویل مدت سے ماہرتعلیم، سول سوسائٹی اور عام لوگ شدت سے تعلیم کے میدان میں اس طرح کا مطالبہ کرتے آ رہے تھے۔ جہاں تک اسکولی تعلیم کی بات ہے تو اس سلسلے میں قومی تعلیمی پالیسی کے دستاویز میں 2+10 کے موجودہ اسکولی تعلیمی نظام کی جگہ 4+3+3+5 کے نظام پر فوکس کیا گیا ہے۔ اسی طرح ٹیکنالوجی کے استعمال اور تعلیم سے متعلق انتظامی و جائزہ طریقہ ئے کار کے سلسلے میں نئی پیشکش پر زور دیا گیا ہے۔تاہم این ای پی میں کئی ایسے پہلو ہیں جن کی باریک نگہداشت ضروری ہے تاکہ طویل مدت میں اندیشوں اور تشاویش کا ازالہ کیا جا سکے۔
ایک سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ حق تعلیم قانون کے تحت بچوں کو کھیل کو د کی جو ضمانت دی گئی ہے، جس کا حق آئین کے تحت بھی انھیں حاصل ہے، اس کا قومی تعلیمی پالیسی میں کوئی خاص ذکر نہیں ہے۔ 3 سے 18 سال کے بچوں کو تعلیم کے تئیں ایک آفاقی رسائی کا وعدہ تو کیا گیا ہے لیکن تعلیم کے موجودہ تناظر میں اس بات کے واضح اشارے بھی موجود ہیں کہ طلبہ کو ہی نصابی کتابوں، اسکول یونیفارم اور ڈجیٹل اشیاء کی خریداری کا خرچ برداشت کرنا پڑے گا، جو اپنے آپ میں حق تعلیم قانون کے تحت مذکور مفت اور آفاقی تعلیم کے وعدے کے منافی ہے۔ دور دراز کے علاقوں میں اور حاشیہ بردار طبقات کے بچوں میں کام کا ہمارا تجربہ بتاتا ہے کہ 3 سے 18 سال کی عمر کے تمام بچوں کی خاطر حق تعلیم قانون کا دائرہ بڑھائے بغیر معیاری اور شمولیت والی تعلیم تک آفاقی رسائی کو یقینی بنانا تقریبا ناممکن ہے۔
ابتدائی تعلیم تک صد فیصد بنیادی خواندگی اور اعداد کی تعلیم کو یقینی بنانے کے ساتھ ابتدائی بچپن کی نگہداشت اور تعلیم (ای سی سی ای) پر خاص زور کا دیا جانا، ایک دور رس پالیسی کے تئیں خوش آئند قدم ہے، جس میں تعلیمی تسلسل کے اندر قبل از پرائمری سطح پر سکھانے کے عمل کو شامل کیا گیا ہے۔ اس پالیسی میں بنیاد کو مضبوط کرنے والی آفاقی خواندگی اور اعداد کے علم کے حصول پر خاص زور دیا گیا ہے، جو سال 2025 تک قبل از پرائمری کی سطح سے گریڈ 2 تک پر محیط ہے۔ یہ بات کہی جاتی رہی ہے کہ اعلی گریڈ میں سیکھنے والے بچوں پر توجہ دی جانی چاہئے، تاکہ وہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔ بلاتفریق عمر تمام بچوں کے حقوق کا خیال کیا گیا ہے۔
بچیوں کی تعلیم تک رسائی کے مسائل کو حل کرنے کے لئے، کستوربہ گاندھی بالیکا ودیالیہ کو بارہویں گریڈ تک وسعت دینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ یہ بھی ایک خوش آئند قدم ہے۔ ممکن ہے ہم مزید لڑکیوں کو اسکولی تعلیم مکمل کرتے ہوئے دیکھ سکیں۔ پالیسی میں لڑکیوں یا ایسے بچوں، جن میں دیگر صنفی علامتیں پائی جا رہی ہوں، ان کے لئے صنفی شمولت والا ایک فنڈ بھی بنانے کا فیصلہ ہوا ہے تاکہ تعلیم تک ان کی رسائی ہوسکے۔ بہر کیف یہ فنڈ جب استعمال کے لئے ریاستوں کو فراہم کرایا جائے گا تو مرکزی حکومت ترجیحات کو طے کرے گی۔ اس تناظر میں فنڈ کے استعمال اور مرکز و ریاستوں کے درمیان کوآرڈینیشن کی وضاحت بھی ضروری ہے جس سے برابری اور شمولیت کی بنیاد پر عمل درآمد ہو سکے۔
پالیسی میں ایک نئی بات یہ ہے کہ سماجی و اقتصادی طور سے محروم طبقات (ایس ای ڈی جیز) سے تعلق رکھنے والے بچوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس میں صنفی، سماجی و ثقافتی، جغرافیائی علامتوں، معذوریوں اور سماجی و اقتصادی حالات کی بنیاد پر محروم بچوں کی لمبی چوڑی فہرست دی گئی۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایس ای ڈی جی زمرے کے بچوں کی تعلیم پر توجہ دینے کے لئے خصوصی تعلیمی زون (ایس ای زیڈ) بنائے جائیں گے۔ تاہم یہ سمجھ لینا زیادہ اہم ہے کہ ملک بھر میں سرکاری یا کم اخراجات والے پرائیویٹ اسکولوں میں جانے والے زیادہ تر بچے ایس ای ڈی جی کے زمرے میں فٹ ہو سکتے ہیں۔ تاہم ایس ای ڈی جی زمرے کے تحت آنے والے بچوں پر مشتمل جغرافیائی علاقوں کی شناخت ایک چیلنج بھرا کام ہوگا۔ یہاں مجھے صاف طور سے یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ اس طرح کے گروپوں کی شناخت کرنے میں سول سوسائٹی اور حکومت کے مابین شراکت داری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ لہذا ایس سی/ ایس ٹی/ اقلیتی طبقات کی طرح خاص پاکیٹس کی شناخت تو ممکن ہے لیکن پوری طرح سے خصوصی تعلیمی زون کی نشاندہی زیادہ چیلنج بھرا کام ہو سکتا ہے، بالخصوص اس وقت جب بات سماجی اقتصادی حالات، جغرافیائی شناخت اور اس طرح کی دیگر چیزوں کی ہو۔ مزید برآں پالیسی میں اس بات پر خاموشی اختیار کی گئی ہے کہ موجودہ تعلیمی طور سے پسماندہ بلاکوں کا کیا ہوگا؟یہ کام کے اعتبار سے زیادہ مناسب اضلاع وغیرہ کے ساتھ کس طرح فٹ بیٹھیں گے؟ منصوبوں کے نفاذ کی سمت میں کوئی پیش رفت کرنے سے پہلے اس سلسلے میں مزید جانچ پڑتال کی ضرورت ہوگی۔
پالیسی میں دسویں اور بارہویں جماعتوں کے بورڈ امتحانات کا بوجھ کم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ لیکن تیسری، پانچویں اور آٹھویں درجات میں امتحانات یا اسیسمنٹ کو متعارف کرانے کی بات پر کسی کو بھی تعجب ہو سکتا ہے کہ کیا اس سے چھوٹے بچوں کے اندر تناؤ پیدا نہیں ہوگا؟ اگرچہ پالیسی کے اندر اسیسمنٹ یا جائزوں کے نئے طریقے متعارف کرانے کی تجویز ہے اور ہمہ گیر ڈیولپمنٹ کے لئے پرکھ (PARAKH) کے نام سے کارکردگی کے جائزے، نظر ثانی اور معلومات کے تجزیہ کے لئے ایک قومی اسیسمنٹ سینٹر قائم کرنے کی بات کی گئی ہے تاکہ طلبہ کو لرننگ اسیسمنٹ کے طریقوں کی جانکاری دی جا سکے، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ 'نو ڈیٹنشن پالیسی' کا کیا ہوگا، جس کے بارے میں این ای پی 2019 کے ڈرافٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ جاری رہے گی، جس کی حمایت حق تعلیم قانون میں کی گئی ہے۔
کووڈ-19 کے دوران ڈجیٹل لرننگ کو کافی فروغ حاصل ہوا ہے، قومی تعلیمی پالیسی میں بھی ٹیکنالوجی کے استعمال پر کافی زور دیا گیا ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا مہم کے ذریعہ موجودہ ڈجیٹل تقسیم کو ختم کرکے اور عالمی معیار کا ڈجیٹل انفراسٹرکچر تیار کرکے تعلیمی، ڈیجیٹل مواد اور صلاحیت والی ایک اکائی بنا کر ایسا کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ تاہم یہ حجم اور کام کے لحاظ سے ایک بڑا کام ہے اور ملک بھر میں تمام اسکولوں میں حکومت کے ذریعہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو تیار کرنے اور اسے ترقی دینے میں کتنا وقت لگے گا اس سلسلے میں کچھ کہح پانا مشکل امر ہے، کیوں کہ اس پالیسی پر عملدرآمد کے بہت سے پہلو اسی پر محمول ہیں۔
مالی سرمایہ کاری سے متعلق کوٹھاری کمیشن رپورٹ (1966) میں پیش کیا گیا۔جس میں پرانا وعدہ دوبارہ بحال کردیا گیا ہے جہاں مرکز اور ریاستیں مل کر تعلیم کے شعبے میں عوامی سرمایہ کاری کو بڑھاوا دینے کے لئے مل کر کام کریں گی تاکہ یہ جلد جی ڈی پی کے 6 فیصد تک پہنچ جائے۔اگرچہ پالیسی کے اندر اس ہدف تک پہنچنے کی مدت اور مرکز و ریاستوں کے درمیان بجٹ کی ذمہ داریوں کے اشتراک کا ذکر نہیں ہے۔ دستیاب بجٹ کو بروئے کار لانے اور پالیسی میں موزوں تبدیلیوں کے ذریعہ اس کو استعمال کرنے میں بڑھتی ہوئی کارکردگی کے معاملے کو تسلیم کیا گیا ہے۔ تاہم اس کو حقیقت میں بدلنے کے لئے احتساب کا ایک فریم ورک تیار کیا جانا ضروری ہے۔
پالیسی میں عملدرآمد کے سات اصولوں کو بیان کیا گیا ہے جو قابل تحسین اور کافی سوچ سمجھ کر بنائے گئے ہیں۔ ان میں پالیسی کی غرض و غایت اور روح کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے، اقدامات پر عملدرآمد کے مراحل طے کئے گئے ہیں، پالیسی کے نکات کو ترجیح کے لحاظ سے عمدہ طریقے سے ترتیب دیا گیا ہے، اس ہمہ گیر پالیسی کو آپس میں مربوط اور جامع بنایا گیا ہے، مرکز اور ریاستوں کے درمیان آپسی اشتراک سے عملدرآمد کی بات کی گئی ہے کیوں کہ تعلیم ایک متوازی موضوع ہے، ضروری وسائل کی وقت پر فراہمی اور تمام اقدامات کے مؤثر ملاپ کی بات بھی کی گئی ہے۔ ان سب کے باوجود آنے والے وقت میں نفاذ کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کو کمتر نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔
بہرکیف، پالیسی کو مکمل طور سے زمین پر دیکھنے کے لئے ایک دہائی یعنی 40-2030 تک صبر کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ اس پورے تعلیمی نظام سے ہوکر گزرنے والی ہمارے بچوں کی پوری نسل ان تمام تبدیلیوں کے دوران کیسی ہو گی یا کیا کرے گی یہ ایک سوال ہے جس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو وقت اس کا فیصلہ کرے گا کیوں کہ این ای پی 2020 کے حقیقی اثرات کا پتہ اس کے زمینی سطح پر نفاذ کے بعد ہی چلے گا۔ فی الحال ہمیں تعلیم جاری رکھنے میں اپنے بچوں کی مدد کرنے کے لئے ایک ذمہ دار سماج اور افراد کی شکل میں ساتھ آنا چاہئے اور 18 سال کی عمر تک تعلیم کو آفاقی بنانے کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لئے کام کرنا چاہئے۔
سی ای او۔ چائلڈ رائٹس اینڈ یو (سی آر وائی)