بچے جنت کے پھول ہیں اور پھول پیارے ہونے کے ساتھ ساتھ نازک بھی ہوتے ہیں۔نازکی کا تقاضا ہے کہ پھولوں کی حفاظت کی جائے کیونکہ ان بے زبان پھولوں کے دشمن زیادہ ہوتے ہیں۔اسی لیے احتیاط ضروری ہے۔بچے شرارتی ہوتے ہیں اور اکثر ان کی شرارت والدین کے ساتھ ساتھ ان کو خود پر بھاری پڑنے کے علاوہ کسی بڑے نقصان کا بھی باعث بن جاتی ہے۔بچوں کی شرارتوں پر قدغن ممکن نہیں لیکن جگہ اور طریقہ بدلا جاسکتا ہے۔بچوں کو کھیلنے بھی دیں اور کھلنے بھی۔انہیں ڈانٹ ڈپٹ اور مارپیٹ کے عادی نہ بنائیں۔
یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ آج کل کے اس علمی اور انٹرنیٹ کے دور میں بچوں کی سلامتی والدین کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔بچے گھر میں ہوں یا آس پڑوس میں دونوں ہی صورتوں میں بچوں کی فکر ایک لازمی عمل ہے۔آج کے دور میں لوگ اپنی معمولات زندگی اور خود غرضی میں اتنے مصروف رہتے ہیں کہ دوسروں کی فکر و ذکر محال ہوجاتی ہے۔اسی مصروفیت کا ناجائز فائدہ بڑے بڑے سماج دشمن اٹھاتے ہیں اور محیر العقول جرائم انجام دیتے ہیں۔لہذا یہ ضروری ہے کہ والدین اپنے بچوں کو مناسب اصول و قواعد سکھائیں تاکہ وہ خود بھی ہوشیاری اور چالاکی سے کام لے کر اپنی سلامتی ممکن بنا سکیں۔ بچوں کی سلامتی کے لئے ضروری ہے کہ بچوں کو روزمرہ کے پیش آنے والے واقعات کی نہ صرف جانکاری ہو بلکہ ہتھکنڈوں کا بھی علم ہو۔ تاکہ بچوں کو خود سمجھ میں آیے کہ ان کے سامنے کس کس طرح کے خطرات ہیں۔انہیں ہوشیار اور باخبر رہنے کی تلقین کریں۔اپنے آس پڑوس میں دھیان دینے کی تاکید کریں۔ کسی اجنبی پر بھروسہ نہ کرنے کی صلح دیں اور کسی کے ساتھ بغیر ماں باپ کی اجازت کے نہ جانے کی ہنر سکھائیں چاہیے وہ اپنے رشتے دار ہی کیوں نہ ہوں۔چھان بین کے بغیر نہ کسی کی چیز قبول کریں اور نہ ہی کسی پر اعتبار۔کسی کی گاڑی میں بغیر پوچھ تاچھ کے سوار نہ ہوں۔اگر کبھی کبھار کوئی ترکیب یا صلح بدلنی پڑے تو والدین کو ضرور اطلاع دیں۔
والدین بچوں کو سمجھائیں کہ ایسے اشخاص سے نرمی یا تمیز سے پیش آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جو ان کو ڈرانے یا کسی قسم کا دکھ پہنچانے کے تاک میں ہوں۔اس صورتحال میں بچوں کو "نا "کہنے کی ترغیب دیں پھر چاہیے سامنے والاچھوٹا ہو یا بڑا ،اپنا ہو یا پرایا۔
والدین کو بچوں کے ساتھ بلاجھجک بات کرنی چاہیے تاکہ وہ کوئی بات چھپا نہ پائیں یعنی ان کے حوصلوں کو نکھاریں تاکہ وہ چھوٹی سے چھوٹی بات بھی کھل کر کہہ سکیں۔ بچوں کو کسی بھی صورتحال سے نپٹنے کے لیے تیار رکھنا چاہیے تاکہ وہ خود غوروفکر کر کے نتائج اخذ کرسکیں ۔کسی میلے یا بھیڑ میں کھونے کی صورت میں بچوں کو ایسی حکمت عملی سکھائیں تاکہ وہ خود والدین یا کسی بھروسے مند رشتے دار کو مطلع کرسکیں۔ایسی صورتحال میں بچوں کو ایک ہی جگہ رکنے کی ترغیب دیں اور کسی ایسے شخص جو بزرگ یا بچوں والا ہوسے مدد لینے کی طب سکھائیں۔
بچوں میں اچھے گن پیدا کریں تاکہ وہ کسی ایسے کام میں ملوث نہ ہوں جو ان کے لئے مضر یا تکلیف دہ ثابت ہوں۔ یا جو ان کو مجرم بنا کر قید خانے میں پہنچائے۔ بچوں کو گھر میں دو یا تین افراد کے ساتھ دوستی جمانے کی اجازت دیں تاکہ وہ ہر اچھی یا بری بات ان کو بتا سکیں ۔
بچوں کو نشیلی ادویات جیسے شراب یا ڈرگز کے مضر اثرات سے واقف کرایں اور نہ صرف ان کی لت سے بچنے کی ترغیب دیں بلکہ ایسے اشخاص سے بھی دور رہنے کی ہدایت کریں جو نشے میں چور ہوں یا شراب کے عادی۔پھر چاہیے وہ اپنے ہوں یا پرائے۔نشے کی حالت میں وہ بچوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔لہٰذا ایسی صورتحال میں کسی اپنے کی حفاظت میں رہنے کی صلح دیں۔ سگریٹ نوشی کے ساتھ ساتھ سگریٹ نوشوں سے بھی دور رہیں۔بچوں کو سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سے واقف کرائیں۔ کسی بھی استحصالی صورتحال میں بچوں کو دو ٹوک ’نا ‘کہنے کی حوصلہ افزائی کریں۔
بچوں میں بردباری کو فروغ دیں تاکہ وہ زاتی یا گھریلو معلومات کسی کو نہ بتائیں پھر چاہیے وہ فون پر ہو یا زبانی۔معلومات شیئر کرنے کے نقصانات ذہن نشین کریں۔کسی ایسے شخص جس کے ساتھ وہ فیس بک یا ٹوئٹر پر جڑے ہوں، سے نہ ملنے کی تاکید کریں اور سمجھائیں کہ وہ کس طرح خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔موبائل پر کوئی فایل ،ای میل،فوٹو یا میسیج قبول نہ کریں کیونکہ ان میں خطرناک وائیرس بھی ہوسکتا ہے۔کوئی بھی آن لائن کھیل جس کا ہدایت کار کوئی اجنبی ہو نہ کھیلیں۔
بچوں کو اس بات سے آگاہ کرائیں کہ نہ کسی کو جسم کے مخصوص اعضاء دیکھنے یا چھونے دیں اور نہ ہی کسی کے مخصوص اعضاء دیکھیں یا چھوئیں۔اگر کوئی ایسی حرکت کرنے کی کوشش کرے تو فوراً والدین کو مطلع کریں۔ بچوں کی دنیا سب سے زیادہ خوبصورت ہوتی ہے لیکن اس خوبصورت دنیا میں اب بھیڑیے گھس چکے ہیںجو بچوں کی خاموشی اور ڈر کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ان کا استحصال کرتے ہیں۔ لہٰذا اساتذہ کے ساتھ ساتھ والدین کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ بچوں کو ایسی تربیت دیں تاکہ وہ خود اپنی حفاظت کرسکیں۔اس کے علاوہ اپنے آس پاس کے ماحول پر بھی باز کی نظر رکھنی چاہیے تاکہ جرائم پیشہ عناصر کیخلاف بھر وقت کاروائی کی جائے گی۔ اگر بچے کسی شخص کے بارے میں شکایت کریں تو ان پر یقین کریں۔کیا پتہ وہ شخص بھیڑ کے روپ میں بھیڑیا ہولیکن والدین کی نظروں میں فرشتہ ہو۔ سب سے اہم بات بچوں کے معاملے میں کسی پر بھروسہ نہ کریں بلکہ خود ہی خیال رکھیں اور کانٹوں کو ان کے راستے سے دور رکھیںکیونکہ بچے من کے سچے اور عقل کے کچے ہوتے ہیں،اسی لئے آسانی سے بہکاوے میں آجاتے ہیں۔
بچوں کو جنسی استحصال سے محفوظ رکھنے کے لئے موثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔کیونکہ جنسی استحصال کرنے والے زیادہ تر اپنے ہوتے ہیں۔اس ضمن میں بچوں کی جسمانی اور جزباتی صحت کی طرف توجہ ازحد ضروری ہے۔بیٹیوں کا خیال تو ہم رکھتے ہیں لیکن سروے سے پتہ چلا ہے کہ اس شیطانی عمل کے شکار زیادہ تر لڑکے ہوتے ہیں۔اسلئے بچوں کو اپنوں سے بھی بچا کے رکھیں اور غیروں سے بھی۔خیال رکھیں کہ کہیں دیر نہ ہوجائے۔بچوں کی پرائیویسی پر دھیان دیں۔بچوں کو کپڑے بدلتے وقت نہ کسی کو دیکھنے دیں اور نہ ہی بچوں کو کسی کو کپڑے بدلتے وقت دیکھنے کی ترغیب دیں۔بچوں کی اجازت نہ ہو تو بوسہ بھی نہ لیں۔اخلاق اور خدشات دونوں پر دھیان دیں۔
رابطہ۔قصبہ کھل ،کولگام کشمیر
فو ن نمبر9906598163