اللہ رب العالمین نے انسان کو اشرف مخلوقات بنا کر غیر معمولی صفات و خصوصیات کا حامل بنایا ہے۔ کامیاب انسان وہ ہے جو اللہ کی عطاکردہ نعمتوں کا بروقت صحیح استعمال کرے ۔ یہ فنا ہونے والی دنیا تو مسلمان کے لئے قید خانہ ہے۔ یہاں کی چند روزہ ہماری یہ زندگی ایک پنجرے کی مانند ہے۔ جس طرح ہم چند دانوں کی خاطر کسی جانور کو قید کرنے کی سعی و کوشش کرتے ہیںچہ جائیکہ ی چڑیا، مینا، طوطا یا کبوتر ہو۔ اسی طرح ہم بھی چند دانوں کی خاطر دنیا کے لہو و لعب میں اس طرح سے پھنس جاتے ہیں کہ نکلنا محال ہو جاتا ہے۔ بڑی گہری نظر سے اس منظر کشی کو دیکھا جائے تو ہمیں اس میں اپنی دنیاوی زندگی کا عکس ضرور ملتا ہے ۔ آئے روز ہم اپنی زندگی کی خاطر جستجو اسی طرح چند دانوں کی کرتے ہیں لیکن دنیا کی زیب و زینت میں اس طرح محو ہو جاتے ہیں کہ واپس آنے کا دل نہیں کرتا۔ نفس کی حوس ذرا بھی واپس پھیرنے نہیں دیتی ۔
اب عقل مند و دانا انسان وہی ہے جو دنیا جیسی ایک بچھی ہوئی جال سے بس اتنے دانے حاصل کرنے کی کوشش کریں جس سے نفس کی بھرپائی ہو سکے لیکن اس کے مزے میں گم نہیں ہونے پائے اور جلدی سے واپس اپنے منزل و مقصود کی طرف لوٹ پڑے، جس طرح کہ ہمارے اسلاف نے عملی کر کے دکھایا۔ وادی کشمیر جیسی 'پیر واریٔ' میں یہ فلسفہ جابجادیکھنے کو ملتا ہے۔ہمارے بزرگان دین نے ایمان پر استقامت کے ساتھ اس ملعون دنیا کو کبھی رحمت کی نگاہوں سے نہیں دیکھا، نہ ہی یہاں کی رنگ رلیوں کی طرف راغب ہوئے بلکہ اپنے مقصد خاص کی خاطر اپنی اس دنیا کی یہ چند روزہ زندگی اس طرح رواں دواں رکھی کہ دنیا ہی ان کے قدموں کے نیچے آ پڑی۔ اس کے برعکس ہمارا حال یہ ہے کہ دنیا نے ہی ہمیں اپنے نیچے دبا کر رکھ دیا ہے۔اب نہ ہمیں اپنی زندگی کی فکر رہی نہ اپنا مقصد یاد رہا ۔ جب راہ گزر اپنی منزل بھول جائے تو اس کا راستے سے بھٹکنا کوئی حیران کن بات نہیں ہے۔ آج کے دور میں باریک بینی سے دیکھا جائے تو ہمارا حال اس سے مختلف نہیں۔ہم اپنی راہ سے بھٹک گئے ہیں اور منزل مقصود کو بھی بھول چکے ہیں ۔
اے اشرف المخلوقات ! خدارا چند دانوں کی خاطر اس نادان پرندے کی طرح اپنی آخرت کی آزادانہ، خوشحال اور پرسکون زندگی کے بدلے ملعون دنیا کی اس قید خانہ والی زندگی کو بہتر نہ جان۔ ہاں اگر تو اس دنیا کو بہتر سمجھنے لگا تو اس پرندے کی طرح ہمیشہ کیلئے اپنی زندگی تباہ وبرباد کر بیٹھو گے جس نے چند دانوں کے لئے اپنی زندگی داؤ پر لگا دی۔ اس پرندے کی طرح ہمارے پاس بھی پچھتائے کے سوا کچھ بھی نہیں رہے گا ۔
یہ وہی دنیا ہے جس کی اللہ رب العالمین کے سامنے کوئی وقعت نہیں۔ جس پر کبھی رحمت الٰہی کی نگاہ نہیں پڑی ۔یہ ہمارے نبی آخرالزمان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے ملعون ہے۔اس کی قیمت ایک مرے ہوئے بکرے سے بھی کم تر ہے۔ یہ ہمارے لئے صرف چند روزہ کھیتی کے طور پہ ہے۔ اس کا ابدی زندگی کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں۔ یہاں جاہ جاہ شیطان کے رنگیلے میلے سجائے ہوئے ہے۔ہر گلی و موڑ پہ شیطان کے وسوسے اور چرچے موجود ہیں۔یہاں بادشاہ کو سکون میسر نہیں اور غریب کو بھوک مٹانے کے لئے ایک وقت کی روٹی نہیں۔یہاں قتل و غارت اور خون بہانا کھیل تماشا بن گیا ہے۔ یہاں جسم فروشی ایک کاروبار گنواتے ہیں۔ یہاں سودی کاروبار کے بنا حج بیت اللہ بھی ممکن نہیں۔ یہاں بڑوں سے محبت اور چھوٹوں پہ شفقت نہیں۔ یہاں جھوٹ، دھوکہ دہی، جعلسازی جیسے برے اوصاف سے کمائی کرنا فن سمجھتے ہیں۔ یہاں رشوت و بدعنوانی کو ہنر سے تعبیر کرتے ہیں۔ عالم دین کی بے عزتی کرنا مشغلہ بن چکا ہے جب کہ سادہ لباس میں ملبوس حوس کے پجاری کو واہ واہ اور آفرین سے مرد و زن اندھی تقلید میں مشغول عمل ہے۔ یتیم ، بیوہ ، محتاج و مسکین کو طنز کرتے ہیں جب کہ بے دین کو دینی امورات کا ذمہ دار بنانا فخر سمجھتے ہیں۔ حاجت مندوں کی حاجت روائی کرنا بے سود گنتے ہیں اور سود پہ لاکھوں روپیہ کی کمائی سے حویلی کے در پہ " ھذامن فضل ربی " لکھ کر بے فکر سوتے ہیں۔
اے دنیا کے کھیل تماشے میں ہوئے گم انسان ! قبل اس کے کہ ہم سب اس دنیا کی نہ رہنے والی لذتوں میں پھنس کر قید خانے کی زندگی بسر کرنے لگیں، اپنی اصلی آزادانہ ، دائمی و لازوال پرسکون اور خوشحال زندگی کو سنوارنے کی فکر کر۔ جہاں اللہ رب العالمین کی عدالت میں ہمارا محاسبہ ہوگا، جزا اور سزا کا اپنی حقیقی آنکھوں سے مشاہدہ ہوگا۔منکرین حق کو پچھتاوے اور رسوائی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
تو سوچو کیاہیبت طاری ہوگی ؟ یہ کیسا منظر ہوگا ؟ اس وقت ہمارا کیا بنے گا ؟ کس کس کو الگ تھلگ کیا جائے گا ؟ کون ہمارا یار و مددگار ہوگا ؟ کون مجرم اور کون مخلص کی صف میں کھڑا ہوگا ؟ – یہ فیصلہ جب صادر ہوگا تو کئی لوگ خوشی سے جھوم اٹھیں گے اور کئی لوگ چیخ و پکار سے، غم و پریشانی میں اور مصیبت کا پہاڑ ٹوٹ پڑنے پر اپنے جسم کو کھا جائیں گے۔ ایک لکیر کھینچی جائے گی جو لوگوں کو دو گروہوں میں الگ الگ تقسیم کر دے گی۔
وہ لوگ جو مومنین ، مخلصین، محسنین، صدیقین اور عابدین ہیں، جنہوں نے اس حق کو اپنے قلب میں پتھر کی لکیر کی طرح بٹھا رکھا اور اپنے ایمان و یقین پر کل کا سورج طلوع ہونے کی طرح مطمئن تھے، اللہ ان سب سے راضی ہوگا اور وہ اللہ کے عطا کردہ جزا سے راضی ہوںگے۔ ان کا مقام و مرتبہ خاص ہوگا ۔ ایسے لوگوں کی عقل کو حیران کرنے والا استقبال ہوگا ۔ تصور ذہن سے دور ، ایک خاص الخاص دعوت دی جائے گی، غیر معمولی انعامات سے مالا مال کر دیے جائیں گے ۔
ایسے لوگوں کا دنیا میں رہنا مبارک ہوگا اور آخرت میں بھی خوشحال ابدی زندگی میسر ہوگی جہاں انہیں نہ اولاد کی فکر ہوگی نہ اہل خانہ کی، نہ معاش کی نہ کھانے پینے کی، نہ بیمار ہونے کی نہ افلاس کی، نہ بڑھاپے کی نہ ہی موت کی۔نہ دن کے جانے کی، نہ رات کے آنے کی ، نہ سردی سے کانپ اٹھنے کی، نہ ہی گرمی سے بچنے کی ،نہ لباس کی نہ چھت کی اور نہ فرش کی۔یا اللہ ہمیں بھی ایسے خوش قسمت بندوں میں شامل فرماآمین یا رب العالمین۔
پتہ۔ہاری پاری گام ترال
فون نمبر۔ 9858109109