سرتاج مدنی اور نعیم اخترکسمپرسی کی حالت میں نظربند
بیرون یوٹی سینکڑوں کشمیری قیدیوں کی حالت زار کیاہوگی؟محبوبہ مفتی
سری نگر//جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہاہے کہ ان کی پارٹی کے دو لیڈران کسمپرسی کی حالت میں نظر بند ہیں۔ انہوں نے کشمیر سے باہر کی جیلوں میں مقید کشمیریوں کی حالت زار پر مرکزی حکومت کی نکتہ چینی کی۔کے این ایس کے مطابق محبوبہ مفتی نے نظربندوں کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرنے کیلئے ٹویٹر کا سہارا لیا۔ ایک ٹویٹ میں انہوں نے لکھا،’’ سرتاج مدنی، نعیم اختر اور ہلال اکبر لون کو غیر قانونی طور پر حراست میں لئے جانے کے اقدام کو 2 ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ان کی گرفتاری سے متعلق کوئی حکمنامہ جاری نہیں کیا گیا ہے‘‘۔سرتاج مدنی، محبوبہ مفتی کی پی ڈی پی کے سینئر رہنما ہیں ،جو ماضی میں اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر بھی رہے ہیں۔ وہ رشتے میں محبوبہ مفتی کے ماموں بھی ہیں جبکہ نعیم اختر، پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر ہیں۔ ہلال اکبر لون، بارہمولہ کے پارلیمنٹ ممبر اکبر لون کے فرزند ہیں اور نیشنل کانفرنس تنظیم کے نوجوان لیڈروں میں شمار ہوتے ہیں۔محبوبہ مفتی نے مزید لکھا کہ جب مرکزی حکومت سابق ارکان اسمبلی کو غیر قانونی طور پر حراست میں لے سکتی ہے تو سینکڑوں ایسے کشمیریوں کی حالت زار کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جو جموں و کشمیر سے باہر کی جیلوں میں بند ہیں۔واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل کے انتخابات کے ووٹوں کی گنتی سے ایک دن قبل یعنی21 دسمبر کو پی ڈی پی کے کئی سیاسی رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان رہنماوں میں پی ڈی پی کے سینئر رہنما سرتاج مدنی، نعیم اختر اور نیشنل کانفرنس کے یوتھ لیڈرہلال اکبر لون بھی شامل تھے۔ ان تمام لیڈروں کو ایک سرکاری عمارت میں بند رکھاگیاہے، جسے سب جیل قرار دیا گیا ہے۔حکام نے پی ڈی پی کے ایک اور لیڈر وحید الرحمان پرہ کو بھی حراست میں لیا ہے حالانکہ انہوں نے نظربندی کے دوران ڈی ڈی سی انتخاب بھی جیت لیا ہے۔ انہیں ابھی تک اس عہدے کا حلف لینے کی اجازت بھی نہیں دی گئی ہے۔ حکام کہتے ہیں کہ وحید پرہ عسکریت پسندوں کے ساتھ روابط میں رہا ہے۔ عدالت نے انہیں گزشتہ ماہ رہا کرنے کے احکامات دئے تھے لیکن پولیس کی خفیہ ایجنسی نے انہیں ایک اور معاملے میں گرفتار کیا۔محبوبہ مفتی اپنے ٹویٹس میں وحید پرہ کی مبینہ غیر قانونی گرفتاری پر احتجاج کرتی ہیں۔
جموں کشمیرمیں امن نہیں ،سناٹاقائم ہے
افغانستان سے سیب درآمد کرکے ہماری میوہ صنعت کوتباہ کیا جارہا ہے:مسعودی
سرینگر// نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے آج پارلیمنٹ میں جاری بجٹ اجلاس کے دوران امریکی صدر جیو بائیڈن کی حلف برداری تقریب میں 22سالہ امنڈا گورمن کی پڑھی ہوئی نظم کی سطر’’خاموشی ہمیشہ امن نہیں ہوتاہے‘‘سے اپنے خطاب کی شروعات کرتے ہوئے کہا کہ 5اگست 2019کے غیر آئینی ، غیر جمہوری اور یکطرفہ فیصلوں سے جموں وکشمیر کا خصوصی درجہ تہس نہس کیا گیا اور ریاست کے ٹکڑے کئے گئے۔ ہزاروں لوگوں کی گرفتاری اور نہ ختم ہونے والے لاک ڈائون کے بل بوتے پر ایک سناٹا قائم کیا گیا اور یہ سناٹا کسی بھی صورت میں امن نہیں ہوسکتا، میرا یہ فرض ہے کہ میں اس ایوان کی وساطت سے پورے ملک کے عوام تک یہ بات پہنچائوں۔انہوں نے کہا کہ امن اور تعمیر و ترقی ساتھ ساتھ چلتے ہیں،جب تک امن نہیں ہوگا تب تک تعمیر و ترقی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ گذشتہ ایک سال کے دوران 100مسلح تصادم آرائیاں ہوئیں، جن میں سے 20فیصد جموں اور سرینگر کے شہری علاقوں میں وقوع پذیر ہوئیں۔ 400لوگ مارے گئے، 200سیکورٹی فورسز نے جانیں گنوائیں، جن میں افسران اور سینئر افسران بھی شامل ہیں، سیکورٹی فورسز میں خودکشی کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھ گیا ہے اور ایک نہ ختم ہونے والا لاک ڈائون جاری ہے۔یہ حقائق اس بات کا ثبوت ہے کہ بڑی بڑی تقریروں میں جس امن کے دعوے کئے جارہے ہیں وہ امن زمینی سطح پر کہیں نہیں ۔ہاں! ہم اسے سناٹا کہیں تو صحیح ہے۔بجٹ کو جموں وکشمیر کیلئے مایوس کُن قرار دیتے ہوئے حسنین مسعودی نے کہا کہ بجٹ کے اعداد و شمار سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بجٹ اُن ریاستوں کو ملحوظ نظر رکھ کر بنایا گیا ہے جہاں الیکشن ہونے والے ہیں۔ بجٹ میں جموں وکشمیر کیلئے منظورشدہ 30478کروڑمیں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کیلئے صرف 104کروڑ روپے مختص رکھے گئے ہیں جبکہ دوہرے لاک ڈائون سے صرف ہمارے سیاحتی شعبے کو 40ہزار کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔ ہماری میوہ صنعت دم توڑ رہی ہے جبکہ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت افغانستان کے ذریعے میوہ درآمد کیا جارہا ہے تاکہ ہمارے سیب کو ختم کرکے ہمیں بے اختیار اور محتاج بنایا جائے۔ مسعودی نے کہا کہ جموں وکشمیر میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی کوئی بات نہیں کی گئی ہے جبکہ 84ہزار کے قریب اسامیاں خالی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں قریباً80ہزار ڈیلی ویجر، کیجول اور کنٹریکچول ورکرس ہیں، جو سالہاسال سے مستقلی کا انتظار کررہے ہیں اُنہیں ان خالی اسامیوں کی جگہ مستقل کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح جموں وکشمیر میں بجلی کی پیداوار بڑھانے کی طرف بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے جبکہ لوگ بجلی کی بدترین سپلائی سے زبردست متاثر ہورہے ہیں۔سڑکوں کیلئے کوئی بات نہیں کی گئی ،5اگست 2019اورکووڈ کے دہرے لاک ڈائون سے ہوئے نقصان کی بھرپائی کیلئے کسی بھی پیکیج کا اعلان نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جس گیس پائپ لائن کا اعلان موجودہ بجٹ میں کیا گیا ہے وہ دراصل 2011میں منظور ہوئی ہے۔ کرگل کیساتھ ناانصافی اور امتیازی سلوک کا معاملہ اٹھاتے ہوئے حسنین مسعودی نے کہا کہ سنٹرل یونیورسٹی کا اعلان لیہہ کیلئے کیا گیا جبکہ کرگل کیلئے کچھ نہیں۔ ایل جی صاحب لیہہ میں بیٹھتے ہیں اور کرگل میں بیٹھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے، ڈویژنل کمشنر کا بھی یہی معمول ہے۔ اونتی پورہ کی طرح کرگل کے ائرپورٹ پر ابھی تک کوئی بھی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ مرکزی حکومت کو یہ امتیازی سلوک بند ترک کرنا چاہئے۔
ناگام چاڈورہ میں مس فائر سے اہلکارزخمی
بڈگام//ارشاداحمد// ناگام چاڈورہ میں سی آر پی ایف اہلکار اپنی سروس رائفل سے حادثاتی طور گولی نکلنے سے زخمی ہوگیا۔جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب سینٹرل ریزرور پولیس فورسز سی کمپنی بٹالین 117 سے وابستہ راجیش کمار بلٹ نمبر 880967934 ساکنہ ویسٹ بنگال دوران ڈیوٹی اُس وقت زخمی ہوگیا جب اپنی ہی سروس رائفل سے حادثاتی طور پر نکلی گولی اس کے دائیں پیر میں پیوست ہو گئی جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگیا اسے فوری طور پر نزدیکی طبی مرکز منتقل کیا گیا جہاں ابتدائی مرہم پٹی کے بعد اسے سرینگر 92 بیس کیمپ آرمی ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں اس کی حالت مستحکم بتائی جارہی ہے۔
83فیصدہیلتھ ورکرابھی بھی کووِڈ ویکسین کے بغیر :ڈاک
سرینگر//ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے کہا ہے کہ وادی کشمیر میں 83فیصد ہیلتھ کیر ورکرس ابھی بھی بغیر کوڈ ویکسین کے ہیں،جس کے نتیجے میں ٹیکہ کاری کے عمل میں رُکاوٹ آرہی ہے ۔ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ وادی کشمیر میں ہیلتھ ورکر جن میں ڈاکٹر، نرسز، اور پیرامیڈیکل سٹاف شامل ہے، میں سے اکثر نے ابھی کورونامخالف ویکیسن نہیں لیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر اور اس سے منسلک ہسپتالوں میں کام کررہے 7000ورکروں میںسے صرف ابھی تک 1,167افراد نے ہی ویکیسن لیا ہے جو کہ صرف 16.67فیصد ہے ۔جبکہ 83.33فیصد ابھی بھی بغیر ویکسین کے ہیں اور طبی عملہ کی اس بڑی تعداد بغیر ویکسین ہونا ایک توجہ طلب معاملہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ ورکرس سب سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں کیوں کہ یہ براہ راست کووڈ مریضوں کے ساتھ رابطہ میں رہتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ اس طرح سے نظام صحت کے کام میں رُکاوٹ آسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہچکچاہٹ کی سب سے زیادہ تروجوہات عدم اعتماد اور غلط معلومات ہے۔ ہچکچاہٹ کی دوسری وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکن جوان ہیں اور وہ ناقابل تسخیر محسوس کرتے ہیں۔ کچھ لوگ صرف انتظار کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ وہ لائن میں پہلے ہونے کا اندیشہ رکھتے ہیں۔ کوڈ 19 سے بازیاب ہونے والے افراد کو یقین ہے کہ انہیں ویکسین کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا لیکن اگر وہ ویکسین سے ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں تو ہمارے سامنے عام لوگوں کو ویکسین لینے پر راضی کرنے میں ایک بہت بڑا چیلنج درپیش ہوگا ۔ انہوں نے کہاصحت عامہ کے کارکنوں کا ویکسین پر اعتماد عوامی ویکسین کے اعتماد کو فروغ دینے میں بہت ضروری ہے۔
میونسپل کونسل بانڈی پورہ میں بے ضابطگیاں
غیرمستحق افراد کے حق میں رہائشی سہولیات کی تعمیر کیلئے امدادمنظور
بانڈی پورہ//عازم جان //میونسپل کونسل بانڈی پورہ میں مفلوک الحال لوگوں کو رہائشی شیڈ تعمیر کرنے کیلئے دی گئی امدادی رقم میں خردبرد کااسکینڈل طشت ازبام ہوا ہے۔کونسلروں اورمیونسپل اہلکاروں نے رہائشی شیڈ تعمیر کرنے کی امدادی رقم غریبوں کونظراندازکرکے رئیسوں کے حق میں واگزارکرکے ضابطوں کی دھجیاں اڑادی۔ذرائع کے مطابق وارڈنمبرایک میں چندرئیس افرادامدادی رقم وصول کرنے والوں کی فہرست میں پائے گئے ،تو گھپلے کی نشاندہی ہوگئی۔اگرچہ مستحق مفلس افراددھاندلی ہونے کی شکایت کرتے رہے لیکن ان بے وسیلہ افراد کی کسی نے نہیں سنی۔ذرائع کے مطابق فہرست میں شامل غیرمستحق افرادکے حق میں چالیس ہزارروپے کی ایک قسط واگزار ہوچکی ہے ۔بانڈی پورہ قصبہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ڈپٹی کمشنر سے اپیل کی کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائے ۔ادھرمیونسپل کونسل کے چیف ایگزیکیٹوافسر ولی محمد نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات شروع کی گئی ہے ۔انہوں نے کہ غیرمستحق افراد سے رقم واپس قصول کی جائے گی ۔
ریگی پورہ کے نوجوان کا قتل
8ماہ سے تحقیقات مکمل نہ کرنے کے خلاف لواحقین کااحتجاج
کپوارہ//اشرف چراغ //ریگی پورہ کپوارہ کے نوجوان کی موت کا معمہ آٹھ ماہ سے حل نہ ہونے کے خلاف لواحقین نے جمعہ کو ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے سامنے زورداراحتجاج کیا ۔لواحقین کا کہنا ہے کہ 8ماہ قبل 22مئی2020 کو ان کا لخت جگر فا ضل احمد میر گھر سے نکلا اور واپس نہیں آیا جس کے بعد انہو ں نے اس کی تلاش شروع کی لیکن کہیں سے بھی اتہ پتہ نہیں مل سکا اور اس کی گمشدگی کے حوالہ سے پولیس تھانہ کپوارہ میں ایک رپورٹ درج کرائی ۔لواحقین کے مطابق لاپتہ ہونے کے دو روز بعد فا ضل کی لاش کو وگہ بل جنگل سے بر آمد کیا گیا ۔لواحقین نے واقعہ کے خلاف ریگی پورہ میں احتجاج کیا اور الزام لگایا کہ ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا ۔پولیس نے ایک کیس درج کر کے تحقیقات شروع کی اور 3افراد کو پوچھ تاچھ کے لئے حراست میں لیا گیا تاہم بعد میں ان کو ضمانت پر رہا گیا ۔لو احقین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پولیس نے اس وقت انہیں یقین دلایا کہ فا ضل کو اگر قتل کیا گیا تو اس میں ملو ث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا لیکن 8ماہ گزر جانے کے باجود بھی پولیس تحقیقات مکمل نہیں کی گئی اور نا ہی ملو ثین کو گرفتار کیا گیا ۔لواحقین نے تحقیقات مکمل اور ملوثین کو گرفتار نہ کرنے کے خلاف کپوارہ میں ڈی سی دفتر کے سامنے زور دار احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ فا ضل کے قاتلو ں کو فوری طور گرفتار کیا جائے اور تحقیقات مکمل کر کے عدالت میں چالان پیش کریں تاکہ انہیں انصاف مل جائے ۔
نوجوان مشین کے پٹہ میں پھنس کر لقمۂ اجل
ٹپر نالہ میں جا گرا، نوجوان فوت ،3 زخمی
ارشاد احمد+اشرف چراغ
گاندربل+کپوارہ// بیروہ بڈگام سے ملحقہ لال پورہ گائوںمیں ایک المناک حادثہ میں32سالہ شخص لکڑی چرائی کی مشین کے پٹہ میں پھنس کر موقع پر ہی لقمہ اجل بن گیا۔ 32 سالہ نوجوان ہلال احمد خان ولد اسماعیل خان ساکن لال پورہ لکڑی چرائی کی مشین پر حسب معمول کام کرنے کیلئے گیا جہاں اسکامفلرچرائی کی مشین کے پٹہ میں پھنس گیا اور مشین کا پٹہ اسے کھینچ کر دور تک گھسیٹتے ہوئے لے گیاجس کے نتیجے میں اسے شدید چوٹیں آئیں اور سانس بند ہوگئی ۔اگرچہ اسے زخمی حالت میں نزدیکی طبی مرکز بیروہ منتقل کیا گیا تاہم وہاں موجود ڈاکٹروں کے مطابق سر پر گہری چوٹ آنے اور دم گھٹنے کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوچکی تھی۔موصوف نوجوان کی حال ہی میں منگنی بھی ہو چکی تھی۔ مہلوک کی لاش جب گھر لائی گئی تو وہاں صف ماتم بچھ گیا۔ادھر تلواری لنگیٹ ہندوارہ میں ایک ٹپر نالہ ماوری میں جا گرا جس کے نتیجے میں ایک کی موت واقع ہوگئی جبکہ 3 دیگر زخمی ہوگئے۔جمعہ کی شام ایک ٹپر ریت لانے کیلئے نالہ ماوری کی طرف جارہا تھا جس کے دوران ٹپر ایک گہرے کھڈ میں جاگرا۔واقعہ کے بعد مقامی لوگ اور پولیس جائے وارادت کی طرف دوڑ پڑے اور بچاؤ کارروائی شروع کی۔ ابتدائی طور پر 16 سالہ محسن منظور کی لاش برآمدکی گئی جبکہ نثار احمدہانجی کو زخمی حالت میں سرینگر منتقل کیا گیا اور ٹپر کا ابھی تک کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔ادھر نالہ ماوری سے ناجائز طور ریت اور بجری نکالنے والے ٹپرحادثے میں ایک نوجوان کی ہلاکت کیخلاف مقامی لوگوں نے زبردست احتجاج کیااور ناجائزطورنالہ ماوری سے ریت اور بجری نکالنے والوں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ نالہ ماوری سے ریت اور بجری نکالنے پر مکمل پابندی ہے ۔مقامی لوگو ں نے ٹپر کو نالہ ماوری سے نکالنے نہیں دیا اور زور دار احتجاج کیا ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ نالہ ماوری سے بیشتر مقامات خاص طور لنگیٹ علاقہ میں ریت اور بجری نکالنے سے نالہ کی ہیت بدل ہوچکی ہے اور جگہ جگہ جے سی بی مشینو ں سے ریت اور بجری نکالی جارہی ہے جس کی وجہ سے متعدد مقامات پر گہرے گڈھے بن چکے ہیں ۔مقامی لوگو ں نے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ نالہ سے ریت اور بجری نکالنے پر مکمل پابندی کو یقینی بنایا جائے۔
مولانا محمد یاسین ہمدانی کا یوم وصال
اسلام کے تئیں کی گئی خدمات ناقابل فراموش: مقررین
سرینگر//خطہ کشمیر کے معروف عالم دین میرواعظ کشمیر مولانا محمد یاسین ہمدانی کا29 واں یوم وصال عقیدت واحترام کے ساتھ منایا گیا۔ اِس سلسلے میں سب سے بڑی تقریب قدیم خانقاہ جامعہ پانپور میں منعقد ہوئی جس کی صدارت جمعیت ہمدانیہ کے سرپرست اعلیٰ میر واعظ کشمیر مولانا ریاض احمد ہمدانی نے کی۔ نماز جمعہ سے قبل علماء کرام اور مقررین نے مولانا یاسین ہمدانی کی اسلامی خدمات ، وعظ وتبلیغ اور ناقابل فراموش دینی خدمات پر روشنی ڈالی۔ نماز جمعہ کے بعد مرحوم کے مقبرہ واقع درصحن پاک زیارت حضرت خواجہ معسودی پانپوریؒ و حضرت شیخ شرف الدین ؒ(شوگہ بابا صاحب) میں اجتماعی طورپر فاتحہ پڑھی گئی ۔تاریخی خانقاہ معلی اور شہری کلاش پورہ کے علاوہ دیگر بقعہ جات ، مساجد اور خانقاہوں میں بھی تقریبات کا انعقاد ہوا۔ خانقاہِ پانپور میں مقتدر علمائے کرام جن مولانا شوکت حسین کینگ قادری، محمد اشرف عنایتی ہمدانی ، پیرزادہ محمد یاسین ظہرہ، فاروق احمد گانی ،محمد شفیع بسو ، محمد سلطان شاہ ،مولوی سراج الدین ترمبو اور مقامی امام و خطیب مولوی فاروق احمد ، بشیر احمد بٹ نے مرحوم میرواعظ یاسین ہمدانی کی تاریخ ساز اسلامی خدمات پر روشنی ڈالی اور خاندانِ میرواعظ کے ملی خدمات اور تحریک حریت کشمیر کے رول کو بھی اجاگر کیا۔ خانقاہِ معلی میں امام و خطیب غلام محمد ہمدانی،آثار شریف شہری کلاش پورہ میں نشاندہ پیرزادہ منظور احمد نے بھی مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا۔
چاڈورہ سے5میونسپل کاؤنسلر اپنی پارٹی میں شامل
سرینگر//چاڈورہ سے میونسپل کمیٹی کاؤنسلروں کے ایک وفد نے جمعہ کو پارٹی دفتر لالچوک سرینگر میں منعدہ تقریب کے دوران اپنی پارٹی میں شمولیت اختیار کی جن میں ناصر احمد ڈار، شبینہ نبی، فریدہ، ظہور احمد میر اور محمد اسلم وانی شامل ہیں۔ تقریب پارٹی نائب صدر ظفراقبال منہاس، میڈیا ایڈوائزر فاروق اندرابی، ریاستی سیکریٹری اور ضلع صدر بڈگام منتظرمحی الدین، ضلع صدر سرینگر نور محمد شیخ اور ضلع صدر کپواڑہ راجہ منظور کی موجودگی میں منعقد ہوئی۔جماعت میں نئے ساتھیوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے ظفر اقبال منہاس نے اُن سے گذارش کی کہ وہ متعلقہ کونسل میں لوگوں کی بے لوث خدمت کریں اور اُن کے مسائل کو ترجیحی بنیاد پر حل کریں۔ منہاس نے کہا’’پچھلے چند برسوں میں جموں وکشمیر خطہ میں ترقی کافقدان رہا ہے اور اپنی پارٹی لوگوں کے لئے کام کرنے ، اُن کے مسائل کو اُجاگر کر کے حل کرانے کی وعدہ بند ہے‘‘۔چاڈورہ کونسل سے نئے ساتھیوں نے ایسا سیاسی پلیٹ فارم فراہم کرنے پر پارٹی لیڈر شپ کا شکریہ ادا کیا اور زمینی سطح پر پارٹی کو مضبوط بنانے کا عزم کیا۔
سابق آئی اے ایس افسر خضرمحمد کاانتقال
الطاف بخاری ،وی سی کشمیریونیورسٹی اور پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین کا اظہار تعزیت
سرینگر//اپنی پارٹی صد ر سید محمد الطاف بخاری اور سینئر نائب صدر غلام حسن میر نے سابق آئی اے ایس افسر خِضرمحمد وانی کی وفات پر رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔ خضر محمد وانی باغات سرینگر میں واقع رہائش گاہ پر انتقال کرگئے۔ مشترکہ تعزیتی پیغام میں دونوں لیڈران نے موصوف کو ایک قابل افسر قرار دیا جنہیں جموں وکشمیر انتظامیہ میں بہترین خدمات کے لئے یاد رکھاجائے گا۔ انہوں نے تعزیتی بیان میں کہا کہ ’’وانی صاحب شریف النفس ، عاجز اور ملنسار افسر تھے جو ہمیشہ لوگوں کی خدمت کے لئے تیار رہتے، وہ شاندار کردار اور غیر معمولی رویہ کے لئے سبھی کے ہر دلعزیز تھے‘۔ انہوں نے مرحوم کی جنت نشینی اور لواحقین کے لئے صبر وجمیل کی دعا کی ہے۔اس دوران کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد اور رجسٹرار ڈاکٹر نثار احمد میر نے خضر محمد وانی کی وفات پر رنج و غم کااظہار کیا ہے۔اپنے تعزیتی پیغام میں پروفیسر طلعت اور ڈاکٹرمیر نے مرحوم کی جنت نشینی اورلواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی دعا کی۔انہوںنے کہاکہ جموں وکشمیر میں متعدد اداروں کے فروغ اور ترقی میں وانی کے دین کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔ قابل ذکر ہے کہ وانی کشمیر یونیورسٹی کے بجٹ الوکیشن کمیٹی کے کئی برسوں تک ممبر رہے ہیں۔ دریں اثناء جموںوکشمیر پبلک سروس کمیشن چیئرمین بی آر شرما کی صدارت میں ایک تعزیتی اجلاس منعقد ہوا جس میں کمیشن کے سابق ممبر خضر محمد وانی کے انتقال پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے خراج عقیدت ادا کیا۔ کمیشن تمام ممبران اور افسران نے لواحقین سے تعزیت کی اور 2منٹ کی خاموشی کی اور مرحوم کی روح کی تسکین کیلئے دعا کی۔ معروف قلم کار اور ادیب طارق شبنم نے خضر محمد وانی کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی جنت نشینی کی دعا کی۔ انہوں نے موصوف کو ایک قابل اور ایماندار افسر وار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامی خدمات کو تا دیر یاد رکھا جائے گا۔
چرچ لین میں بصیر خان کا عوامی دربار منعقد
150وفود نے مطالبات اور شکایات سے آگاہ کیا
سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان نے گرمائی دارالخلافہ سرینگر کے چرچ لین میں عوامی شکایات سننے کے لئے ایک دربار منعقد کیا جہاں زائد از 150 وَفود اور اَفراد نے اپنے مطالبات ، معاملات اور شکایات مشیرکو گوش گزار کئے۔ریذیڈنسی روڈ اور بند بزنس مین کے ایک وفد نے مشیر بصیر خان سے ملاقات کی اور انہیں بند کی بحالی اور خوبصورتی ، پارکنگ کی جگہ کے علاوہ کھمبوں سے بجلی کی تاروں کی مناسب دیکھ ریکھ وغیرہ معاملات سے آگاہ کیا۔ اُنہوں نے ریذیڈنسی روڈ کے اَطراف میں سنگل لائن پارکنگ کا بھی مطالبہ کیا۔سوپور کے فٹ پاتھ فروشوں کی ایک اور وفدنے مشیر بصیر احمد خان کو آگاہ کیا کہ انہیں دو ماہ قبل ایک ایسی مناسب جگہ پر منتقل کردیا گیاجہاں ان کا معاش متاثر ہوا ہے ۔ اُنہوں نے بغیر کسی رُکاوٹ کے اپنی کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کے لئے مناسب جگہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔نگندر کھریو پانپور کے ایک وفد نے مشیر موصوف سے ملاقات کی اور پتھر کی نقش و نگار کی اجازت طلب کی۔ اُنہوں نے تمام مطلوبہ رسمی کارروائیوں کی تکمیل کے باوجود انہیں دہائیوں پرانی سرگرمی کرنے کی اِجازت نہیں ہے اور اس معاملے میں اُن کی ذاتی مداخلت طلب کی۔آل جے اینڈ کے منریگا ایمپلائز ایسوسی ایشن نے مشیرموصوف سے ملاقات کی اور محکمہ دیہی ترقی میں دستیاب خالی اَسامیوں کی جگہ انہیںعملے کے طور پر رکھنے کے لئے تفصیلی نمائندگی پیش کی۔اُنہوں نے مشیر سے گوش گزار کیا کہ عملہ انتہائی اہل اور ہنر مند ہے جس نے دیہی شعبے کی ترقی میں انقلاب انگیز کار نامے انجام دئیے ہیں۔دریں اثنأ محکمہ لائبریریوں اور ریسرچ جے اینڈ کے کے لائبریریوں کے پیشہ ور اَفراد کے ایک وفدنے مشیر سے چیف لائبریرئن، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور دیگر عملے کی شعبہ کی ترقی کے حوالے سے ملاقات کی۔اِسی طرح سی ڈی بلاک حضرت بلال کے رہائیشوں نے مشیر سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے سامنے آنے والے معاملے سے آگاہ کریں۔ درخواست کی گئی کہ دانیہامہ ، ملپک ، اہل ، برزاما ، اندرہامہ گاسو ، وانیہما پائین اور بٹہ پورہ بی کو محکمہ دیہی ترقی میں شامل کیا جائے گا اور ترقیاتی فوائد حاصل کرنے کے لئے بلدیہ سے شامل کیا جائے گا۔سنبل سوناواری کے ٹاکن واری پورہ کے رہائیشوں نے مشیر سے درخواست کی کہ ان کے علاقے میں 100 کے وی سب سٹیشن بنایا جائے۔اُنہوں نے مشیر کوآگاہ کیا کہ ان کا علاقہ بجلی کی لائن کے آخری سرے پر آتا ہے اور وقفے وقفے سے بجلی کی کمی سے بری طرح متاثر ہے۔اِس کے علاوہ مشیر موصوف کو ہمدانیہ کالونی بمنہ کے ایک نمائندے نے بجلی ، پینے کے پانی کی عدم دستیابی اور نالیوں اور سڑکوں کی ناگفتہ بہہ حالت کے بارے میں آگاہ کیا۔ دیگر وَفود اور افراد نے بھی مشیر بصیر احمد خان سے مختلف امور کے بارے میں روشناس کرنے کے لئے ملاقات کی جس میں آر اینڈ بی ، پی ایچ ای ، پی ڈی ڈی ، ایس ایم سی ، پی سی بی ، فارسٹ ، ٹرانسپورٹ ، ٹریفک اور دیگر محکموں سے متعلق معاملات شامل ہیں۔اِس موقعہ پر مشیر بصیر احمدخان نے وفود اور اَفراد کی جانب سے اُٹھائے شکایات اور مطالبات کی سماعت کی اور عوامی اہمیت کے حامل اور انفرادی امور کے معاملات کو جلد از جلد حل کرنے کے لئے اَفسران اور محکموںکے اَفسران کو موقعہ پر ہدایات جاری کیں۔ ان کی فوری ازالے کے لئے غور کیا جائے گا۔
بزرگانِ دین کے عرسہائے مبارک
عقیدتمندوں کیلئے مناسب میسر رکھے جائیں:ساگر
سرینگر//نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے وادی کے بلند پایہ ولی کامل حضرت خواجہ حبیب اللہ عطار( زینہ کدل)، حضرت شیخ بہائو الدین گنج بخشؒ (نوہٹہ) اور حضرت بابا حاجی ادہمی صاحبؒ (اسلامیہ کالج) کے سالانہ عرس ہائے مبارک کے پیش نظر زائرین کیلئے معقول اور مناسب انتظامات کی اپیل کی ہے۔ ان بزرگانِ دین کے عرس مبارک 2,3,4اور 5رجب المرجب کومنائے جارہے ہیں۔ ساگر نے ضلع انتظامیہ سرینگر سے اپیل کی کہ وہ عرس اور ایام متبرکہ کے دوران عقیدت مندوں کیلئے بجلی، پینے کے پانی، صحت و صفائی اور ٹرانسپورٹ کے خاص انتظامات رکھیں۔
گاندربل پولیس نے غریب کنبوںمیں کووڈ19سیفٹی کٹ تقسیم کئے
گاندربل//گاندربل پولیس نے ضرورت مند لوگوں تک کووڈ19سیفٹی کٹ پہنچنے کیلئے اپنی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے تیسرے مرحلے میں پولیس پوسٹ شادی پورہ علاقہ میں پسماندہ طبقوں میں ضروری کووڈ19سیفٹی کٹ تقسیم کئے ۔ تقسیم کاری تقریب کا انعقاد ڈپٹی ایس پی ہیڈکواٹر اور ڈی اوشادی پورہ نے کی ۔کورونا سیفٹی کٹ میںنیبولائزر، پلس آکسی میٹر، ڈیجیٹل تھرمامیٹر، فیس شیلڈ، فیس ماسک (N-95)، ہینڈ سینیٹائزر، ہینڈ گلوز، پی پی ای کٹ، صابن، لکوڈ ہینڈواش اور کٹ بیگ تھے۔ مستفید افراد نے گاندربل پولیس کا شکریہ کیا اور اس طرح کی کوششوں کو سراہا۔ اس موقعہ پرڈپٹی ایس پی ہیڈکواٹرنے ضرورت مند اور غریب کنبوں کی طرف معاشرے کو اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں سنجیدہ رہنے کی ضرورت پر زور دیا اور ساتھ ساتھ کورونا وائرئس میں ان چیزوں کو کیسے استعمال میں لانے کے بارے میںجانکاری فراہم کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس غریب اور نادار لوگوں کی مدد کے لئے ہر وقت موجود ہے۔