سرینگر//اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں خواتین کیلئے 33فیصد ریزرویشن کی وکالت کی ہے۔ لال چوک سرینگر میں پارٹی دفتر پر منعقدہ تقریب کے حاشیے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’ہماری جماعت جموں وکشمیر میں خواتین کی صحیح معنوں میں بااختیاری پر یقین رکھتی ہے اور یہ خواب تب پورا ہوگا جب ہماری قانون ساز اسمبلی کے اندر خواتین قانون سازوں کی قابل ِ ذکر تعداد ہوگی‘‘۔ بارہمولہ، بانڈی پورہ، رام بن، کشتواڑ اور پونچھ میں ڈی ڈی سی چیئرپرسن اور وائس چیئرپرسن عہدہ کیلئے انتخابات سے متعلق پوچھے جانے پربخاری نے اِ ن انتخابات کو ’اہم اتفاق‘قرار دیا۔ انہوں نے کہا’’اِن سبھی اضلاع میں مضبوط خواتین دعویدار ہیں اور میں سبھی کے تئیں نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں، یہ سب اپنی ہیں، یہ سبھی جموں وکشمیر کی ہماری خواتین ہیں، ہمیں دل سے اِن کی حمایت کرنے کی ضرورت ہے، جموں وکشمیر کی خواتین نے زندگی کے ہرشعبہ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے‘‘۔انہوں نے کہاکہ اُن کی جماعت ضلع ترقیاتی کونسل، جہاں خواتین کو مناسب نمائندگی دی گئی ہے، کی طرز پر جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں خواتین کیلئے 33فیصد ریزرویشن کے لئے جدوجہد کرے گی، لہٰذا اپنی پارٹی چاہتی ہے کہ ہماری قانون سازیہ میں بھی خواتین کو مناسب نمائندگی دی جائے‘‘۔ بخاری نے کہاکہ بدقسمتی سے جموں وکشمیر کے اندر افسران کا ایک حلقہ نہیں چاہتا کہ یہاں جمہوریت پھلے پھولے، یہی وجہ ہے کہ منتخب نمائندگان کو بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھاگیاہے، میری لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے گذارش ہے کہ وہ اِس معاملہ میں مداخلت کر یں تاکہ منتخب ڈی ڈی سی ممبران، چیئرپرسن اور وائس چیئرپرسن کام کرسکیں۔ مارچ 8کی اہمیت متعلق بخاری نے کہاکہ ’’اپنی پارٹی کی داغ بیل8مارچ کو رکھی گئی تھی اور خوش قسمتی سے یہی دن پوری دنیا میں عالمی یوم ِ خواتین کے طور منایاجاتاہے‘‘۔