کپوارہ//جمعہ کی شام دیر گئے لنگیٹ ہندوارہ میں ایک ٹپر نالہ ماور میں گرنے سے نوجوان کی موت واقع ہونے پر مقامی لوگو ں نے اس بات کو لیکر احتجاج کیا کہ جمو ں و کشمیر عدالت اور ضلع انتظامیہ نے نالہ ماور سے غیر قانونی طور ریت اور بجری نکالنے پر مکمل پابندی عائد کی ہے تو پھر دن دہاڑے اور شام کے وقت جے سی بی مشینوں کے ذریعے نالہ کی کھدائی کر کے ریت اور بجری نکالی جاتی ہے ۔مقامی لوگوں نے ہفتہ کوایک بار پھر اس بات کو لیکر احتجاج کیا کہ اگر نالہ ماور سے ریت اور بجری نکالنے کے کام پر روک نہیں لگائی گئی تو وہ زور دار احتجاجی مہم چھیڑ دیں گے ۔مقامی لوگ دوسرے روز بھی سراپا احتجاج تھے ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ اگر جمو ں و کشمیر ہائی کورٹ نے پہلے ہی نالہ ماور سے ریت اور بجری نکالنے کے کام پر پابندی عائد کی ہے لیکن اس کے باوجود ریت اور بجری نکالنے والا مافیا گروپ انتظامیہ کی آنکھو ں میں دھول جھانک رہا ہے؟ مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ ریت اور بجری نالنے سے نالہ ماور تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور جگہ جگہ جے سی بی مشینوں نے اس نالہ میں کھدائی کر کے گہرے کھڈ بنائے ہیں اور آج تک کئی دلدوز حادثات پیش آئے ہیں جس کی وجہ سے متعددانسانی جانیں تلف ہوئی ہیں ۔لوگو ں نے مقامی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ محکمہ جیولوجی اور اری گیشن پر الزام عائدکیا ہے کہ وہ مافیا کیخلاف کارروائی نہیں کررہے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ دو سال قبل اگرچہ ضلع انتظامیہ نے نالہ ماور سے ریت اور بجری نکالنے پر سخت پابندی عائد کر رکھی تھی اور متعدد بار نالہ ماور پر چھاپہ ڈال کرکئی ٹپرو ں کے علاوہ ٹریکٹرو ں کو ضبط کیا لیکن گزشتہ ایک سال سے پھر نالہ ماور سے ریت اور بجری نکالنے کا کا م زوروںپر ہے ۔مقامی لوگو ں نے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک خصوصی ٹیم تشکیل دیں تاکہ وہ نالہ ماور پر ہر روز نظر گزر رکھیں گے اور ناجائز طور ریت اور بجری نکالنے والو ں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائیں ۔