سرینگر// کشمیر میںسوموار کو11ماہ بعد معیاری عملیاتی طریقہ کار اپناتے ہوئے سرکاری اور نجی کالجوں کے علاوہ یونیورسٹیوں نے دوبارہ تدریسی عمل شروع کردیا ہے، اوراس وجہ سے سنسان پڑے کالجوںاور یونیورسٹیوں میں دوبارہ رونق لوٹ آئی ہے۔ تاہم پہلے دن محض 30فیصد طلبہ نے ہی کالجوں کا رخ کیا۔ ایس پی کالج ، وومنز کالج ایم اے روڑ، وومنز کالج نواکدل ، امرسنگھ کالج ، بمنہ ڈگری کالج،وشوا بھارتی کالج، اسلامیہ کالج، گاندھی کالج کے علاوہ وادی کے دیگر کالجوں میں طلبہ و طالبات تدریسی کام شروع ہونے پر خوش نظر آئے ۔ایس پی کالج کے ایک طالب علم سجاد احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ پہلا دن ہے، بڑی خوشی ہے کہ پرانے دوستوں کے ساتھ دوبارہ ملاقات ہوگی اور اساتذہ کی جانب سے تدریسی عمل پھر بحال ہوگا‘‘۔سجاد نے بتایا ’’ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وائرس ابھی موجود ہے اوراس سے بچائو کیلئے کالجوں میں ماسک اور سینٹائزر اور سماجی دوری کا اہتمام کرنا لازمی‘‘۔
سجاد کہتے ہیں کہ اگر ہفتے میں چند دنوں کیلئے ہی کالج آنا پڑے، یہ طلبہ کیلئے کافی حد تک فائدہ مند ہوگا۔وومنز کالج نواکدل کی طالبہ ثناء معراج نے بتایا ’’گزشتہ سال مارچ میں کالج بند ہونے کے بعد میں اپنے دوستوں سے نہیں ملی، حالانکہ ہماری گریجویشن بھی مکمل ہوگئی ہے لیکن کالج سے لگائو یہاں کھینچ لایا ہے‘‘۔ جموں و کشمیر سرکار نے 28جنوری 2021کو اپنے ایک حکم نامہ میں کالج کھولنے کا ا علان کرتے ہوئے معیاری ضابطہ اخلاق کی ایک فہرست جاری کی تھی ۔ اس فہرست میں کالج اور یونیورسٹی منتظمین کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ کالج میں داخل ہونے والے تدریسی ، غیر تدریسی اور طلبہ و طالبات کے جسم کا درجہ حرارت چیک کرنے کے علاوہ مفت ماسک اور سنیٹائزر فراہم کریں ۔اس کے علاوہ تدریسی و غیر تدریسی عملہ کے علاوہ طلبہ و طالبات کو اپنا نجی ماسک اور سنیٹائزر بھی ساتھ رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ حکومت نے اپنے حکم نامہ میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کیلئے ایڈوائزری کمیٹیاں بنانے کا بھی اعلان کیا ہے جو کالج میں عمل پیرہونے والے معیاری ضابطہ اخلاق پر نظر رکھیں گی۔
محکمہ اعلیٰ تعلیم کے ڈائریکٹر محمد یوسف پیرزادہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ پہلے دن ہم نے صرف 50فیصد طلبہ کو ہی کالج اور یونیورسٹیوں میں حاضر ہونے کی ہدایت دی تھی لیکن اس میں بھی محض 30فیصد طلاب کالج آئے ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ کالجوں اور یونیورسٹوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی دستیابی کو دیکھنے کے بعد ہی فیصلہ کریں کہ ہر روز کتنے بچوں کو کلاسوں کیلئے بلایا جائے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ کالج کھولنے سے قبل تمام کالجوں کو سنیٹائز کیا گیا ہے جبکہ کالج اور یونیورسٹیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کلاسوں میں بھی سماجی دوری بنائے رکھیں‘‘۔