سرمایہ کاری کیلئے بہتر سلامتی صورتحال،بہتر حکمرانی اور کورپشن سے پاک انتظامیہ لازمی: غیر ملکی سفراء
سرینگر//کشمیر کے دورے پر آئے 24بیرونی ممالک کے سفیروں نے کہا کہ وہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے آئے ہیں اور مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کرکے ہی وہ کوئی رائے قائم کرسکتے ہیں۔سفرا کا کہناتھا کہ کوئی نتیجہ اخذ کرنے کیلئے ایک دورہ کافی نہیں ہے اور انہیں اس سلسلے میں مزید معلومات اکٹھا کرنا ہونگیں جن میں سے کچھ معلومات کو پبلک ڈومین میں ڈالا جاسکتا ہے او ر کچھ کو صیغہ راز رکھ کر متعلقین تک پہنچایا جائے گا۔کشمیر میں سرمایہ کاری کیلئے بہتر سلامتی صورتحال ،بہتر حکمرانی او ر کورپشن سے انتظامیہ کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہتر سلامتی صورتحال کے بغیر بیرونی سرمایہ کاری ممکن نہیں ہے۔گرینڈ پیلس ہوٹل میں میڈیا سے وابستہ افراد سے گفتگو کرتے ہوئے دنیا کے مختلف بر اعظموں سے تعلق رکھنے والے ممالک کے بھارت میں مقیم سفارتکاروں نے کشمیر کے جاریہ دورہ کو زمینی صورتحال سے آگاہی حاصل کرنے کی جستجو قرار دیا اور کہا کہ اُن کا کام صورتحال کاجائزہ لیکر تعلقات کو فروغ دینا ہے ۔سفیروں نے کہا کہ محض ایک دورہ یا محض کسی ایک مخصوص گروپ کے ساتھ ملاقات کرکے وہ حتمی رائے قائم نہیں کرسکتے بلکہ وہ مختلف ذرائع سے معلوما ت اکٹھا کرتے ہیں ۔اُن کا کہناتھا ’’ کشمیر کی صورتحال کا صحیح صحیح اندازہ لگانے کیلئے ایک دورہ کافی نہیں ہے اور اُنہیں کوئی نتیجہ اخذ کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ معلومات چاہئے ہوتی ہیں‘‘ ۔اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ اس دورہ کے اختتام پر کوئی رپورٹ جاری کرینگے؟ ،سفرا کا کہناتھا ’’ہمارا کام معلومات اکٹھا کرنا ہے،اُن میں سے کچھ معلومات کو مشاہدات اور تاثرات کی صورت میں پبلک ڈومین میں ڈالا جاسکتا ہے اور کچھ کو صیغہ راز رکھ کر متعلقہ افراد یا فورموں تک پہنچایا جاتا ہے ‘‘۔سرمایہ کاری سے متعلق سوال پر سفیروںنے کہا کہ اقتصادی ترقی کیلئے سرمایہ کاری بلا شبہ لازمی ہے تاہم سرمایہ کاری کیلئے بہتر سلامتی صورتحال،بہتر حکمرانی اور کورپشن سے پاک انتظامیہ لازمی ہے ۔انہوںنے کہا کہ جب تک سیکورٹی صورتحال بہتر نہ ہو اور کورپشن کیخلاف زیرو ٹالرنس کے علاوہ سرمایہ کاری دوست ماحول دستیاب نہ ہو،سرمایہ کاری ممکن نہیں ہے ۔اس دوران میڈیا سے وابستہ افراد نے صحافیوں کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر چہ میڈیا پر کوئی دبائو نہیں ہے اور میڈیا کو ہراسانی کا سامنا نہیں ہے تاہم مواصلاتی سہولیات کی عدم دستیابی اور انتظامیہ عدم تعاون پیشہ ورانہ خدمات کی انجام دہی میں آڑے آرہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ معلومات تک رسائی نہ ملنے کی وجہ سے میڈیا کی اعتباریت عوام میں مشکوک ہوچکی ہے کیونکہ میڈیا زمینی صورتحال کی من و عن رپورٹنگ کرنے سے قاصر رہا۔حکمرانی کے حوالے سے میڈیا سے وابستہ افراد نے بحیثیت مجموعی عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ترقیاتی عمل جمود کا شکار ہے اور دفعہ370کی منسوخی کے بعد اُس انداز اور رفتار سے ترقی نہیں ہوئی جس کا دعویٰ کیاجارہا ہے۔انہوںنے کہا کہ اگر چہ دفعہ370کی منسوخی ایک سیاسی فیصلہ تھا تاہم اس کے بعد جہاں ترقیاتی اور اقتصادی عمل کو فروغ دینے کیلئے سرمایہ کاری ناگزیر تھی وہیں ریاستی درجہ کی بحالی بھی ناگزیر ہے ۔صحافیوںنے واضح کیا کہ سماج کے ایک قابل ذکر حصہ کو دفعہ35-Aکی تنسیخ پر اعتراض ہے اور انہیں اپنا اعتراض ظاہر کرنے کا موقعہ فراہم کیاجاناچاہئے اور جموںوکشمیر کے معاملات کو دلّی سے ہینڈل کرنے کی بجائے قضیہ زمین برسر زمین کے مصداق مقامی نوعیت کے مسائل کا حل مقامی سطح پر ہی کیاجانا چاہئے۔ان کا کہناتھا کہ حکومت ناقابل رسائی بن چکی ہے اور وہ اپنی بات کہتی ہے جبکہ یہاں سے کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہے ۔انہوںنے مزید کہاکہ بلاشبہ سیکورٹی صورتحال میں بہتری آئی ہے اور شہری ہلاکتوں میں کمی آئی ہے تاہم عسکریت ایک ناقابل تردید حقیقت ہے لیکن معمولات بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہیں۔صحافیوںنے کہا کہ اقتصادی ترقی کیلئے حکومت کو سرمایہ کاروں کو راغب کرنا چاہئے اور کسی بھی سرمایہ کاری کو یقینی بنانے کیلئے حکومت ہندکو پہلے یہاں خود سرمایہ کاری کرنی چاہئے تاہم انہوںنے افسوس کا اظہار کیا کہ اگست2019کے بعد اس طرح کی سرمایہ کاری نہیں ہوئی جس طرح کے دعوے کئے جارہے تھے۔انہوںنے ڈومیسائل قانون پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اقامتی سند کی اجرائی کیلئے اقامتی دورانیہ کو 15سے30سال کیاجانا چاہئے اور زمینوں کا تحفظ ڈومیسائل قانون میں یقینی بنانے کے علاوہ نوکریوںکا تحفظ بھی یقینی بنانا چاہئے تاکہ جموںوکشمیر کے عوام کو لگے کہ اُن کی نوکریوں اور اراضی پر کوئی ڈاکہ نہیں ڈالے گا۔
فنکاروں، قلم کاروں اور مصوروں سے ملاقات
سرینگر// مٹی کے برتن بنانے میں خواتین کا کوئی رول نہ ہونے پر غیر ملکی سفیروں نے حیرانگی کااظہار کیا ہے۔ کشمیرکے دورے پرآئے غیرملکی سفیروں کے وفد نے یہاں قلمکاروں اور فنکاروں کے ساتھ ملاقات کی۔پبلک ہیلتھ انجینئرنگ محکمے میں جونیئرانجینئر صائمہ شفیع جسے کشمیرمیں’کرالہ کور‘کے نام سے جانا جاتا ہے،کے ساتھ بات کرتے ہوئے فرانس کے سفیرایمنوئیل لینین اورکیوباکے سفیرجے مارٹینزکورڈوواس نے صائمہ کو بتایا کہ ان کے ملکوں میں اس تجارت کے ساتھ زیادہ تر خواتین وابستہ ہیں ۔ صائمہ جو کشمیرمیں مٹی کے برتن بنانے کے فن کے احیائے نو کاکام کررہی ہیں،نے انہیں بتایا کہ خواتین اگر گھر بناسکتی ہیں تو مٹی کو بھی اُس صورت میں ڈال سکتی ہیںجس میں وہ چاہے ۔کیوبا کے سفیر نے بتایاکہ ان کے ملک کی خواتین مٹی سے برتن بنانے اورمصوری میں زیادہ دلچسپی لیتی ہیں ۔صائمہ نے انہیں بتایا کہ کشمیرمیں سماج میں ایسی برابری دیکھنے کوملنے میں ابھی کچھ اور وقت لگے گا۔اسپین کے سفیر نے اس دوران کشیدہ کاری کے مصنوعات میں دلچسپی کااظہارکیااور پشمینہ اور سیاحت کے ڈھانچے میںدلچسپی کااظہار کیا۔چوبیس ملکوں کے سفراء کاگروپ درگاہ حضرتبل میں حاضری دینے کے بعد ڈل کے کنارے کنونشن کمپلیکس میں یہاں کے قلمکاروں اور فنکاروں سے ملے،جن میں موسیقارڈاکٹر شائستہ ،سماجی کارکن رینزوشاہ،اورپشمینہ قالینوں پرخطاطی کرنے کے ماہرشاہنوازبھی شامل ہیں ۔کچھ مقامی سیاسی رہنمااوردستکاری اور سیاحتی محکمے کے حکام بھی سفیروں سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے دیکھے گئے۔