اسلام ایک ایسا دین ہے جس کی بنیاد ہی تعلیم و تعلم ہے۔ جب تک امت نے اپنی اس ذمہ داری کو بحسن و خوبی ادا کرتے رہنے پر توجہ رکھی اس وقت تک اس کا ستارہ بلندیوں پر رہا اور جب تعلیم و تعلم کا دائرہ سکڑنا شروع ہوا، اسی مناسبت سے اس بلند ستارے کا دائرہ بھی سکڑتا چلا گیا اور بالآ خر ہم اب وہاں کھڑے ہیں جہاں انحطاط و پسماندگی کے جملہ مظاہر ہمارا شعار ہیں اور لطف کی بات یہ کہ ہم کو احساس زیاں تک نہیں۔ ہم ابھی بھی خو د غرضی ،نفاق ،جھوٹی شان و شوکت،بے عملی، بے خبری اور لاتعداد اخلاقی و معاشرتی امراض میںمبتلا ہیں اور اس وقت پر بھی اپنی بلندیوں اور اعلیٰ کا ر گردگیوں کے قصے سناتے رہنے ہی سے اپنے تئیں مطمئن ہوتے اور کرتے رہتے ہیں۔
بیسویں صدی کے بہت سارے دانشوروں اور مفکروں نے اس پر سوچنا شروع کیا ۔سب سے پہلے بر صغیر کے مشہور مفکر اور بانی علی گڑھ سرسید احمد خان نے مسلمانوں کو اپنے تشخص کو قایم رکھتے ہوتے اپنی ہمہ جہت ذمہ داریوں بشمول تعلیم و تعلم کے حوالہ سے اپنے فرائض کی ادائیگی سے متعلق جس بلیغ انداز میں پیغام دیا تھا، وہی نسخہ امت مسلمہ کے جملہ امراض کا علاج ہے۔ انھوںنے کہا تھا’’فلسفہ ہمارے دائیں ہاتھ میں ہوگا اور نیچرل سائینس بائیں ہاتھ میں اور کلمہ لا الہٰ الا اللہ محمدرسول اللہ ﷺ کا تاج سر پر‘‘۔
اسلام ایک سائنٹفک مذہب ہے۔ اس نے انسان کو خلیفہ اللہ فی الارض قرار دیا ہے۔ اس کی عاید کردہ ذمہ واریوں میں شامل ہے کہ وہ اللہ کے ذریعہ ڈالی گئی ذ مہ د اریوںکو صداقت اور سنجیدگی کے ساتھ ادا کرے۔ اسلامی تعلیمات خواہ عبادت سے متعلق ہوں یا معاملات میں اخلاقیات کا اسوہ بننے کے حوالہ سے، معاشرہ کو متمدن و مہذب بنانے سے متعلق ہوں یا علوم و فنون کے فروغ و ترویج اور توسیع کے حوالہ سے، آخری زندگی کی تیاری سے متعلق ہو ںیا دنیوی زندگی کو اللہ کے ہدایت کردہ طریقہ پر گزارنے اور اس کی صالح مثال قائم کرنے کے حوالہ سے یہ ساری کی ساری ذمہ داریاں انسان پر اللہ نے ڈالی ہیں اور ان کی ادائیگی ہر اس شخص ، جس نے اس دین کو اپنایا ہے ،پر اس کی قوت و طاقت کے مطابق لازم ہے۔
کسی بھی ملک و قو م کے عروج و زوال کا رشتہ براہ راست اس ملک و قوم کے افراد کے سائنسی رویہ یا اس کے فقدان سے جڑا ہوا ہے۔ جن قوموں نے خدا کی اس کائنات کے اسرار کو جاننا چاہا، مشاہدہ کے لئے بیتاب رہے، دنیاوی علوم کے حصول میں سرگرداں رہے، وہ ترقی اور خوش حا لی کی دولت سے مالا مال ہوئے لیکن جن قوموں نے نظام قدرت کے رموز سے خوفزدہ ہوکر دنیاوی حکمتوں سے بیزاری کا مظاہرہ کیا، وہ قصر مذلت میںجا گرے اور مایوسی اور غلامی ان کا مقدر بن گئی۔
اسلامی معاشرہ کے عروج و زوال کا تعلق بھی براہ راست مسلمانوں میں دنیاوی علوم کی مقبولیت اور پھر بیزاری سے جڑا ہوا ہے۔ ظہور اسلام کے فوراً بعد ہی مسلمانوں نے دنیاوی علوم کو اپنا کر دنیاکے بیشتر علاقوں میں اپنی طاقت کا سکہ اس طرح بٹھادیا کہ یورپ کی قومیںباوجو د نفرت و عداوت کے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں صدیوں کامیاب نہ ہو سکیں۔اس وقت کے مسلمان علم و دانش کے علم بردار تھے۔ یورپ دعائوں کے ہتھیار سے لڑتے تھے۔ یورپ کا اعتما د صرف خدا پر تھا۔ مسلمان کا خداکی مدد پر بھی تھا لیکن خدا کے پیدا کئے ہوئے سرو سامان پر بھی تھا۔ ایک صرف روحانی قوتوں کا معتقد تھا، دوسرا روحانی اور مادی دونوں کا ۔ پہلے نے معجزوں کے ظہور کا انتظار کیا،دوسرے نے نتائج عمل کے ظہو ر کا۔معجزے ظاہر نہیں ہوئے لیکن نتائج عمل نے ظاہر ہوکر فتح و شکست کا فیصلہ کردیا۔
جب بارہویں صدی میں مسلمانوں نےpetrary نام کے نئے ہتھیار بنائے جن میں مٹی کا تیل بھر دیاجاتا تھا اورجودشمنوں پرآگ برساتے تھے۔ چنانچہ ان سے حملہ کرکے جارج لوئس کی فرانسی فوج کے ٹھکانوں کو جلا کرخاکستر کردیا گیا۔ اس ہوائی حملہ سے فرانسیسی افواج اتنے ہراساں ہوگئے کہ Lord Walter نے مایوسی اور بے بسی کی حالت میں اپنے فوجیوں کر مشورہ دیا کہ’’جونہی مسلمان آگ بان چلائیں، ہمیں چاہئے کہ گھٹنوں کے بل جھک جائیںاوراپنے نجات دہندہ خداوندسے دعائیں مانگیںکہ اس مصیبت میںہماری مدد کرے۔ یہ فرانسیوں کا خوش اعتقادانہ یقین و ہم سے زیادہ نہیں تھا کیونکہ با لآخروہ کوئی بھی دعا سود مند ثابت نہ ہوئی اور انہیں شکست کا منہ دیکھنا پڑا ۔ سائینسی علوم کی بنیادپرنئے طریقوں سے جنگی معرکوں میں دشمنوں کوزیر کرنے اوراپنے معاشرہ کو محفوظ رکھنے کا سلسلہ اسلامی دنیا میں ساتویں صدی عیسویں سے ہی شروع ہوگیا جو کئی سوسال بڑی شد و مدسے جاری رہالیکن افسوس کہ ایک دور ایسابھی آیاجب مسلمانوں میں علم سے بیزاری اس حد تک بڑھی کہ ان کاحال وہی ہوگیا جو ساتویں صدی سے چودھویں صدی تک یورپی قوموں کا تھا۔ اب مسلمان دعائوں پر زیادہ انحصار کرنے لگا اورعلم اور عمل کو بے معنی قرا ر دینے لگا۔
مولانا آزاد اس رویہ پر اپنے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوتے رقمطرا ز ہیں ’’ اب دونوں جماعتوں مغرب اور مشرق کے متضاد خصائص اسی طرح نمایاں تھے جس طرح صلیبی جنگ کے عہد میں رہے اور جو جگہ مسلمانوں کی تھی ،اس سے اب یورپ نے اختیار کر لیا تھا‘‘ ۔مسلمانوں کی اس ذہنی اور فکری تبدیلی کا نتیجہ یہ تھی کہ جب مصر پر نپولین نے حملہ اٹھارویں صدی اور بخارا پر انیسویں صدی میں روسیوں نے حملہ کیاتومسلمانوں نے ان جنگی معرکوں میں اپنی قوت پر انحصارکرنے کے بجائے دعائوں پر تکیہ کیالیکن ان کا حشر و ہی ہوا جو کبھی صلیبی جنگوں میں یورپین قوموں کا ہوا تھا۔ انیسویں صدی کے اوائل میں جب روسیوں نے بخارا کا محاصرہ کیا تو امیر بخارا نے حکم دیاکہ تمام مدرسوںاور مسجدوں میں ختم پڑھا جائے۔ ادھر روسیوں کی قلعہ شکن توپیں شہر کاحصار کر رہی تھی، ادھرلوگ ختم کے حلقوں میںبیٹھے یا مقلب القلوب کے نعرے بلند کر رہے تھے۔آخر وہی ہواجو ایک ایسے مقابلہ کا نکلنا تھا جس میں ایک طرف گولہ بارود ہو اوردوسری طرف ختم ۔دعائیں ضرور فائدہ پہنچاتی ہیں مگر انہی کو جو عزم و ہمت رکھتے ہیں ،بے ہمتوں کے لئے وہ ترک عمل اور تعطل قوی کا حیلہ بن جاتی ہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ سائینس کی تاریخ بغیر اسلامی دور کے سائنسی تحقیقی کاموں کے تذکروں کے مکمل ہی نہیں مانی جا سکتی ہے۔ یورپین سائنس دان او رمورخین اس رائے پر متفق ہیں کہ اگر مسلمانوں نے عہد وسطیٰ میں زبردست اور حیرت انگیز سا ئنسی کارنامے نہ انجام دئے ہوتے تو انیسویں صدی کا سائنسی انقلاب ممکن نہ تھا۔انیسوی صدی کے دور سے ہی بقول سر سید احمد مسلمانوں نے اجتہادکادروازہ بند کرکے محض تقلید کرتے رہنے سے اسلام اور خود مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچا یا ۔سچے اسلام کیلئے تقلید سنکھیا سے بھی زہر قاتل ہے۔
جہاں تک قرآن مجید کاتعلق ہے تو اس میں خدا تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ دنیا سے اپنا حصہ نہ بھولو۔ مسلمان کو جب تک یہ قرآنی حکم یاد رہا ،وہ ساری دنیا پر غالب تھا اور اس کے غلبہ کو دیکھ کر دنیا کی غیر مسلم قومیںیہ محسوس کرتی رہیں کہ دین اسلام یقینا ایک ایسا مذہب ہے جو علم کو فریضہ کا درجہ دیتا ہے اور ہر مومن سے کائنات پر غلبہ پانے کی کوششوں کا حساب چاہتا ہے ۔ مسلمانوں کارجحان علم و آگہی ایک ہزار سال تک جاری و ساری رہا۔ چنانچہ اس دورمیں اس نے ترقی کی بڑی منزلیں طے کیں اوردوسری قوموں کی نظر میں معززبنا رہا لیکن جب اس نے قرآنی ارشادات کی نئی تاویلات پیش کرتے ہوئے احکامات ربانی کو بھلا دیا،دنیا کوبے ثبات کہہ کر اس سے ناطہ توڑ لیا اورذات میں جاگراتو مسلمانوں کے اس رویہ پر یورپ کے غیر مسلم د انشوروںنے خوب مذاق اُ ڑایا اور طنزیہ تبصرے کئے جبکہ مسلم دانشورخون کے آنسورونے پرمجبور ہوئے۔ ان مسلم دانشوروں میں ایک نام اقبال کا ہے جنھوںنے اپنی شعری تخلیقات میں اپنے کرب و تڑپ کا اظہار کیا اور مسلمانوں کے اس رویہ کو ابلیس کی کامیابی سے تعبیر کیا۔ ارمغان حجاز کے تحت لکھی گئی نظم’’ ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ میں ابلیس کی زبان سے مسلمانوں کو اس طرح ذلیل و خوار کرتے ہیں ؎
خیر اسی میں ہے قیامت تک رہے مومن غلام
چھوڑ کر اوروں کی خاطر یہ جہاں بے ثبات
ابلیس اپنی کامیابی پرنازاں ہو کر مسلمانوں کی حالت زار پریوںخوشی کا ا ظہار کرتا ہے ؎
مست رکھو ذکر و فکر صبح گاہی میں اسے
پختہ تر کردو مزاج خانقا ہی میں اسے
اقبال مسلمانوں کے زوال کا سبب ان کے غیرعقلی رجحان کوسمجھتے ہیں۔ان کے نزدیک مسلمان دنیا کوبے ثبات سمجھ کر اس میں کوئی دلچسپی لینا نہیں چاہتا ہے ۔ وہ شعر و تصوف اور خانقاہی سر گر میوںمیں پنا سارا وقت صرف کرتا ہے۔ مسلکی اختلافات میں مبتلا ہوکروہ دینی مسائل کی نئی نئی تاویلات پیش کرتا ہے اور اس طرح اختلافات کو جنم دیتا ہے ۔ افسوس مسلمان جن غیر ضروری کاموںمیں اُلجھا ہوا ہے،ان کو وہ دینی کام سمجھتا ہے اور دنیاوی کاموں سے بیزارنظر آتا ہے۔ اس میں نہ دنیاوی کاموں میں حصہ لینے کی خواہش ہے اور نہ جذبہ اور دین کی نئی تاویلات ڈھونڈنے کو بڑا کارنامہ تصور کرتا ہے ۔اقبال سے قبل ہی یورپ کے غیر مسلم دانشوروں نے مسلمانوں کی پستی اور زوال پر بڑے ذلت آمیز تبصرے کئے تھے۔ ایسا ہی ایک تبصرہ پروفیسرآر مین ویمیری نے ایک مضمون میں لکھا تھاجس نے مولانا آزاد کوکافی تکلیف پہنچائی تھی۔ پروفیسرو یمیری ہنگری کا رہنے والاتھا۔ وہ کافی عرصہ ترکوں کا خیر خواہ رہا ۔ اس نے مسلمانوں کے ساتھ زندگی کا بڑاحصہ گزارا لیکن آخر میں وہ زوال پذیر مسلمانوں کے رویہ سے سخت مایوس ہوا،اور ان سے بڑی حد تک نفرت کرنے لگا ۔چنانچہ وہ اپنے مضمون میں اس طرح رقم طراز ہیں؛’’مسلمانوں کی حمایت سے اب کو ئی فائیدہ نہیںہے۔ وہ عنقریب فنا ہو جائے گا۔ او را س کو فنا ہی ہو جانا چاہیے کیونکہ وہ ایسی قوم ہے جس میں نہ طبیعات کا وجود ہے اورنہ طبیعات کو وہ محسوس کر سکتے ہیں۔ ان کو صرف خدا کی عبادت گزاری آتی ہے مگر دنیا میں کام کرنا ا ن کے بس کی بات نہیں۔ تمام انسانی حس و شعور ان سے سلب ہو چکے ہیں۔ صرف ایک دینی جذبہ ان میں باقی ہے۔ نہ ان کا کوئی مسلک اورکائنات میں کوئی مقصد‘‘۔
ویمیری کے تبصرے کو پڑھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اقبال نے ابلیس کی زبان سے1936 میں ویمیری کے1891 کے خیالات کو نظم کیا ہے۔ہاں ایک فرق دونوں میں نمایاں ہے۔ ویمیری کی تحریروں میں حقیقت بیانی کیساتھ ساتھ اسلامی دشمنی کار فرما تھی جبکہ اقبال کی نظم میںحقیقت پسندی کے ساتھ ساتھ کرب،بے چینی ، لاچاری اور کسی حد تک غصہ کا اظہار تھا۔
مسلمانوں کے زوال کا دور پندرہویں صدی میں شروع ہوگیا تھالیکن یہ زوال انیسویں صدی تک مکمل ہو چکا تھا ۔ڈرلگتاہے کہ اگراس زوال کا سلسلہ اکیسویں صدی کے آخر تک بھی چلے اور مسلمان حقوق اللہ اور حق العبا د کو ساتھ لے کر نہ چل سکے، علم دین اور علم دنیا کو اپنے لئے ضروری نہ سمجھ سکے، دینی مشغولیات میں پورا وقت دیتے ہوئے دنیا کو بے ثبات کہہ کر ٹھکرانے لگے، شیعہ، سُنی، وہابی،دیو بندی ، بریلوی اوراہل الحد یث کے ناموںسے اپنی صفوںکوعلیحدہ علیحدہ جماتے رہے،فروعی باتوں کوبنیادبناکرایک دوسرے پر کفر کافتویٰ عائدکرتے رہے ، جدید علوم سے دوری برقراررکھتے رہے تو پھر امت مسلمہ کی خیر نہیں ہے۔
آج کے مسلم سماج میں یورپ کے طرزکے نشاۃ ثانیہ کی شدید ضرورت ہے جہاں دین کی اہمیت کوبرقراررکھتے ہوئے عصری علوم کواہم مقام دیاجاسکے۔ سائنس او رٹیکنالوجی کی ترقی کولازمی قراردیا جائے۔ شخصی اقتدارکوختم کرکے عوامی خواہشات کی قدر کی جائے۔ سماج میں عالموں کی قد رہواو رعالموں کے معنی جدیدعلوم پر قدرت رکھنے والو ںکے ہوں نہ کہ صرف دینی علوم کے جاننے والے۔
اسلامی نشاۃثانیہ کامقصد مسلمانوںمیںجذباتیت کوکم کرنا، نعرہ بازی سے گریز کرنا اور اقتصادی سرگرمیوں میںمصروف رہنا چاہئے۔اس بات کا علم ساری امت کو ہونا چاہئے کہ مادی دنیا میں غلامی اورتذلیل کی وجہ دین سے دوری اللہ اوررسولؐ سے محبت کی کمی نہیں جس کاذکر اکثر دینی رہنماکرتے ہیں اور مسلمانوں کواحساس گناہ و شکست اورDepression میں مبتلا کرتے ہیںبلکہ اس کی اصل وجہ اقتصادی بدحالی ہے جس سے صرف ا ورصرف عمل پیہم سے ہی دور کیاجاسکتا ہے ،یعنی سائنسی کامرانیوںکاعمل ۔ یہ بات سب کے علم میں ہونی چاہئے کہ باوجودتیل کی دولت کے، تقریباً باون (۵۲) ممالک پر مشتمل ساری مسلم دنیاکی قومی آمدنی GDP بمشکل ڈیڑھ ہزا رملین ڈالر ہے جبکہ فرانس کی GDP اس سے کئی گنازیادہ ہے۔
مغرب نے اپنی اصل طاقت وقت کے تقاضاکا لحاظہ کرنے اورترویج علم اور اس میں فروغ حاصل کرکے بنائی ہے۔انہوںنے علم سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ترقی وقوت کی نئی راہیں تلاش کیںاور اقتصادی طاقت پیدا کرنے کی کو شش کی۔آج اہل دین ( مسلمان) قدیم اختیار کردہ ذرائع کومقاصد کا درجہ دینے لگے ہیںاور بہتری کی جوصورتیں پیداہورہی ہیں،ان کو اختیار کرنے سے گریز کرنے لگے ہیں۔
اب ضرورت ہے کہ مسلمان اپنی بھولی ہوئی تحقیقی روش کو اپنا ئیںاورمفید وبامقصد طریقہ پر سائنس و صنعت کوفروغ دیں اور علمی و سائنسی سرگرمیوں کی حوصلہ افزئی کریں اورماہرین فن وسائنس دانوں کی فنی و علمی تحقیقات کا جائز ہ لیں اور ان سے استفادہ کرکے تحقیق وجستجواور تجربہ و مشاہدہ کے میدان میں آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔
پتہ۔ گو سو ، پلوامہ کشمیر
رابطہ۔ 9697713765