سرینگر//جموں کشمیر ہائی کورٹ نے سابق وزیراعلیٰ اور پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی کی اُنہیں پاسپورٹ جاری کرنے کی عرضی پرحکومت سے ردعمل طلب کیا ہے۔جسٹس علی محمد ماگرے نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مرکزی حکومت کی وزارت خارجہ کو سیکریٹری کے ذریعے ،جموں کشمیر حکومت کو کمشنر سیکریٹری محکمہ داخلہ کے ذریعے اورایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس سی آئی ڈی ،ریجنل پاسپورٹ آفیسر سرینگر اور ایس ایس پی سرینگر کو نوٹس جاری کیں۔ اسسٹنٹ سالسٹر جنرل آف انڈیاطاہر شمسی نے وزارت خارجہ اور ریجنل پاسپورٹ آفیسرسرینگر اورایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بی اے ڈار نے کمشنر سیکریٹری داخلہ محکمہ،ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس سی آئی ڈی اور ایس ایس پی سرینگر کی ایما پرنوٹس وصول کئے۔عدالت نے عرضی پر 23مارچ تک اعتراضات داخل کرنے کی ہدایت دی۔محبوبہ مفتی نے سینئر ایڈوکیٹ جہانگیر اقبال گنائی کے توسط سے عدالت کو بتایا کہ ان کا پاسپورٹ کی معیاد31مئی2019کوختم ہوئی اورانہوں نے گزشتہ سال11دسمبر کو پاسپورٹ جاری کرنے کیلئے ریجنل پاسپورٹ دفتر میں درخواست دی۔انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ کے سرکیولر کے مطابق کسی بھی شخص کو 30روز کے اندر پاسپورٹ فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تین ماہ گزرنے کے باوجود انہیں پاسپورٹ جاری نہیں کیا گیا۔ عرضی گزارنے کہا کہ پاسپورٹ افسر کی ویب سائٹ کا جائزہ لینے پرانہیں اپنے پاسپورٹ کے بارے میں پتہ چلا کہ ایس پی سرینگر کے حدود میں متعلقہ تھانے میں اُسے فزیکل ویری فیکیشن کیلئے التواء میں رکھا گیا ہے ۔انہوں نے13فروری کوسینئر سپرانٹنڈنٹ پولیس سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ ان کے پاسپورٹ کی رپورٹ پاسپورٹ دفتر کو بھیجی جائے۔لیکن تاحال ان کے پاسپورٹ کااسٹیٹس ویب سائٹ پر وہی دکھایا جاتا ہے جو پہلے تھا۔انہوں نے عرضی میں کہا کہ ان کے پاس عدالت سے اس بارے میں رجوع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ اسسٹنٹ سالسٹر جنرل آف انڈیاشمسی نے عدالت کو مطلع کیا کہ پاسپورٹ دفتر کو 3مارچ کو ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس سی آئی ڈی سے ایک کمیونیکیشن کے ذریعے رپورٹ موصول ہوئی ہے ۔شمسی نے عدالت میں اُس کمیونیکشن کی نقل بھی پیش کی جو عدالت نے ریکارڈ میں جمع کی ۔قابل ذکر ہے کہ عدالت نے صاف کیا کہ عرضی کوالتواء میں رکھے جانے سے پولیس کو ویری فیکیشن کے عمل کو تیز کرنے میں کوئی حرج نہیں ہونے دینا چاہیے ۔اپنی عرضی میں سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ پولیس ویری فیکیشن کیلئے ان کے پاسپورٹ کی اجرائی میں تاخیر کی جاہری ہے ۔انہوں نے آئین کی دفعہ21کے تحت ان کے غیرملکی دورے کے حق کی خلاف ورزی کرنے والے افسروں کیخلاف کارروائی کی جانی چاہیے ۔اس دوران عدالت نے محبوبہ مفتی کی والدہ گلشن نظیرکو پاسپورٹ اجراء کرنے کی الگ عرضی پر علیحدہ نوٹس جاری کی۔