سرینگر // شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ کے شعبہ یورولوجی نے گردوں کی کمی اور بنیادی ڈھانچہ کومضبوط کرنے کیلئے 4سال قبل سکمز انتظامیہ اور سرکار کو نیفرو یورو سینٹر(Nephro-Uro Center) کے قیام کا منصوبہ پیش کیا تھا لیکن چار سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی منصوبہ کو منظوری نہیں ملی۔گردوں اور بنیادی ڈھانچے کی کمی کی وجہ سے کڈنی ٹرانسپلانٹ یونٹ میں ہفتہ میں صرف ایک ہی مریض کے گردے تبدیل کئے جاتے ہیں جبکہ 60مریض ابھی بھی گردوں کی پیوندکاری کا انتظار کررے ہیں۔ سکمز صورہ میں شعبہ نیفرولوجی کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ سکمز میں ہر ہفتہ ایک مریض کے گردوں کی پیوند کاری ہوتی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ 50سے 60مریض ابھی بھی گردے تبدیل کروانے کی باری کا انتظار کررہے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ میں خود او پی ڈی میں مقررہ دن پر 120مریضوں کو دیکھتا ہوں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ جہاں ڈاکٹر کو صرف 30سے 60مریض دیکھنے کا وقت ملتا ہے ، اسی وقت ڈاکٹر کو 120مریض دیکھنے پڑتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا’’ شعبہ میں عملہ کم لیکن کام زیادہ ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ گردوں میں مبتلا مریضوں کو Dailysisیا پھر ٹرانسپلانٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا ’’ عملہ کی کمی اور بنیادی ڈھانچہ کی کمی کی وجہ سے ہم صرف ہفتہ میں ایک ہی مریض میں گردوں کی پیوندکاری کرتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ عملہ کی کمی اورمریضوں میں گردوں کی پیوندکاری کیلئے اعضاء حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے‘‘۔ سکمز صورہ میں شعبہ یورولوجی اور کڈنی ٹرانسپلانٹ یونٹ کے سربراہ ڈاکٹر محمد سلیم وانی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’گردوں کی پیوندکاری کیلے امریکہ میں بھی مریضوں کو 3سے 4سال تک کا انتظار کرنا پڑتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ گردوں کی دستیابی اور بنیاڈی ڈھانچہ کی اشد ضرورت ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ بنیادی ڈھانچہ کی کمی کو پورا کرنے اور پیوندکاری کیلئے انسانی اعضاء کو دستیاب رکھنے کیلئے سکمز انتظامیہ اور سرکار کو 4سال قبل’’ نیفرو یورو سینٹر‘‘ Nepro-Uro Centr) ( کے قیام کا منصوبہ پیش کیا لیکن ابھی تک سرکار کی جانب سے اس کو منظوری نہیں ملی‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ منصوبہ میں گردوں اور دیگر انسانی اعضاء کی پیوند کاری کیلئے Deceased Donor Transplant کے جانب جانے کی بھی اجازت طلب کی گئی ہے‘‘۔ ڈاکٹر سلیم وانی نے کہا ’’Deceased DonorTransplantکے تحت ایسے افراد کے جسمانی اعضاء کو پیوندکاری کیلئے نکالاجائے گا جن کے بچنے کی کوئی اُمید باقی نہیں ہوتی‘‘۔ ڈاکٹر سلیم وانی نے کہا ’’ گردے، جگر، دل اور دونوں آنکھیں رضاکارنہ طور پر عطیہ کرکے 7لوگوں کی جان بچائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا ’’ٹریفک حادثات کے دوران ایسے بھی افراد اسپتال پہنچتے ہیں جن کا دماغ مردہ ہوتا ہے اور ان کے بچنے کی کوئی اُمید باقی نہیں ہوتی ، ایسے مریضوں سے جسمانی اعضاء حاصل کرکے 7لوگوں کی جان بچائی جاسکتی ہے جس سے نہ صرف ٹرانسپلانٹ کیلئے جسمانی اعضاء دستیاب ہونگے بلکہ مریضوں کو بھی پیوندکاری کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔