سرینگر //پرنسپل سیشن جج سرینگر عبدالرشید ملک نے جاوید احمد بٹ ولد عبدالغنی بٹ ساکنہ کرمشورہ خاصاحب بڈگام کو گلشن اختر دختر غلام حسن صوبی ساکنہ کرمشور کی موت کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اُسے دفعہ 302کے تحت مجرم قرار دیا ہے۔ کیس کی تفاصیل کے مطابق 3جون 2014کو پولیس اسٹیشن خاصاحب کو یہ اطلاع ملی تھی کہ گلشن اختر کی لاش کرمشورہ میں ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اسکی موت لٹکنے سے ہوئی ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس نے دفعہ 302کے تحت کیس درج کیا اور تحقیقات کا آغاز کیا ۔ تحقیقات کے دوران اُس جگہ کا نقشہ تیار کیا گیا جہاں خاتون کی لاش برآمد ہوئی اور اس کی تصاویر لی گئیں جبکہ جائے واردات پر موجود خون کے دھبوں سے نمونے بھی فارنسک ٹیم نے تشخیص کیلئے حاصل کئے۔ اس موقع پر ایک کمبل بھی بر آمد کی گئی جس میں لاش کو بند کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کے کپڑے اور سکارف پر لگے خون کے نمونے بھی حاصل کئے گئے۔ رپورٹ میں گیا گیا ہے کہ پورسٹ مارٹم کے بعد لاش کو تدفین کیلئے لواحقین کے حوالے کردیا گیا جبکہ سکارف اور خون کے نمونوں کو تشخیص کیلئے ایف ایس ایل بھیجا گیا ۔اس موقع پر گواہوں کے بیانات بھی قلم بند کئے گئے۔حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے 21گواہوں کے بیانات قلمبند کئے۔ عدالت نے کہا کہ اس کیس میں موجود شواہد ٹھوس ہیں اور اسلئے عدالت کا فیصلہ بھی صحیح ہونا چاہئے۔ عدالت نے کہا کہ تمام شواہد ملزم کے خلاف ہے اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ اس نے جرم کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ہمیں پہلے شواہد کی جانچ پڑتال کرنی ہے اور پھر اس پر کوئی حتمی فیصلہ لینا ہے جو تمام شواہد کو مد نظر رکھنے کے بعد ہی لیا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ تمام شواہد پر نظر ڈالنے کے بعد یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مجرم کا مقصد قتل کرنا ہے کیونکہ وہ پیار میں ناکام ہوگیا تھا ۔ عدالت نے کہا کہ قتل کا مقصد لڑکی کے گھروالوں کی جانب سے مرحوم لڑکی کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دینے سے انکار تھا ۔ عدالت نے کہا کہ مجرم نے مقتول لڑکی کے گلے میں سکارف ڈال کر پھانسی دی اور تب تک دباتا رہا ، جب تک نہ اسکی موت واقع ہوئی ۔ عدالت نے کہا کہ قتل کا یہ معاملہ دفعہ 302کے تحت آتا ہے اور اس کو دفعہ 302کے تحت ہی سزا دی جائے گی۔