اننت ناگ //ڈورو شاہ آباد میں ایک سرکاری پرائمری سکول کے بچوں نے جمعرات کو والدین کے ہمراہ اسکولی عمارت کی عدم دستیابی کی وجہ سے سکول کو پر خطر جگہ منتقل کرنے کیخلاف ایس ڈی ایم دفتر ڈوروکے سامنے احتجاج کیا۔ جمعرات کی صبح علاقے میں قائم ایک سرکاری پرائمری سکول کے بچوں نے والدین کے ہمراہ اسکولی عمارت کی عدم دستیابی کی وجہ سے سکول کو سنچک گائوں منتقل کرنے کیخلاف ایس ڈی ایم دفتر ڈوروکے سامنے احتجاج کیا۔ احتجاجی والدین اور طلباء کا کہنا تھا کہ محکمہ تعلیم نے اُن کے گائوں میں قائم اسکول کو قریباً 1کلو میٹر دور قائم دوسرے اسکول میں منتقل کیا جس کی وجہ سے ان کے بچوں کو پر خطر راستے سے اسکول جانا پڑتا ہے جہاں جنگلی جانور اکثروبیشتر منڈلاتے رہتے ہیں۔احتجاج میں شامل والدین کا کہنا تھا کہ جب رہبر تعلیم اسکیم وجود میں آئی تو محکمہ نے گاؤں میں نجی عمارت میں اسکول کا کام کاج شروع کیا تاہم محکمہ نے اب اس اسکول کو سنچک منتقل کیا ہے جو ایک جنگلی علاقے میںہے اور یہاں جنگلی درندوں کا اکثر وبیشتر آنا جانا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ اسکول پہنچے سے پہلے طلاب کو چھوٹی سی ندی سے گزرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے انہیں تشویش لاحق ہے۔احتجاجی طلبہ اور والدین نے مانگ کی کہ اسکول کو بستی میں فوری طور واپس منتقل کیا جائے۔ اس ضمن میں زونل ایجوکیشن آفیسر قاضی گنڈ منیرہ جی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس ا سکول کو عمارت دستیاب نہ ہونے کے سبب منتقل کرنا پڑا ہے تاہم بچوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ پر نظرثانی کیا جائے گا۔