’’اگر دہلی گورنمنٹ کا مطلب لیفٹیننٹ گورنر ہے تو پھر دہلی کے لوگوں کیساتھ کیا ہو گا؟ دہلی میں اسمبلی انتخابات کروانے کا کیا فائدہ؟ لوگ لمبی لمبی قطاروں میں گورنر کو مضبوط بنانے کے لئے نہیں بلکہ اپنے نمائندگان کو بااختیار بنانے کے لئے کھڑے ہوئے اور ووٹ ڈالے، لیفٹیننٹ گورنر کو زیادہ اختیارات دینا دہلی کی جنتا کیساتھ دھوکہ دہی ہے۔مرکزی سرکار دہلی حکومت سے پاور چھیننا چاہتی ہے تاکہ راجدھانی میں امت شاہ اور بی جے پی کا راستہ ہموار ہو سکے۔ دہلی اسوقت ترقی کی راہ پر رواں دواں ہے لیکن مرکز کو یہ ہضم نہیں ہو رہا ۔یہ بل دیش دروہی ہے، ہماری حکومت چاہتی ہے دہلی کا نوجوان سنگا پور کے نوجوان کی طرح بن جائے وغیرہ ‘‘۔ یہ فرمودات و ارشادات وزیر اعلیٰ دہلی جناب اروند کجریوال اور ان کی پارٹی کے سینئر عہدیداران کے تھے ۔ یہ فرمودات عام آدمی پارٹی نے سترہ مارچ (بدھوار) کو جنتر منتر سے ایک احتجاج کے دوران فرمائے۔ ان موتی جیسے الفاظ کا پس منظر سوموار یعنی پندرہ مارچ کا ایک بل ہے ۔قومی راجدھانی خطہ دہلی ترمیمی بل کے نام سے اس بل کو وزیر مملکت برائے داخلہ جی کشن ریڈی نے پیش کیا۔اس بل کا اصل مقصد جی این سی ٹی ایکٹ 1991 میں ترمیم کر کے دہلی کی قانون ساز اسمبلی ،جو عوامی ووٹوں سے منتخب ہوتی ہے، کے اختیارات کم کرنا ہیں ۔ لوک سبھا میں یہ بل پاس بھی ہو گیا۔ یہ بل قانون ساز اسمبلی کے بجائے لیفٹیننٹ گورنر کو اختیارات دینے کی بات کرتا ہے۔وزیر اعلیٰ دہلی اور انکی پارٹی نے اسکی سخت مخالفت کی جو تا حال جاری ہے۔
مجوزہ بل سے دہلی میں کافی ہل چل دیکھنے کو ملی ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس نے بھی ایل جی کے اختیارات بڑھانے کو جمہوریت کا قتل قرار دیا ہے ۔ وفاق کو کمزور کرنے پر عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں کی طرف سے احتجاج و سخت ناراضگی دیکھ کر میں فوراً ماضی قریب میں چلا گیا ۔بات ہے پانچ اگست 2019 کی جب مرکزی حکومت نے اسی طرح جموں و کشمیر سے 370 ہٹانے کا بل پیش کیا تھا۔ یہ بل پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں وزیر داخلہ امت شاہ نے پیش کیا جو بعد میں لوک سبھا سے پاس ہو کر صدر کی منظوری کے بعد جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ کہلایا ۔اس میں نہ صرف 370 و 35 اے کے ہٹانے کا فرمان تھا بلکہ اس کے ذریعے جے اینڈ کے کو دو لخت کر دیا گیا تھا۔ اس کاروائی کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے پہلا رد عمل بذریعہ ٹویٹ وزیر اعلیٰ دہلی اروند کجریوال کی طرف سے آیا۔ آپ نے جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن بل کی حمایت کرتے ہوئے اسے خوش آئند اور جموں و کشمیر کی ترقی سے تعبیر کیا۔ جناب کا یہ ٹویٹ پڑھ کر میں تو ششدر ہی رہ گیا ۔ حیرانگی کی وجہ یہ تھی کہ کجریوال جو خود دہلی کو ریاست کا درجہ دلانے کی بات کرتے آئے ہیں اور فیڈرل ازم کی مضبوطی پر بھاشن دیتے نہیں تھکتے، نے اس بل کو کیسے سپورٹ کر دیا۔آئین ہند میں دفعہ 370 اور 35 اے تاریخی پس منظر رکھتے ہیں اس لئے کوئی بھی ذی شعور ان کو ختم کرنے کا سپورٹ نہیں کر سکتا۔ انکا 370 کیساتھ عناد الگ رکھتے ہیں لیکن جموں و کشمیر کا درجہ گھٹا کر یونین ٹریٹری بنانا اور لداخ کو ریاست کے بجائے یو ٹی تک ہی محدود رکھنا کجریوال کو کیونکر اچھا لگ گیا، یہ سب سمجھ سے بالاتر تر تھا، ابھی تک یہ لاجک سمجھ نہیں آیا۔ اب جب ان پر خود گذر رہی ہے تو بڑا واویلا ہے۔وہ پنجابی کا ایک شعر ہے جسکا ترجمہ یوں ہے کہ دشمن اگر مر جائے تو اس بات پر خوشی نہیں کرنی چاہئے، ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب دوست بھی مر جائیں گے ۔ہم تو کجریوال کے خدانخواستہ دشمن بھی نہیں تھے کہ جموںوکشمیر کو ڈائون گریڈ کرنے پر مرکزی حکومت کا ساتھ دیا گیا۔
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہونی چاہیے کہ ہندوستان جیسے ملٹی کلچرل ملک سینٹرالائزیشن کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ آئین لکھنے والوں نے اسی بات کو ملحوظ خاطر رکھا تھا۔ساتویں شیڈول میں یونین اورسٹیٹس کی پاور واضح طور پر بیان کی گئی ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے آئے روز نت نئے ایسے بل لائے جاتے ہیں جو ریاستوں کی پاور کو کمزور کر رہے ہیں ۔ایک طرف تو وزیر اعظم کواپریٹیو فیڈرل ازم کے بھاشن جھاڑتے ہیں لیکن دوسری جانب ریاستوں کے اختیارات کو کمزور کرنے کا عمل جاری ہے۔ ایسے اقدامات مرکزی حکومت کی نیت کو ظاہر کر رہے ہیں کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے ہیںاوردکھانے کے اور ۔ بھا جپا پارٹی کے بھاشنوں اور عمل میں کھلا تضاد ہے۔بہتر جمہورہت کے لئے اختیارات کا نیچے تک جانا ضروری ہے۔آئین ہند بھی یہی تقاضا کرتا ہے ۔مرکزی حکومت کی طرف سے ایسے ریاستی اسمبلیوں سے اختیارات چھیننا اچھی بات نہیںہے۔ کجریوال کی طرف سے دہلی اسمبلی کو با اختیار بنانے کی مانگ اور لیفٹیننٹ گورنر کے پاور کو مزید بڑھانے کے خلاف احتجاج بجا ہے۔ یہاں مسٹر کجریوال کو یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ آپ نے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی پوزیشن کو ختم کرنے پر جس طرح خوشی کا اظہار کیا تھا ہم ایسا نہیں کریں گے ۔دہلی کی قانون ساز اسمبلی کے اختیارات کم کرنے کے بجائے مزید مضبوط بنانے چاہئیں۔ یہ کڑوا سچ ہے کہ اگر ریاستوں کو گورنرز کے ذریعے ہی چلانا ہے تو پھر اسمبلی الیکشنز برائے نام ہی ہوئے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔ جموں و کشمیر کے لوگوں سے انکا آئینی حق چھیننے سے پہلے منتخب حکومت کو گرایا گیا تھا – 05 اگست کی رات کو جموں و کشمیر میں اس طرح کی ایمرجنسی نافذ تھی کہ مختلف قسم کی چہ میگوئیاں جنم لے رہی تھیں۔سی آر پی ایف کے دستے جگہ جگہ تعینات تھے۔ انٹرنیٹ مکمل بند ہوگیا تھا۔دہلی والے حالیہ کیس میں ابھی اس قسم کی کوئی صورت حال نہیں ہے ۔حکومت قائم ہے، کوئی کرفیو نہیں ہے اور عوام بھی اپنے گھروں میں محصور نہیں ہیں ۔اپوزیشن کو حکومت کی طرف سے ہندوستانی فیڈرل ازم کو کمزور کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنانا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ دہلی کو مرکز کے حالیہ اقدام سے سبق سیکھتے ہوئے جموں و کشمیر کی عوام سے معافی مانگنی چاہیے ۔
(کالم نگار کا تعلق پونچھ جموں وکشمیر سے ہے اور آپ جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی میں ریسرچ سکالر ہیں)
ای میل۔ [email protected]