چند روز قبل بینک ملازمین کی دو روزہ ہڑتال رہی۔ ہڑتال اس معنی میں عدیم المثال تھی کہ دس لاکھ سے زیادہ ملازمیں اس میں شامل ہوئے ور اس معاملے میں بھی عدیم المثال تھی کہ اتنی کامیاب ہڑتال کا ذکر یا تو قومی میڈیا میں غائب تھا یا نہایت سرسری طور پر تھا ۔ یہ ہڑتال یونائیٹد فورم آف بینک یونین کی طرف سے بلائی گئی تھی، اور تقریباََ ساری یونین اس میں شامل رہیں۔ دو دنوں کی ہڑتال میں بینکوں کا زیادہ تر کام کاج رکا رہا یہاں تک کہ اے ٹی ایم بھی خالی ہو گئے ہزاروں کروڑ روپے کے چیکوں کی کلیرنگ بھی نہیں ہو سکی ۔ ہڑتال بینکوں کی نجکاری کی وجہ سے اپنی ملازمت کو لیکر اندیشوں میں مبتلاء ملازمین کر رہے تھے۔ہڑتال موجودہ حکومت کو بینکو ں کی نجکاری کے ارادے سے باز رکھنے کی کوشش کے طور پر کی گئی تھی حالانکہ حکومت کا رویہ دیکھتے ہوئے اس کوشش کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔
اب نظر ڈالتے ہیں آزادی کے بعد معاشی حالات کے تناظر میں بینکوں کے کردار پر۔ آ زادی کے بعد ملک کی معاشی حالت بہتر نہیں تھی۔سرکار کی کوششوں کے باوجود کچھ زیادہ کامیابی نہیں مل پا رہی تھی۔ اصل مسئلہ سرمائے کی فراہمی تھا۔ اس دور میں بینکنگ سیکٹر نجی زمرے میں تھا۔ اس وقت بینکوں کا پہلا مقصد نفع حاصل کرنا تھا۔لوگوں کی معاشی ترقی میں مدد کرناان کی ترجیحات میں شامل نہیں تھا۔انتظامی معاملات بھی بہتر نہیں تھے۔ کئی بینک بند ہو چکے تھے۔اور ان بینکوں میںلوگوں کی جمع پونجی ڈوب چکی تھی۔ ملک کے دور دراز دیہی علاقوں کی رسائی ان بینکوں تک نہیں تھی۔اس وقت کی حکومت معاشی ترقی کو رفتار دینے کے لئے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک بینک کی سہولت پہنچانا چاہتی تھی۔ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے ملک کے لئے ملی جلی معیشت یاmixed economy کا راستہ اختیار کیا ۔1955میں کئی پرائیویٹ اسٹیٹ بینکوں کا انضمام کر کے اور قومی ملکیت میں لیکر ایک بڑے بینک’ اسٹیٹ بینک آف انڈیا‘ کا قیام عمل میں آیا۔ اس کے بعد وزیر اعظم اندر ا گاندھی نے 1969 میںچودہ بڑے بینکوں کو قومیائے جانے کا فیصلہ کیا۔بعد میں 1980 میں مزید چھ بینکوں کو سرکاری تحویل میں لیا گیا۔ بڑے بینکوں کے قیام کی خاطر کچھ بینکوںکا آپس میں انضمام بھی کیا گیا۔
نیشنلائیزیشن کے بعد بینکوں کے حالات تیزی سے بدلے ۔ جہاں 1969 سے قبل بینکوں کی صرف آٹھ ہزار شاخیں تھیں، آج ان کی تعداد تقریباً سوا لاکھ ہے ۔ پہلے بینک صرف شہری علاقوں تک محدود تھے۔1975 میں حکومت نے دیہی علاقوں میں بینکنگ سہولت پہنچانے کی غرض سے ریجنل رورل بینک ایکٹ پاس کیا اور اس کے تحت علاقائی دیہی بینک یا گرامین بینک قائم کئے گئے۔ان کی آ ج تقریباً اٹھارہ ہزار شاخیں دیہی عوام تک بینکنگ کی سہولت پہنچا رہی ہیں۔ بینکوں کے نیشنلائیزیشن کا فیصلہ اس معنی میں تاریخی رہا ہے کہ اس کی وجہ سے ملک کے طول و عرض میں بینک کی شاخوں کا جال بن گیا۔معمولی سے معمولی آدی تک بینک کی رسائی ہوئی۔اگر نیشنلائیزیشن نہ کیا گیا ہوتا تو غالب امکان ہے کہ ملک کی دو تہائی آبادی آج بھی بینکنگ کی سہولت سے محروم ہوتی۔
نیشنلائیزیشن کے بعد بینکوں کو عوام تک سرکار کی فلاہی سکیموں کے فائدے پہنچانے کا کام دیا گیا۔ زراعت سے وابستہ چھوٹے قرضے ، کھاد اور آبپاشی کی سہولتوں ،ٹریکٹر وغیرہ کے لئے قرضے ،مویشیوں کے لئے ۔غرض کہ زراعت اور اس سے متعلق دیکر کاروبار جیسے ڈیری وغیرہ میں بہت ترقی ہوئی اور ملک خوراک کے معاملے میں خود کفیل ہو گیا۔ موجودہ حکومت جن دھن سکیم کے تحت کروڑوں کھاتے سرکاری بینکوں کے تعاون سے کھولنے میں کامیاب ہوئی۔کچھ منفی پہلو بھی سامنے آئے ۔بینکوں کے معاملے میں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی رہا کہ پچھلی تمام سرکاروں نے عوام کو خوش کرنے یا ووٹ حاصل کرنے کے لئے ایسے اعلانات کئے یا ایسی سکیمیں لاگو کیں جن کا بوجھ بینکوں کو اٹھانا پڑا۔قرض معافی اس کی سب سے بڑی مثال ہے ۔بینکوں پر کام کا بوجھ بڑھنے کی ایک اور بڑی وجہ یہ بھی رہی کہ حکومت نے کرپشن کو کنٹرول کرنے کے نام پر ہر سکیم کے لئے بینک کے کھاتے کے ذریعہ رقم کی ادائیگی کا طریقہ اپنایا۔ بیوائوں ،ضعیفوں، ناداروں اور معذوروںکی پینشن،سکول کے بچوں کے و ظیفے، منریگا کی مزدوری وغیرہ۔ ان سارے فلاہی اور غیر نفع بخش کاموں کے سلسلے میں سرکاری بینکوں میں کروڑوں کھاتے کھولے گئے ،بینکو ںکے وسائل ان کامو ں میں لگے، اس وجہ سے سرکاری بینک نفع حاصل کرنے میںپرایئویٹ بینکوں کا مقابلہ نہیں کر سکے۔ حکومت کے دبائو میں کارپوریٹ سیکٹر کو بہت بڑے بڑے قرضے دئے گئے جن میں سے بہت سے قرضے npa( این پی اے )میں تبدیل ہو گئے اور کچھ قرض دار ملک سے باہر فرار ہو گئے۔دیہی قرضوں میں بار بار قرض معافی کی وجہ سے کسان قرض کو ادا کرنے کے بجائے قرض کی معافی کا انتظار کرنا مناسب سمجھنے لگے ۔دئے گئے قرض سے بھی کم رقم پر سمجھوتے وغیرہ کی سکیموں کی وجہ سے لوگوں کی قرض واپسی میں دلچسپی کم ہوئی جس سے بینکوں کے این پی اے میں اضافہ ہوتا گیا ۔
اب آتے ہیں بینکوں کی نجکاری کی طرف۔ اس سال کے بجٹ اجلاس کے دوران وزیر خزانہ نے یہ صاف کر دیا تھا کہ سرکار نے دو سرکاری بینکوں میں اپنی حصہ داری فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایل آئی سی کا بھی پرائیویٹائیزیشن ہونا ہے۔انھوں نے بینکوں کے نام ابھی تک راز میں رکھے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ بینک کے زیادہ تر ملازمین مضطرب ہیں۔قیاس آرائی ہے کہ بینک آف مہا راشٹر،بینک آف انڈیا، انڈین اورسیز بینک اور سینٹرل بینک آف انڈیا کی نجکاری متوقع ہے۔ اس کے علاوہ سرکار نے معتدد بینکوں کا آپس میں انضمام کر کے بینکوں کی تعداد کم کی ہے۔ سرکاری بینکوں کی تعداد اٹھا ئیس سے گھٹ کر بارہ رہ گئی ہے۔ سرکاری اور نجی بینکوں کی کارکردگی میں کئی بنیادی فرق ہیں۔نجی بینکوں کا مقصد صرف کاروبار کرنا اور نفع کمانا ہے۔ان میں جمع شدہ رقم پرانٹرست کم ملتا ہے ۔ جب کہ مکان یا گاڑی وغیرہ کے قرض لینے پر انٹرسٹ زیادہ دینا ہوتا ہے اور طرح طرح کے چارجز بھی لگتے ہیں۔
بینکوں کی اس ہڑتال کے دوران وزیر مالیات نرملا سیتا رمن کا بیان آیا ہے کہ نجکاری کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سبھی سرکاری بینکوں کی نجکاری نہیں کی جائے گی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ماضی میں وزیر اعظم اندرا گاندھی نے جن مقاصد کو لیکر بینکوں کا نیشلائیزیشن کیا تھا وہ مقاصد پورے کئے جا چکے ہیں۔ جن بینکوں کی نجکاری کی جا رہی ہے انکو لے کر اس بات کو ذہن میں رکھا جانا چاہئے کہ نجکاری کے بعد بھی وہ اپنا کام اسی طرح جاری رکھیں گے اور ان بینکوں کے ملازمیں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ نجکاری کی حمایت میں دی جانے والی دلیلیں کچھ اس طرح ہیں؛پہلی تو یہ کہ جتنے پرائیویٹ بینک ہیںان کی خدمات معیاری ہوتی ہیں عوام کے تئیں ان کا رویہ بہتر ہوتا ہے۔دوسری یہ کہ سرکاری بینکوں میں قرضے واپس نہ ہو پانے کی وجہ سے npa بہت زیادہ ہے۔ تیسری دلیل یہ ہے کہ سرکار کو فلاہی کاموں کے لئے رقم کی ضرورت ہے۔اور اس کے بعد بھی بینکوں کی حالت بگڑنے پر سرکار کو ہی سر مایہ لگا کر ان کی حالت بہتر بنانی پڑتی تھی۔نیشنلائیزیشن کے بعد تمام اصلاحات اور لگاتار سرمایا کاری کے بعد بھی ان بینکوں کے مسائل بر قرار رہے۔ پرائیویٹ بینکوں کے مقابلے ان کی کار کردگی بہتر نہیں ہو پا ئی اب سرکار کا ارادہ صاف ہے۔ وہ ایک طویل منصوبے پر عمل پیرا ہے جس کے مطابق اگلے کچھ برسوں میں سرکاری بینکوں کی تعداد محدود کر دینا ہے۔ کمزور بینکوں کو دوسرے بڑے بینکوںکے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ ریزرو بینک کے سابق گورنر وآئی بی ریڈی کے مطابق بینکوں کو قومیائے جانے کا فیصلہ ایک سیاسی فیصلہ تھااور ان کی نجکاری کا فیصلہ بھی سیاسی فیصلہ ہو گا۔
ملک میں نجی اور سرکاری بینکوں کا تقابلی جائزہ لینے پر ایک بات صاف نظر آتی ہے کہ نجی بینک ہر معاملے میں سرکاری بینکوں سے آگے ہیں۔ اگرچہ بینکوں کی نجکاری ملازمیں کے لئے تکلیف دہ ہے اور انکی ملازمت کے مستقبل کو غیر یقینی بناتی ہے ۔بینک کے ملازمیں اور افسران کا کہنا ہے کہ نیشنلائیزیشن کی وجہ ہی یہ تھی کہ پرائیویٹ بینکوں کے لئے عوام کے بجائے اپنے مالکوں کا مفاد مقدم تھا۔ اس لئے نجکاری کا فیصلہ ملک اور عوام دونوں کے لئے خطرناک ہے۔ پچھلے کچھ برسوں میں جس طرح آئی سی آئی سی آئی بینک،یس بینک، ایکسس بینک اور لکشمی ولاس بینک کے معاملات سامنے آئے ہیں ،انھوں نے پرائیویٹ بینکوں کی کارکردکی کی حقیقت سامنے لا دی ہے اور سچائی یہ ہے کہ ڈوبتے ہوئے بینکوں کو ابھارنے کا کام سرکاری بینکوں کے ذمہ آتا رہا ہے۔عوام کا بہتر سہولتیں نہ مل پانے کا شکوہ اپنی جگہ لیکن سرکاری بینکوں پر کام کے دبائو پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انکے پاس جتنے لوگ آتے ہیں پرائیویٹ بینکوں میں ان کا عشر و عشیر بھی نہیں آتے ۔ وسائل کا ایک بڑا حصہ غریب اور نادارکھاتے داروںکے لئے وقف رہنے اور کم نفع کما پانے کی وجہ سے ان کے لئے پرائویٹ بینکوں والے طمطراق ممکن نہیں ہیں۔نجکار ی کا فیصلہ حکمرانوں کے کارپوریٹ دوستوں کے لئے یقینا خو ش آئند ہے۔ عوام اور ملک کے لئے کیسا ہو گا، یہ آنے والا وقت بتائے گا۔
فون نمبر۔9450191754
ای میل۔[email protected]