ینگون// میانمار میں باغی فوج کے خلاف مظاہروں کے سلسلے میں دیوائی شہر میں یونیورسٹی کے طلبہ نے ریلی نکالی۔ ادھر ینگون میں مظاہرین نے سرخ غبارے فضا میں چھوڑ کر ملٹری کریک ڈاون کے خلاف احتجاج کیا۔ ذرا ئع ابلاغ کے مطابق سیکورٹی اہل کاروں نے احتجاج میں شرکت کی پاداش میں گھروں میں داخل ہو کر شہریوں پر تشدد کیا۔رپورٹ کے مطابق فوجی اہلکار ایک گھر میں داخل ہوئے۔ اہلکاروں نے گھر میں 7 سالہ لڑکی کو فائرنگ کر کے قتل کردیا جب کہ گھر میں پڑے سامان کو بھی نقصان پہنچایا۔میانمار میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کرلیا ہے جس کے خلاف کئی ہفتوں سے مظاہرے جاری ہیں۔ فوجی حکمرانوں نے مظاہروں کی روک تھام کے لیے طاقت کا استعمال جاری رکھا ہے ۔یکم فروری کو فوجی بغاوت کے بعد سے جاری مظاہروں میں 250 سے زائد مظاہرین ہلاک اور ڈھائی ہزار سے زائد گرفتار ہوچکے ہیں۔ ادھر امریکا اور یورپی یونین نے فوجی بغاوت میں ملوث 13 افراد اور 2 ملٹری یونٹس پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔