اننت ناگ //مبینہ گھریلو تشدد کا شکار 2 بچوں کی ماں بالآخر 8 روز بعد اسپتال میں دم توڑ بیٹھی ۔خاتون کی موت کی خبر پھیلتے ہی آکورہ مٹن میں ہر سو کہرام مچ گیا اور لوگوں نے واردات میں ملوث افراد کو کڑی سے کڑی سزا دینے کی مانگ کی ہے۔28 سالہ شہزادہ اختر زوجہ مشتاق احمد لون ساکنہ واگذو پورہ آکورہ کوگذشتہ ماہ 26 مارچ کوپُراسرار طور پر جلا یاگیا جس کے بعد خاتون کو نازک حالت میں گورنمنٹ میڈیکل کالج منتقل کیا گیا جہاں سے اس سے مزید علاج ومعالجے کیلئے سرینگر منتقل کیا گیا جہاں وہ قریباً 8 روز تک موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہ کر جمعرات شام دیرگئے زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھی۔ڈاکٹروں کے مطابق خاتون کا جسم 95فیصد جلا ہوا تھا۔خاتون کے میکے والوں کا الزام ہے کہ اسے سسرال والوں نے جلایا ہے۔ انہوںنے مطالبہ کیا کہ شہزادہ اختر کو مارنے والوںکو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ دوسروں کو عبرت حاصل ہو۔ خاتون کی موت کی خبر پھیلتے ہی آبائی گاؤں میں کہرام مچ گیا اور خواتین سینہ کوبی کرتے ہوئیں گھروں سے باہر آگئیں۔واقعہ کے خلاف لوگوںص نے احتجاج کیا اور ملزموں کو سخت سزا دینے کی مانگ کی۔دوپہر کو خاتون کو آہوں اور سسکیوں کے بیچ پُرنم آنکھوں سے سپرد خاک کیا گیا۔نماز جنازہ میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔واضح رہے پولیس نے پہلے ہی خاتون کے شوہر اور ساس کو حراست میں لیا ہے۔