سرینگر//فیڈریشن چیمبر آف انڈسٹریز کشمیر نے تجارتی نمائندگی کے بغیر جمعہ کو جموں و کشمیر پولیوشن کنٹرول کمیٹی تشکیل دینے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ کشمیر خطے کے عہدیداروں کی نمائندگی کے بغیر ’’جے کے پی سی سی‘‘ کی تشکیل سے کسی خاص خطے کی صنعت کو نظر انداز کرنے کا اشارہ ملتا ہے۔ایف سی آئی کے نے کہا، ’’سری نگر میونسپل کمشنر بھی جموں میونسپل کمشنر کے ہی جتنے ذمہ دار افسر ہیں، ایس ایم سی کمشنر سرینگر14 ممبر جے کے پی سی سی میں کیوں نہیں شامل ہیں؟ــ‘‘۔اسی طرح پرنسپل میڈیکل جموں کو بھی اس کمیٹی کا ممبر نامزد کیا گیا ہے اور پرنسپل سرینگر میڈیکل کالج کا نام عیاں نہیں ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ کہنے سے کوئی عار محسوس نہیں کرتے کہ کسی خطے کے عہدیداروں اور کاروباری برادری کو صرف معاشرے کے ایک خاص طبقے کے مفادات کی خاطر جان بوجھ کر نظرانداز کیا گیا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا’’ایف سی آئی کے‘‘ حکومت کو بھی یاد لاتی ہے کہ اس کمیٹی میں کشمیر کی صنعتی انجمنوں کے سب سے بڑے اتحاد کے کردار کو نظرانداز کیا گیا‘‘۔فیڈریشن چیمبر آف انڈسٹریز کشمیر نے کہا’’"پہلے ’’ایف سی آئی کے کے‘‘ کے صدر کے لئے اس عہد ے کو مخصوص رکھا جاتا تھا، لیکن اس بار حکومت نے’’ ایف سی آئی‘‘ کو نمائندگی نہ دینے کا فیصلہ کیا اور یہ بدقسمتی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت جموں و کشمیر میں کاروباری شعبے کی بحالی کے لئے یونٹ ہولڈرز سے تعاون کی خواہاں ہے اور دوسری طرف تجارتی انجمن کے کردار کو نظرانداز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں’’ ایف سی آئی کے‘‘ کے صدر اس کمیٹی میں ممبر کی حیثیت سے حکومت اور یونٹ ہولڈرز کے مابین آلودگی کے سرٹیفکیٹ کو جلد جاری کرنے اور ماحولیاتی ہدایات پر عمل پیرا ہونے کے لئے باہمی رابطے کو مستحکم کرتے تھے۔ایف سی آئی کے صدر شاہد کاملی نے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا ،مشیر بصیر احمد خان ، چیف سکریٹری اور پرنسپل سیکریٹری صنعت و تجارت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں اور سرکاری سطح کے ساتھ ساتھ صنعت کی سطح پر بھی دونوں خطوں میں یکساں نمائندگی کو یقینی بنائیں۔