سرینگر// وادی میں تعمیراتی میٹریل کی عدم فراہمی نے تعمیراتی منصوبوں کو سست کردیا ہے۔ جو لوگ تعمیراتی میٹریل(معدنیات) کے کام سے جڑے تھے،انکے لئے ندی نالوں سے میٹرئل حاصل کرنا کاردارد معاملہ بن گیا ہے۔پچھلے سال جموں کشمیر انتظامیہ نے کان کنی کو ممنوع قرار دیکر ندی نالوں سے بجری، ریت اور پتھر نکالنے کے ٹھیکے بیرون ریاستوں کے ٹھیکیداروں کو تفویض کئے یوں جموں کشمیر کے ہزاروں لوگوں کے روز گار پر شب خون مارا گیا۔ بیرون ریاستوں کے ٹھیکیداروں نے تعمیراتی میٹرئیل نکالنے کا کام مقامی لوگوں کو دیدیا جس سے میٹرئیل کی قیمتیں آسمان کو چھو گئی ہیں۔نہ صرف سرکاری منصوبے اس وجہ سے سست روی کا شکار ہوگئے ہیں بلکہ تعمیراتی منصوبوں یا پھر رہائشی مکانوں اور شاپنگ کمپلیکسوں کی لاگت میں دوگناہ اضافہ ہوگیا ہے۔تخمینے کے مطابق ، جموں و کشمیر میں 30ہزارسے زیادہ ٹھیکیداروں کو تعمیراتی سامان کی عدم فراہمی کی وجہ سے مشکلات کا سامناہے۔ اس کے علاوہ تعمیراتی کاموں سے جڑے قریب6لاکھ مزدور ں کے علاوہ ٹرک ڈرائیور اور کنڈیکٹروں کا روزگار متاثر ہو رہا ہے۔سرینگر میں ریت کا ایک ٹپر 11ہزار سے 13ہزار روپے کے درمیان فروخت کیا جارہا ہے، جو پہلے 6سے 8ہزار میں تھا۔ اسی طرح کھریو کے پتھروں کا ایک ٹپر 6ہزار سے 7ہزار روپے میں فروخت ہورہا ہے جو 2سال قبل 3000 روپے میں فروخت ہورہا تھا ۔بجری 10سے 11ہزارروپے میں فی الوقت فروخت کی جارہی ہے جس کی قیمت2سال قبل 5 سے 6ہزار روپے تھی۔ اینٹو ں کی سرکاری ریٹ21ہزار ہے،تاہم اس کو32ہزار میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ تعمیراتی میٹریل میں اضافے پر جہاں انتظامیہ اور حکام خاموش ہیں وہی رہائشی مکانات تعمیر کرنے والوں کو دانتوں تلے ہونٹ دبانے کیلئے مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ میٹریل کی عدم دستیابی کے نتیجے میں کئی ایک سرکاری پروجیکٹ بھی تاخیر سے چل رہے ہیں،جبکہ نجی شعبے میں بھی کام بہت متاثر ہو رہا ہے۔ ٹھیکیداروں کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں انہوںنے لیفٹیننٹ گورنر کو بھی ایک یادداشت پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر حکومت ترقی کی بات کر رہی ہے تو زمینی سطح پر اٹھائے جانے والے اقدامات کو اسی کے مطابق ہونے چاہئیں۔‘‘انہوں نے بتایا کہ یہ معاملہ تقریبا تمام متعلقہ افسران کے ساتھ اٹھایا گیاہے ، لیکن ابھی تک زمینی سطح پر کوئی تبدیلی رونما نہیں ہورہی ہے۔ہاٹ مکس پلانٹ اونرس ایسو سی ایشن کے صدر بشیر احمد خان نے کہا کہ ایک جانب حکومت انہیں پائے تکمیل پروجیکٹوں کو مکمل کرنے کی ہدایت دے رہی ہے،تو دوسری جانب تعمیراتی میٹریل ہی موجود نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکار کو چاہیے کہ وہ ان مقامات کی نشاندہی کرے جہاں سے تعمیراتی میٹریل ،جس میں ریت اور بجری شامل ہے، دستیاب ہوگی۔جموں و کشمیر سینٹرل کانٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی کے جنرل سیکریٹری فاروق احمد ڈار نے بتایا کہ یہ سب حکومت کی طرف سے کان کنی پر عائد پابندی کی وجہ سے ہوا ہے،جس کی وجہ سے تمام سرکاری اور نجی کام متاثر ہوئے ہیں۔کارڈی نیشن کمیٹی چیئرمین محمد جیلانی پرزہ کا کہنا ہے کہ تعمیراتی میٹرئیل سپلائی کرنے والے جو افراد فراہمی کو ممکن بنا سکتے ہیں، وہ پکڑے جانے سے خوفزدہ ہیں جبکہ دیگر لوگ واضح طور پر کہتے ہیں کہ پابندی کی وجہ سے ان کے پاس خام مال نہیں ہے۔ ۱