کشتواڑ// 2020میں ضلع کشتواڑ میں اوورلوڈنگ کے سبب مختلف سڑک حادثات میں 27 سے زائد لوگوں کی موتیں رونما ہوئی تھیں جس کے بعدعوامی حلقوں میں یہ امیدپیدا ہوگئی تھی کہ2021 میں نئے نافد قوانین سے اس سلسلہ پرروگ لگے گی اور اوورلوڈنگ کے واقعات میں کمی دیکھنے کو ملے گی لیکن ایسا کچھ زمینی سطح پر دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ قصبہ و اسکے گردنواح کے علاقہ جات میں ٹریفک اہلکار و پولیس آئے روز ناکے لگاکر تیز رفتاری و اوورلوڈنگ کرنے والوں پر شکنجہ کستی ہے تاہم یہ سب قصبہ کے گردنواح تک ہی محدود ہوتاہے جبکہ قصبہ کے باہر نکلتے ہی گاڑی والوں کی من مانی شروع ہوجاتی ہے اور گاڑیوں میں مسافروں کو بھیڑ بکروں کی طرح ڈال دیا جاتا ہے۔کشمیر عظمی کوذرائع نے بتایا کہ پاڈر، ڈنگڈورو ، کیشوان، سرتھل و چھاترو کی اندرونی سڑکوں پر اکثر گاڑیوں میں اوورلوڈنگ سکی شکایتیں موصول ہورہی ہیں۔ بعض دفعہ اگرچہ گاڑی والے اٹھانے سے گریز کرتے ہیں لیکن ان علاقہ جات میں گاڑیوں کی کمی کے سبب سواریوں کو اٹھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ان علاقہ جات کی عوام نے کئی مرتبہ انتظامیہ سے ایس آر ٹی سی بسوں کو چلانے کی اپیل کی لیکن آج تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا، اور مخصوص سڑکوںپرہی آر ٹی سی بسوں کو چلایا جارہا ہے جبکہ دیگر اندرونی سڑکوں پر اکا دکا گاڑیاں ہی چلتی ہیں جس سے ان علاقوں کی عوام کو سخت مشکلات کاسامنا رہتا ہے اور وہ مجبورہوکر اوورلوڈ گاڑیوں پر چڑھتے ہیں۔ مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹریفک اہلکار و پولیس محکمہ دورافتادہ علاقہ جات میں گاڑی والوں پر شکنجہ نہیں کستے ہیں اور انھیں کھلی چھوڑ دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ من مانے طور گاڑیوں کے اندر وچھتوں پر سواریوں کو بٹھاتے ہیں جسکے سبب کوئی بڑاحادثہ رونما ہوسکتا ہے ۔قابل ذکر ہے کہ ضلع ریڈکراس کی طرف سے جاری کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق 2020 میں ضلع میں کل 32 سڑک حادثات رونما ہوئے جن میں 58 افراد جانبحق جبکہ 112 زخمی ہوئے وہیں گزشہ سال 37 سڑک حادثات میں27افراد ہلاک جبکہ 84 افراد زخمی ہوئے تھے۔