نئی دلی // وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ لاک ڈائون آخری اقدام ہے۔ملک میں کورونا کی دوسری لہر قہر انگیز لہرکے پیش نظرغیر معمولی صورتحال پیدا ہونے کے خدشات کے بیچ وزیر اعظم نے منگل کی شب پونے9بجے قوم کے نام خطاب میں کہا کہ لاک ڈائون آخری حربہ ہونا چاہئے اور ہمیں محدود پابندیوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ملک ایک مرتبہ پھر کورونا وائرس کے خلاف لڑائی لڑ رہا ہے اور حالیہ دنوں اٹھائے گئے اقدامات سے آنے والے دنوں میں کمی آئے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے لیکن ’’ ہمیں کورونا سے اپنی پوری طاقت کے ساتھ لڑنا ہوگا‘‘۔مودی نے کہا کہ کورونا وائرس کو لوگوں کے تعاون سے شکست دی جائے گی۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ادویات بنانے والی کمپنیا ں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نپٹنے کیلئے کافی مشتقت کررہی ہیں ،چاہئے وہ ویکسین تیار کرنا ہوا یا اسکی سپلائی کو یقینی بنانا ہو‘‘۔وزیر اعظم نے کہا کہ آکسیجن سیلنڈروں کی کمی ایک بڑی مشکل بن کر ابھری ہے اور تمام فریقین ملکر اس چیلنج کو پورا کرنے کیلئے کام کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ رواں سال سے گزشتہ سال کے مقابلے میں صورتحال قدرے مختلف ہے کیونکہ گذشتہ سال نہ تو ویکسین، بنیادی ڈھانچہ ، نہ پی پی کیٹ اور نہ ہی دیگر ضروری میڈیکل آلات موجود تھے۔ مودی نے کہا ’’اگر ہم کورونا وائرس کیلئے واضع قوائد و ضوابط پر عمل کریں گے ،تو لاک ڈائون نافذ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی‘‘۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی نقل و حرکت محدود کرے اور ٹیکہ کاری مہم میں حصہ لیں‘‘۔