جموں//فانانشل کمشنر صحت و طبی تعلیم اتل ڈلو نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کی وجہ سے صورتحال مشکل لیکن قابو سے باہر نہیں ہے۔انکا کہنا تھا کہ جموں میں وائرس کی مختلف ہیت کے 28کیسز کی نشاندہی ہوئی ہے لیکن کشمیر میں اس طرح کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔ جموں میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر سیکریٹری اتل ڈلو نے کہا کہ سرکار وائرس کو قابو کرنے کیلئے5نکاتی منصوبہ پر عمل کررہی ہے۔ اتل ڈلو کا کہنا تھا کہ وائرس کو قابو کرنے کیلئے سرکار سفر کرنے والوں کی ٹیسٹنگ اور دیگر متاثرین کے رابطہ میں آنے والے افراد کی نشاندہی کے علاوہ مختلف پابندیوں کو سختی سے لاگو کررہی ہے۔ڈلو نے بتایا کہ متاثرین کو قرنطین کرنے اور انکا علاج کرنا منصوبہ کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ لوگوںسے قوائد و ضوابط پر عمل کرنے کی تلقین بھی کی جارہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ رواں سال ہمارے پاس کورونا مخالف ویکسین کی صورت میں ایک اور ہتھیار موجود ہے۔ فنانشل کمشنر نے کہا کہ اسوقت جموں و کشمیر میں 13ہزار400 سرگرم معاملات جبکہ صحتیاب ہونے والے مریضوں کی شرح 89.6فیصد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اموات کی شرح 1.38فیصد ہے۔ ڈلو نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں 120محدود پابندیوں والے علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں متاثرین کے رابطے میں آنے والے لوگوں کی تلاش جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوری سے اب تک 1لاکھ 64ہزار افراد کی تلاش کی گئی جو متاثرین کے رابطے میں آئے تھے۔اتل ڈلو نے بتایا کہ محکمہ صحت کے پاس ٹیسٹنگ کیلئے موجود لیول 3کیCobas 6800 مشینیں اہم طبی اداروں میں جلد نصب کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں کورونا متاثرین کیلئے 600وینٹی لیٹر دستیاب ہیں جن میں اسوقت صرف 48وینٹی لیٹروں پر مریض موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسوقت کیٹگری کے 6000بستر دستیاب ہیں جبکہ ان کیلئے 10ہزار آکسیجن سیلنڈر موجود ہیں جبکہ اس کے علاوہ درمیانی درجہ کے 3500سیلنڈر بھی دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکار مزید 36آکسیجن پلانٹ نصب کرنے جاری ہے جن میں سے 23اس ہفتہ کے آخر تک کام کرنا شروع کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ہم مزید آکسیجن والے 2000بستر تیار کرسکتے ہیں۔ متاثرین کے علاج کیلئے درکار آلات اور سامان کی تفصیلات دیتے ہوئے اتل ڈلو نے کہا کہ ہماری پاس پی پی کیٹوں ، N-95ماسک اور وائرس ٹرانسپورٹ سسٹم دستیاب ہے اور ان چیزوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ انہوں نے لوگوں میں جانکاری پھیلانے کیلئے میڈیا سے کلیدی رول ادا کرنے کی تلقین کی تاکہ لوگوں کی جان بچائی جاسکے۔ انہوں نے صحافیوں سے لوگوں میں قوائد و ضوابط پر عمل آوری کرنے اور ویکسین کے فائدوں کے بارے میں جانکاری دینے کی بھی اپیل کی ہے۔ انہوں کہا کہ ویکسین کی کوئی کمی نہیں ہے اور یہ ضرورت کے حساب سے روزانہ کی بنیادوں پر لوگوں کو دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسوقت ویکسین کے 2لاکھ ڈوز دستیاب ہیں جبکہ سپلائی کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی جانب چانے کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ابتک 17لاکھ افراد کو ویکسین دیا گیا ہے جن میں 91ہزار142ہیلتھ ورکر،2لاکھ61ہزار 589فرنٹ لائن ورکروں اور 45سال کی اوپر کی عمر کے 11لاکھ 27ہزار 511تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے یکم مئی سے تمام لوگوں کو ویکسین دینے کا علان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز 1400مقامات پر 63ہزار675ٹیسٹ کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ان میں 560ہیلتھ ورکر، 2760فرنٹ لائن ورکر اور 60ہزار 355افراد کی عمر 45سال سے اوپر تھی۔ اس موقع پر پرنسپل سیکریٹری اطلاعات و تعالقات عامہ روہت کنسل نے لوگوں میں ویکسین کے بارے میں غلط فہمیوں کو بھی دور کرتے کہا کہ لوگ اب ٹیکہ کاری کیلئے سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی شاہراہ پر لکھن پور، سانبہ اور لوور منڈا کے مقام پر ٹیسنٹنگ کیلئے اقدامات اتھائے گئے ہیں جبکہ ریلوے اور ایئرپورٹوں پر بھی ٹیسٹنگ کا عمل جاری ہے۔اس موقع پر سیکریٹری آفات سماوی نے کہا کہ بدھ کو مسافر گاڑیوں میں 50فیصد سواری بھرنے کا حکم نافذ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور وہ جرمانہ بھی عائد کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بازاروں اور دیگر عوامی مقامات پر سماجی دوری اور دیگر معیاری ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔