سرینگر// حکومت نے سرکاری ملازمین کی جانچ و تحقیقات کیلئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل’ سی آئی ڈی‘ کی قیادت میں6رکنی ٹاسک فورس کے قیام کو تشکیل دینے کی منظوری دی ہے جبکہ یہ ٹاسک فورس اس بات کی تحقیقات کریں گی کہ ان ملازمین کی ریاست کی سلامتی کے مفاد میں تفتیش کا انعقاد ضروری تو نہیں۔ عمومی انتظامی محکمہ کی جانب سے بدھ کو جاری حکم نامہ جاری کیا گیا جس میں دفعہ311کی شق کی ذیلی شق(c) سے متعلق جانچ یا تحقیقات کی ضرورت تو نہیں۔ آئین ہند کی دفعہ311کی شق کی ذیلی شق(c) (جہاں صدر یا گورنر ، جیسا کہ معاملہ ہو سکتا ہے ، مطمئن ہے کہ ریاست کی سلامتی کے مفاد میں ، اس طرح کی تفتیش کا انعقاد مناسب نہیں ہے) کیلئے اس ٹاسک فورس کو سرکاری حکم نامہ738-JK(GAD) of 2020محررہ30جولائی2020کے تحت کیسوں میں پیش رفت کرنا ہے۔ٹاسک فورس کی کمان ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سی آئی ڈی کو سونپی گئی جبکہ اس ٹاسک فورس میں جموں اور کشمیر کے صوبائی پولیس سربراہان کے علاوہ محکمہ داخلہ،محکمہ قانون،انصاف و پارلیمانی امور اور متعلقہ محکمہ کے نمائندے جن کے عہدے ایڈیشنل سیکریٹری سے کم نہ ہو، اس ٹاسک فورس کے ممبر ہونگے۔ اس ٹاسک فورس کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ ان مشتبہ ملازمین کے کیسوں کی جانچ و تحقیقات کریں گے جن کی دفعہ311کی شق2کی ذیلی شق(c) کے تحت ضرورت ہے۔ انہیں مزید کہا گیا کہ وہ ان ملازمین کے ریکارڈ کو مرتب کریں اور اس کو سرکاری کمیٹی کے سپرد کریں جس کی تشکیل پہلے ہی حکم نامہ738-JK(GAD) of 2020محررہ30جولائی2020کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔ تاسک فورس کو کہا گیا ہے کہ وہ انتہا پسندی کی نگرانی کرنے والے دیر گروپوں کو ان ملازمین کی نشاندہی کیلئے مصروف عمل کرسکتے ہے،اور اس حوالے سے وہ دیگر ایجنسیوں ک سے تعاون بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ خصوصی ٹاسک فورس سے کہا گیا ہے کہ وہ معیاد بند مدت کے دوران ان کیسوں کی جانچ کریں،جبکہ یہ ٹاسک فورس سی آئی ڈی محکمہ کے ماتحت کام کرے گا۔