بس چند لمحات کی عملی توبہ مصیبتوں سے نجات کا سبب بن سکتی ہیں۔بالخصوص وہ لمحات جب ہماری نظریں دسترخوان کی جانب ٹکی ہوتی ہیں اور رب ِ کائنات یہ فرماتے ہیں کہ ’’ ہے کوئی مانگنے والا جسے میں عطا کردوں‘‘ یاد رہے اِن عظیم اور اہم لمحات میں ہمارا دھیان دسترخوان سے ہٹ کر بار گاہِ الٰہی کی جانب ہوجانا چاہیے ،بالخصوص وہ اک منٹ جب ہم ایک ایک سکینڈ گن رہے ہوتے ہیں کہ کب افطاری کا اعلان ہو جائے اور ہم اللہ کی نعمتوں پر ٹوٹ پڑیں لیکن اِس اہم اور عظیم وقت پر ہمیں اللہ کی بار گاہ میں رجوع کرنا ہے ، اْس کے سامنے گڑگڑا کر توبہ کرنی ہے،بس یہ ایک منٹ میں بار گاہِ الہیٰ میں ہمارا جھکنا ہماری بگڑی بنا سکتا، اِن چند لمحات پر اپنے رب کے سامنے رونا یا رونے والی شکل بنانا ہمارے گناہوں، لغزشوں اور خطاؤں کو معاف فرمانے پر راضی کرا سکتا ہے۔
لمحہء فکریہ کہ اک پولیس اہلکارکے سامنے ہم آسانی سے ناک رگڑنے کے لئے آمادہ ہوجاتے ہیں، کان پکڑ کر اْٹھک بیٹھک کرتے ہیں کہ وہ ہم پر کوئی ایسا ایکٹ نہ لگا دے جس سے ہماری زندگی میں کوئی مشکل پیدا ہوجائے لیکن ہمیں کیوں شر م آتی ہیں اْس طاقت کے دربار میں جھکنے اور گڑگڑا کر توبہ کرنے میں جس کے قبضے میں ہم سب کی جان ہے؟؟کیوں ہم مٹی کے پتلے آگ و آہن کے دہکتے ہوئے انگاروں کو گلے لگانے کی حماقتیں کر رہے ہیں؟بس بہت ہوگئی نافرمانیاں ہمیں اپنی انا کو مٹانا ہوگا، ہمیں خواب ِ غفلت سے جاگنا ہوگاوقت کا تقاضہ ہے کہ ہم اللہ کے جلال سے بچنے کی جستجو میں لگ جائیں ورنہ تباہی، رسوائی اور پریشانیاں ہمارا مقدر ہو جائیں گی اور اپنے ہاتھوں خود تباہی کی داستانیں رقم کریں گے،ہم اک ایسے کنویں کی جانب تیزی سے محوِ سفر ہیں جہاں آگ کے شعلوں کے سوا اور کچھ بھی نہیں اک ایسی آگ جس کی تپش انتہائی خوفناک اور دہشتناک ہوگی ۔ جہنم کا لفظ ذہن میں آتے ہی جسم میں خوف ودہشت کی ایک لہر سی دوڑ جاتی ہے۔اللہ نے گناہ گاروں اور نافرمانوں کے لیے جہنم کی شکل میں ایک ایسا عقوبت خانہ تیار کر رکھا ہے جس کی سختیاں اور ہولناکیاں ہمارے تصور سے بھی بالاتر ہیں،یہ ایک ایسا قید خانہ ہے جہاں مجرم موت کو ترسے گا لیکن اسے موت بھی نصیب نہ ہوگی ، وہ تل تل مرے گا، چاروں طرف موت ہی موت ناچ رہی ہوگی لیکن پھر بھی وہ موت سے دوچار نہیں ہوگا. پیاس سے بے حال جہنمی کو جب جہنمیوں کے زخموں سے رسنے والی بدبودار پیپ اور مواد پلائی جائے گی تو اس کی جو کیفیت ہوگی اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
لہٰذا تمام اہل اسلام بھائیوں ، بزرگوں ، ماوؤں اور بہنوں سے گزارش ہے کہ اپنے رب کے سامنے گڑگڑا کراپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔صرف اور صرف اللہ سے لو لگائیں ، دعا مانگیں اے ہمارے پیارے پروردگار!!ہمیں اِس مصیبت سے باہر نکال، اپنے حبیب محمدؐکے صدقے اور اِس ماہ ِ مقدس کے صدقے ہماری، نافرمانیوں، کوتاہیوں، بد اخلاقیوں، بدتمیزیوں، بد اعمالیوں اور خطاؤں کو معاف فرما، ہم اِس قابل نہیں کہ ہم آپ کی آزمائشوں کا سامنا کر سکیں، ہم گنہگار ہیں، ہم بد کار ہیں، ہم نابکار ہیں، بے شک آپ رحم فرمانے والے ہیں، ہماری نافرمانیوں کی وجہ سے آپ بے حد ناراض ہوئے ہیں ،ہم سے روٹھے ہوئے ہیں ، لیکن میرے پیارے رب! ،میرے پیاریمولیٰ! میرے پروردگار! آج اِ س مقدس ماہ میں ہم آپ کے سامنے اپنی تمام کوتاہیوں اور نافرمانیوں سے توبہ کر رہے ہیں ،اِس میں کوئی شک نہیں کہ لگاتار گناہ کئے جانے کی وجہ سے ہمارے دل و اذہان سیاہ ہو چکے ہیں ، ہم سے مانگنے بھی نہیں آتا ہے، ہمیں تو توبہ کرنے کی بھی تمیز نہیں ،لیکن میرے مولیٰ معاف فرما !اپنے حبیب ؐ کے صدقے، میرے اللہ تجھے تیری خدائی کی قسم، تجھے تیرے جلال کی قسم، تجھے تیری بڑھائی کی قسم ،ہماری ساری کوتاہیوں کو معاف فرما، ہمیں اْمید ہے کہ آپ ہمیں اِس عظیم ماہ کے صدقے ضرور معاف فرمائیں گے، ہمارے دل و ذہن پر جمی دنیاوی گرد کو ہٹا کر ہمیں راہ ِ مستقیم پر ڈھال دے، ہم بھٹک چکے ہیں، ہم بہک چکے ہیں، ہم نے اپنی آخرت اپنے ہاتھوں خراب کر رکھی ہے، ہم اپنے لئے جہنم کا ایندھن تیار کر رہے ہیں لیکن میرے پیارے رب ہماری سنگدلی پر نظر ِکرم فرما،ہمیں اچھے راستے پر لگا دے۔ہمیں وہ عقل و فہم عطا فرما جو ہمیں گناہوں سے دور رکھے،میرے مولیٰ رحمتوں کی ایسی برسات کر دے کہ ہمارے سیاہ دلوں پر جمی گناہوں کی کالک دھل جائے اور ہم آپ کے سامنے پاک ہو کر سربہ سجود ہو جائیں اور آپ کی رحمتوں سے سرفراز ہو جائیں۔بس ہمارے دل بدل دے، ہمارے دلوں سے دنیاوی محبت نکال دے،ہمیں آخرت کمانے کی فکر عطا کرے،بس اب مزید رسوانہ کرنا۔یا الٰہی ایمان پر استقامت کی عنایت دیدے،، ظاہر اچھا ہے ہمارالیکن باطن بے حد بْراہے۔یا خدا!! تجھ سے دعا ہے معاف فرما، تجھ سے فضل کی رحم کی التجاہے ہمیں وبا جیسی مہلک بیماریوں سے نجات دیدے، بے شک یہ وبائیں ہماری ہی بد اعمالیوں کی دین ہے لیکن میرے پروردگار آپ تو معاف کرنے والے ہیں، بے شک ہم سے انتہا درجے کی نافرمانیاں سرزد ہوئی ہے ، ہم گناہوں کے دلدل میں ناکوں تک دھنسے ہوئے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ آپ ہم سے حد درجہ ناراض ہوئے ہیں میرے پروردگارآپ ہم سے اتنے روٹھے ہوئے ہیں کہ ہمارے لئے اپنے گھروں مساجد کے دروازے تک بند کر دیئے، اے خدایااِس مشکل آزمائش میں مت ڈال ، ہمارا ایمان اس قدر پختہ نہیں ہے کہ ہم آپ کی اِس آزمائش کا سامنا کر سکیں۔ اے ہمارے پیارے رب ہمیں معاف کردے بے شک آپ نہایت ہی مہربان اور رحم والے ہیں۔
پتہ۔ گول، رام بن، جموں وکشمیر
رابطہ۔77780918848/9797110175
ای میل۔[email protected]