غزہ //اسرائیل کی جانب سے غزہ پر فضائی حملوں کا سلسلہ کل بھی جاری رہا اور بدھ کے روز کیے گئے حملوں میں ایک صحافی سمیت 6 افراد جاں بحق جبکہ متعدد رہائشی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ غزہ کے صحت حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 219 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں 63 بچے بھی شامل ہیں۔علاوہ ازیں تقریباً 1500 فلسطینی اسرائیلی حملوں میں زخمی ہوئے جبکہ حماس کے راکٹ حملوں کے نتیجے میں اسرائیل میں 2 بچوں سمیت 12 افراد ہلاک اور 300 زخمی ہوئے۔دوسری جانب پر تشدد کارروائیاں دسویں روز میں داخل ہونے کے باوجود غزہ میں حماس اور اسرائیلی حکام کے درمیان جنگ بندی کی تمام سفارتی کوششیں ناکام ہیں۔فلسطینی بحران پر سلامتی کونسل کا چوتھا اجلاس ہوا جو بے نتیجہ رہا، اجلاس کا اعلامیہ جاری نہ ہونے پر فلسطین، آئرلینڈ اور عرب گروپ نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔فلسطینی مندوب کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل نے متفقہ پوزیشن نہیں لی،جو شرمناک ہے۔ چیئر عرب گروپ نے کہا کہ تشویش ناک صورتحال پر سلامتی کونسل کی بے بسی پر مایوسی ہوئی۔آئرش مندوب نے کہا کہ عالمی امن اور سیکیورٹی سلامتی کونسل اراکین کی مشترکہ ذمہ داری ہے بڑھتے تشدد نے تباہ کن انسانی بحران کو جنم دیا اب وقت آ گیا ہے کہ سلامتی کونسل خاموشی توڑے اور بات کرے۔اقوامِ متحدہ کی ہومینیٹیرن ایجنسی کے مطابق اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں گنجان آبادی والے غزہ کی محصور پٹی میں اب تک 450 عمارتیں تباہ یا بری طرح متاثر ہوچکی ہیں۔تباہ شدہ عمارتوں میں 6 ہسپتال، 9 بنیادی صحت کے مراکز شامل ہیں جبکہ اب تک 52 ہزار فلسطینی دربدر ہوچکے ہیں۔تباہی نے اس ساحلی پٹی میں جگہ جگہ ملبے کے ڈھیر لگ چکے ہیں اور غزہ میں رہائشی صورتحال کے حوالے سے خدشات طول پکڑ گئے ہیں۔ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق منگل کی رات صرف 25 منٹ کے عرصے میں اسرائیلی فوج نے غزہ پر 122 بم گرائے۔دوسری جانب بدھ کی رات غزہ سے اسرائیل کی جانب 50 راکٹس فائر کیے گئے۔
حملے جاری رکھیںگے : نیتن یاہو
یروشلم//اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے عالمی رہنماوں کے مطالبے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسندی کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔نتن یاہو نے عالمی رہنماوں کی جنگ بندی کے مطالبے کو مسترد کردیا اور روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی شہریوں پر حملے بند ہونے تک مزاحمت کاروں کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔نیتن یاہو نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے مزید کہا کہ اسلامی شدت پسندوں کو ایسی ضربیں لگائی ہیں جس کی وہ توقع نہیں کر رہے تھے، جب تک اسرائیلی شہریوں پر حملے بند نہیں ہوتے تب تک جنگ جاری رہے گی۔