جموں// پچھلے سال کے کووڈلاک ڈاؤن کی وجہ سے چھ ماہ کی تاخیر کے بعدجموں ڈویژن میں سانبہ ضلع کے وجئے پور میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمز) میں صرف 15 فیصد کام کے مکمل ہو گیا ہے اور اب خیال کیا جارہاہے کہ اس وقاری منصوبے کی تعمیر مقررہ آخری تاریخ تک مکمل نہیںہوسکتی ہے۔اس مرحلے کے تحت تعمیراتی ایجنسی کو 750 بستر والے اسپتال پر اگست 2022 تک کام مکمل کرنا تھا تاہم کووڈ 19 صورتحال کے دوسرے مرحلے نے حالات کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔ قابل ذکرہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے فروری 2019 میں ایمز وجے پور کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ ایک عہدیدار نے کہا’’اگر ہسپتال مکمل ہوجاتا توجموں میں کوویڈ 19 کی صورتحال مختلف ہوتی۔ ہم ایمز وجئے پور میں کوویڈ کے نازک معاملات کا علاج کرنے کے قابل ہوتے اور بہت سی جانوں کو بچایا جاسکتا تھا‘‘۔عہدیدار نے بتایا کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں مثبت معاملات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے درمیان COVID19 مریضوں کی شدید نگہداشت کا بوجھ پڑ گیا ہے۔ ایک سینئر عہدیدار نے بتایا "ہم نے تعمیراتی ایجنسی کو کہا ہے کہ وہ مقررہ آخری تاریخ پر یا اس سے پہلے ہی کام مکمل کریں یہاں تک کہ ہم کوڈ لاک ڈاؤن کی وجہ سے چھ ماہ ضائع ہوگئے ہیں اور تعمیر تاخیرکا شکار ہے۔ ہم نے ان سے کہا ہے کہ 750 بستروں پر مشتمل اسپتال بلاکس کو مقررہ وقت میں مکمل کرنے کے لئے تعمیراتی مقام پر افرادی قوت میں اضافہ کریں‘‘۔ عہدیدار نے مزید بتایا کہ 32 ٹاور زیر تعمیر ہیں اور 1200 مزدور / دیگر تعمیراتی مزدور تعمیراتی کام میں مصروف ہیں۔ ایک سینئر عہدیدار نے مزید کہا "میڈیکل ٹیمیں تعمیراتی مقام پر مزدوروں / تعمیراتی کارکنوں کی صحت کی جانچ پڑتال کرتی ہیں اور انکے کوویڈ 19 ٹیسٹ بھی کرتی ہیں"۔ایمز وجے پور (جموں) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر شکتی کمار گپتا نے بتایا کہ وہ پوری کوشش کر رہے ہیں کہ اگست 2022 تک پہلے مرحلے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں اور بعد میں تعمیراتی ایجنسی باقی عمارتوں کے2023 مارچ میں حوالے کردے گی۔ ڈاکٹر گپتا سانبہ ضلع (جموں) اور اونتی پورہ (کشمیر) کے ایمز کی ابتدائی منصوبہ بندی (ماسٹر پلان) میں شامل تھے اور انہوں نے دعوی ٰکیا کہ دونوں ہی صحت انسٹی ٹیوٹ میں یکساں بہترین طبی سہولیات میسر ہوں گی۔ڈاکٹر گپتا نے کہا "ہمیں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا ، فنانشل کمشنر جموں و کشمیر محکمہ صحت اتل ڈلو اور پرنسپل جی ایم سی جموں ڈاکٹر ششی سوڈان کی حوصلہ افزاء حمایت ملی ہے"۔ ڈاکٹر گپتا نے کہا کہ وہ اس کی تکمیل کے لئے تعمیراتی کام تیز رفتار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ COVID19 کی دوسری لہر کی وجہ سے اس میں تاخیر نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ شاہراہ ، سڑک ، تعمیراتی مواد اور آبپاشی (پانی کی فراہمی کا نظام) جیسے مسائل ایمز وجے پور تعمیراتی سائٹ پردرپیش ہیں۔انہوں نے کہا کہ کنڈی بیلٹ میں واقع ہونے کے ناطے پانی کا کوئی وسیلہ نہیں ہے یہاں تک کہ متعلقہ محکمہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ انہیں (ایمز کو) 5 سے 6 ٹیوب ویل فراہم کریں گے تاہم یہ کافی نہیں ہوگا۔ ہمیں اسپتالوں ، ہاسٹلز اور رہائش گاہوں میں روزانہ 14-15 لاکھ لیٹر پانی استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے محکمہ پی ایچ ای سے درخواست کی ہے کہ وہ کس طرح مطلوبہ پانی کی فراہمی فراہم کرسکتی ہے، اس پر کوئی تجویز / اخراجات پیش کرے۔دریں اثنا ، حکومت نے کیمپس کو (سیلاب سے) بچانے کے لئے دریائے دیوک کے کنارے پشتیں (تحفظ باندھ) کی تعمیر کے لئے 27 کروڑ روپئے کی منظوری دی ہے۔ اس منصوبے کی تعمیر پر کل 1661 کروڑ روپئے لاگت آئے گی۔