بزلہ (بانہال)//کووڈ انیس کے دوران بھی ضلع رام بن کے دور دراز کے پہاڑی علاقوں میں طبیِ سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے عام لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے اور ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے کی کمی کی وجہ سے کووڈ کی عالمہ وبائی بیماری میں بھی مریضوں کو دور دراز کے پہاڑی علاقوں سے قصبوں کے ہسپتالوں کا رخ کرنا مجبوری بن جاتا ہے۔ سب ڈویژنل ہیڈکوارٹر بانہال سے22کلومیٹر دورجنوب مغرب میں واقع تحصیل کھڑی کے بزلہ علاقے میں 2003میں ایک ہسپتال کی عمارت کومنظور کیا گیا اور لاکھوں روپئے کی رقوم خرچ کرکے ہسپتال کی ایک بڑی عمارت کی تعمیر 2008میں مکمل کرکے محکمہ صحت کے حوالے کی گئی ۔لیکن بدقسمتی سے قریب سات ہزار کی پہاڑی آبادی کیلئے قائم کی گئی اس طبی مرکز میں ابھی تک کوئی ڈاکٹر تعینات ہی نہیں کیا گیا ہے اور بزلہ ، ہارا ، کھڑہالن ، مڑن ، ٹنگلی ، اکھرن اور پتھالن کی ایک درجن سے زائید بستیوں کے غریبوں لوگوں کو درجہ چہارم کے ایک اور این ایچ ایم کے ایک عارضی ملازم کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ ضلع کھڑی کا بزلہ علاقہ پنچایت ترگام اپر پر مشتمل ہے اور پہاڑی علاقے میں مشتمل یہ پنچایت گیارہ وارڈوں پر مشتمل ہے اور یہ علاقہ سطح سمندر سے 6600 فٹ کی بلندی پر واقع ہے ۔ اس دور دراز کے علاقے میں لوگوں کی بڑی تعداد اپنی رداد سنانے کیلئے جمع ہوئی تھی اور انہوں نے علاقے کے عوام کو درپیش کئی مشکلات پر بات کی ۔ وارڈ نمبر چھ بزلہ کے پنچ محمد یاسین بٹ نے کشمیر عظمی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بزلہ کا یہ وسیع و عریض علاقہ سڑک رابطے سے محروم ہے اور تحصیل کھڑی کے اِن علاقوں میں بھاری برفباری ہوتی ہے اور پہاڑی آبادی بھاری برفباری کے دوران کئی مہینے تک باقی ضلع سے کٹ کر رہ جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے میں ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے ماضی میں کئی حاملہ خواتین، نوزائید بچے اور مختلف زخمی فوری طبی مدد نہ ملنے کی وجہ سے ہسپتال لیجاتے یا پہنچاتے ہوئے لقمہ اجل بن چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ معمولی تکلیف کیلئے یہاں سے مریضوں کو پچیس کلومیٹر دور بانہال کے ہسپتال لیجانا پڑتا ہے جو بعض اوقات کئی لوگوں کیلئے ناممکن ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بزلہ ہسپتال میں کوئی سٹریچر موجود نہیں ہے اور مقامی 23 راشٹریہ رائفلز کے فوجی کمیپ سے سٹریچر لیکر مریضوں کو سڑک نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو پہلے پانچ کلومیٹر تک کندھوں پر اٹھا کر لیجانا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا ہسپتال میں ڈاکٹر تو دور کی بات کوئی میڈیکل اسسٹنٹ بھی تعینات نہیں کیا گیا ہے جبکہ ایک عارضی این ایچ ایم اور ایک درجہ چہارم ملازم تعینات ہے اور انہیں بھی دوسری تین چار پنچایتوں میں ویکسین کیلئے بھیجا جاتا ہے جس کی وجہ سے پنچایت اپر ترگام کے مرکز بزلہ میں قائم ہسپتال کا دروازہ بند ہو رہتا ہے۔مقامی سماجی کارکن فاروق احمد بٹ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ بزلہ کا علاقہ ملک کی ازادی سے اب تک بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے اور علاقے میں رابطہ سڑک اور ڈاکٹر نہ ہونے اور ہائی سکول بزلہ میں اساتذہ کی کمی کے مسئلے سر فہرست ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سرکار نے چار سے پانچ ہزار کی آبادی کو طبی سہولیات کے معاملے میں محروم رکھا ہے جس کی وجہ سے تیراں سال پہلے قائم کئے گئے طبی ادارے کا مقصد ہی فوت ہوکر رہ گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے بعد پچھلے پانچ چھ سالوں سے ہم لوگ یہاں کے مریضوں کو درپیش مسائیل اور انہیں کندھوں اور چارپائیوں پر اٹھا کر لے جانے کے کئی ویڈیو اور فوٹو اعلی حکام کے گوش گذار کر چکے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بزلہ میں ایک ڈاکٹر کی تعیناتی کیلئے ڈائریکٹر محکمہ صحت جموں ، چیف میڈیکل افسر رام بن اور ڈپٹی کمشنر رام بن کو کئی بار عرض کی گئی ہے لیکن ابھی تک اس دور علاقے میں عوام کو طبی شعبے سے درپیش مشکلات کا زالہ نہیں ہوسکا ہے اور لوگ مسلسل پریشان ہیں ۔اس سلسلے میں بات کرنے پر بلاک میڈیکل افسر اکڑال ضلع رام بن ڈاکٹر محمد اقبال ملک کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بزلہ کھڑی میں ایک میڈیکل ایڈ سینٹر موجود ہے جبکہ پرائمری ہیلتھ سینٹر کا قیام ترگام میں لایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل ایڈ سینٹر بزلہ میں ایک ملٹی پرپز ہیلتھ ورکر اور اس کے ساتھ ایک ہیلپر رکھا گیا ہے اور ان طبی اداروں میں ڈاکٹر تعینات نہیں کئے گئے ہیں ۔