سری نگر//وادی میں ہوشربا مہنگائی نے عام لوگوں کی کمر توڑ کررکھی ہے اور خوردنی اشیاء خریدناان کی قوت خرید سے باہر ہوگیا ہے۔وادی کشمیر میں لوگ معاشی اعتبار سے گزشتہ تین برس کے حالات کی وجہ سے انتہائی کمزور ہوگئے ہیں اور قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ سے وہ مشکلات میں گھر گئے ہیں،جبکہ انتظامیہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے میں مکمل ناکام ہوچکا ہے۔کے این ایس کے مطابق اس سال لاک ڈائون سے قبل خوردنی تیل کے پندرہ کلوڈبے کی قیمت1700سے1900روپے تھی ،لیکن مہنگائی کا عالم یہ ہے کہ اب اس کی قیمت اس وقت2800روپے ہے۔خوردنی تیل کا پانچ کلوکاڈبہ جوپہلے600سے700روپے میں دستیاب تھااب900روپے میں فروخت ہورہا ہے۔عام لوگوں کے مطابق وباء کی آڑ میں متعلقہ محکمہ مہنگائی کو روکنے کیلئے کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کررہا ہے ۔لوگوں کاکہنا ہے بازاروں میں موجود اشیاء ضرویہ کی قیمتیںعام انسان کی قوت خرید سے باہر ہیں جس کی وجہ سے عام لوگ پریشانی میں مبتلا ہیں ۔اشفاق احمد نامی ایک نوجواان نے بتایاکورونا ووائرس کی موجودہ بحرانی صورتحال سے جہاں عوام پہلے ہی خوف اور اضطراب میں مبتلا ہیں وہیں اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے لوگوں کی پریشانی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ کمر توڑ مہنگائی نے غریب اور متواسط طبقے کے لوگوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔گذشتہ چند ماہ سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ سرینگر میں اس وقت پٹرول کی قیمت 97.92پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 89.31 پیسے فی لیٹر ہے۔ اسی طرح بازاروں میں دیگر روزمرہ کی ضرویات کی چیزوں کے علاوہ کھانے کے تیل کی قیمتوں میں بھی ہوش ربا اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔گذشتہ دو ماہ کے دوران خوردنی تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ کیا گیا ہے۔اس دوران وادی کشمیر کے شہر و دیہات سے تعلق رکھنے والے بیشتر ہو ل سیل دکانداروں نے اب تیل فروخت کرنا ہی بند کر دیا ۔عبد الرحمان ایک تاجر نے بتایا آج تک اتنی زیادہ قیمت کبھی نہیں ہوئی ہے ۔ان کا مزید کہنا تھا اب لوگ اپنے طاقت کے حساب سے تیل کے ساتھ ساتھ باقی اشیاء خرید رہے تھے اب لوگوں کو اس وبا میں مہنگی چیز خرید نے کی قوت نہیں ہے ۔