سرینگر/ /جموں و کشمیر میں پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے50ہزار 735 ٹیسٹ کئے گئے جن میں 656 کی رپورٹیں مثبت آئیں۔ متاثرین کی مجموعی تعداد 310000کا ہندسہ پار کرکے 310017تک پہنچ گئی ہے۔ اس دوران مزید 9افراد کورونا وائرس سے فوت ہوگئے۔ متوفین کی مجموعی تعداد4226ہوگئی ہے۔ گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر میں کورونا وائرس سے 13سفر کرنے والوں سمیت مزید 656افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں 190جموں جبکہ 466کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے 466متاثرین میں 8بیرون ریاستوں سے سفر کرکے کشمیر پہنچے جبکہ 458مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ سے فوت ہوگئے۔ کشمیرکے 466متاثرین میں سرینگر میں112، بارہمولہ میں42، بڈگام میں94 ,پلوامہ میں54، کپوارہ میں45، اننت ناگ میں53، بانڈی پورہ میں17،گاندربل میں25،کولگام میں18 اور شوپیان میں صرف6متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرین کی مجموعی تعداد1لاکھ92ہزار263ہوگئی ہے۔ اس دوران کشمیر میں مزید4فراد وائرس سے فوت ہوگئے۔ مرنے والوں میں صدر اسپتال میں1، جی ایم سی بارہمولہ میں1، سب ضلع ٹنگڈار میں1 اور سی ایچ سی ٹنگڈار میں1 شخص فوت ہوا ہے۔ کشمیر صوبے میں متوفین کی مجموعی تعداد 2168 ہوگئی ہے۔ جموں میںجمعرات کو190فراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں جن میں سے5بیرون ریاستوں سے جموں پہنچے جبکہ185فراد مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ سے وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ جموں صوبے کے190متاثرین میں جموں میں33، ادھمپور میں6، راجوری میں26، ڈوڈہ میں41، کٹھوعہ میں20، سانبہ میں9کشتواڑ میں9، پونچھ میں4 رام بن میں26اور ریاسی میںکوئی بھی شخص وائرس سے متاثر نہیں ہوا ہے۔ جموں صوبے میں متاثرین کی مجموعی تعداد117754ہوگئی ہے۔ اس دوران مزید5فراد جموں میں فوت ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں جی ایم سی ڈوڈہ میں1اورجی ایم سی راجوری میں3،جبکہ1شخص گھر میں فوت ہواہے۔جموں صوبے میں متوفین کی مجموعی تعداد2058ہوگئی ہے۔
ٹیکہ کاری مہم تصاویر اور ویڈیو
اپلوڈکرنے پر روک لگا دی گئی
پرویز احمد
سرینگر //وادی کے شمال و جنوب میں کورونا مخالف ٹیکہ کاری کے کام پر مامور محکمہ صحت کی خصوصی ٹیموں کی جانب سے ویکسین لگانے والوں کی تصاویر اورسوشل میڈیا پر ویڈیواپلوڈ کرنے پر روک لگا دی گئی ہے۔اس دوران طبی عملہ پر بانڈی پورہ میں جمعرات کو حملہ کیا گیا۔لوگوں کا کہنا ہے کہ ’’ ویکسین لگانے والوں کی تصاویر اور ویڈو بنا کر سوشل میڈیا میں اپلوڈ کرنے سے میڈیکل کونسل آف انڈیاکے ان قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی ہورہی ہے جن میں کسی بھی مریض یا ٹیکہ کاری میں حصہ لینے والے شخص کی شناخت ظاہر کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی‘‘۔ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر ڈاکٹر مشتاق احمد راتھر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ کورونا وائرس سے لوگوں کی جان بچانے کیلئے ویکسین لینا لازمی ہے اور کورونا مخالف ٹیکہ کاری کی طرف راغب کرنے کیلئے ہی محکمہ صحت نے ٹیکہ کاری کی تصاویر اور ویڈیو اپلوڈ کرنے پر کوئی اعتراض ظاہر نہیں کیا ہے‘‘ڈاکٹر مشتاق نے بتایا ’’ سوپور میں ٹیکہ کاری مہم کے خلاف احتجاج کرنے والی خاتون کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد اب بانڈی پورہ میں بھی لوگوں نے ٹیکہ کاری مہم کی مخالف کی‘‘۔انہوں نے کہا کہ بانڈی پورہ میں حملے کے دوران کوئی بھی ملازم زخمی نہیں ہوا ہے‘‘۔ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز نے کہا ’’ میں نے ہدایت جاری کردی ہے کہ کورونا ٹیکہ کاری سے متعلق کوئی بھی ملازم کوئی بھی ویڈیو یا تصویر سوشل میڈیا پر ویڈیو اپلوڈ نہیں کرے گا‘‘۔