انتہا پسندی کی نئی جہت قابل مذمت :رانا
جموں // نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر دیویندر سنگھ رانا نے اتوار کو جموں ایئر پورٹ پر ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی طرف سے انتہا پسندی کی نئی جہت قابل مذمت اور مہذب معاشرے کےلئے ایک چیلنج ہے۔ رانا نے اپنے ایک بیان میں کہااس سے پاکستان کے ارادے بے شک بے نقاب ہوچکے ہیں ،خاص طور پر جب دشمن ہمسایہ نے جموں و کشمیر میں حدمتارکہ اور بین الاقوامی سرحد پر جنگ بندی نافذ کرنے کا دعوی کیا تھا ۔رانا نے تاہم ان دھماکوں سے جانی نقصان نہ ہونے پر اطمینان کااظہار کیا۔ رانا نے کہا کہ اس طرح کے انتہاپسندی کے حملوں سے جموں و کشمیر کے عوام کا حوصلہ پست نہیں ہوگا، جو پاکستان اور اس کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا مقابلہ کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کے دشمنوں کے سامنے یہاں کی عوام متحد ہے اور اس کا مقابلہ ہمت اور صبر کے ساتھ کیا جائے گا ۔ رانا نے کہا ،”عوام انتہاپسندوںاور ان کے سرپرستوں کی سازشوں کو ناکام بنانے میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔صوبائی صدر نے پولیس کے ذریعہ آئی ای ڈی دھماکا خیز مواد کا بروقت پتہ لگانے پر بھی اطمینان کا اظہار کیااور سیکورٹی ایجنسیوں کی تعریف کی ۔انہوں نے کہا کہ خطہ کے لوگوں نے ذات پات سے ہٹ کر ہمیشہ امن کا ساتھ دیا ہے۔
مکمل تحقیقات کی ضرورت:کانگریس
جموں //پردیش کانگریس کمیٹی نے اتوار کو جموں میں فضائیہ ائرپورٹ پر مبینہ ڈرون حملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ۔اپنے ایک بیان جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان اعلیٰ رویندر شرما نے کہا کہ واقعہ بہت سنگین ہے اور اس کی مکمل تحقیقات کی ضرورت ہے۔ پارٹی نے زخمی جوانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا اور ان کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔
ڈرون سے نہیں غبارے سے حملہ کیاگیا:بھاجپا ترجمان
جموں//یواین آئی// بھارتیہ جنتا پارٹی جموں و کشمیر یونٹ کے ترجمان بریگیڈیئر انیل گپتا نے دعویٰ کیا ہے کہ جموں کے ایئر فورس سٹیشن پر ہونے والا حملہ ایک ”ڈرون اٹیک“ نہیں بلکہ ”بلون اٹیک“ (غبارے سے حملہ)تھا۔انہوں نے کہا کہ چاند کی روشنی میں ڈرون کا ایئر فورس سٹیشن کے اندر آنا اور پکڑا نہ جانا ناممکن نظر آتا ہے ۔بریگیڈیئر انیل گپتا نے اتوار کو اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا،”کل رات بعد از نصف شب جموں ایئر فورس سٹیشن میں دو دھماکے ہوئے ۔ نقصان زیادہ نہیں ہوا لیکن ہو سکتا تھا۔ یہ دھماکے کیسے ہوئے اور کس نے کرائے تحقیقات کا موضوع ہے “۔انہوں نے کہا،”ایک اٹکل یہ لگائی جا رہی ہے کہ یہ شاید ڈرون اٹیک تھا۔ میری نظر میں یہ ڈرون اٹیک نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ ڈرون اتنا اندر آئے اور پکڑا نہ جائے مشکل ہے ۔ خاص کر کل چاندنی رات تھی۔ چاند کی روشنی میں ڈرون کا آنا اور پکڑا نہ جانا ناممکن ہے “۔بی جے پی ترجمان نے ”حملے “کو”بلون اٹیکٹ“قرار دیتے ہوئے کہا،”میری نظر میں یہ ایک بلون اٹیک ہے ۔ آپ کو یاد ہوگا کہ پچھلے مہینے اور اس سے پہلے سرحد کے نزدیک پی آئی اے مارکنگ کے غبارے پائے گئے تھے “۔انہوں نے کہا،”تب سب اٹکلیں لگا رہے تھے کہ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے ۔ میں نے تب بھی کہا تھا کہ شاید ان کے ذریعے آئی ای ڈی بھیجی جائیں گی۔ مجھے لگتا ہے کہ کل رات کو ایئر فورس سٹیشن پر جو حملہ ہوا ہے وہ غباروں کے ذریعے ہی ہوا ہے ۔ یہ غبارے کہاں سے بھیجے گئے اور ان کو کنٹرول کیسے کیا گیا یہ کہہ پانا ابھی مشکل ہے“۔ان کا مزید کہنا تھا،”ہمیں مستعد رہنا پڑے گا کیوں کہ پاکستان نہیں چاہتا کہ سرحد پر امن رہے ۔ پاکستان ایک طرف جنگ بندی کا اعلان کرتا ہے اور دوسری طرح اس طرح کی گھناونی حرکتیں کر کے بھارت کی طاقت کو چیلنج کرتا ہے “۔