نئی دہلی// وزیر اعظم ہند کی منگل کو وزیر داخلہ امیت شاہ، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈول کے ساتھ میٹنگ میں ابھرتے ہوئے حفاظتی خطرات اور ملک کو درپیش مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ایک وسیع البنیاد تیز رفتار پالیسی وضع تیار کرنے پر توجہ دی گئی۔یہ اجلاس جموں ائیر فورس اسٹیشن پر حملہ کرنے کیلئے بارودی مواد سے بھرے ڈرون کے استعمال کے دو دن بعد ہوا۔ ملاقات کے بارے میں بتایا گیا ’’حکومت ابھرتی چیلنجوں سے اجتماعی طور پر نمٹنے کے لئے ایک پالیسی تیار کرے گی اور اس پالیسی کی تشکیل میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ مختلف وزارتیں اور محکمے ملک کو درپیش نئے اور ابھرتے ہوئے غیر روایتی سیکورٹی چیلنجوں کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لئے اس پالیسی پر کام کر رہے ہیں۔وزارت دفاع اور تینوں افوج تمام سر فہرست متعلقین اور سیکورٹی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی کرکے پالیسی تشکیل دینے کے ساتھ ساتھ اس کے نفاذ میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تینوں افواج کو ڈرون حملوں جیسے نئے دور کی چیلنجوں سے موثر انداز میں نمٹنے کے خلاکو دور کرنے پر مناسب توجہ دینے اور ان پر قابو پانے کے لئے ضروری ہارڈ ویئر کے حصول کے لئے کہا گیا ہے۔اجلاس میں سیکورٹی فورسز کو جدید آلات سے آراستہ کرنے اور زیادہ سے زیادہ نوجوانوں ، اسٹارٹ اپس اور اس شعبے میں اسٹریٹجک کمیونٹی کو شامل کرنے سمیت متعدد دیگر پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔مستقبل میں چیلنجوں سے نمٹنے کی کوششوں کے تحت فوج پہلے ہی مصنوعی ذہانت ، علوم سائنس ، روبوٹکس ، ڈرونز ، کوانٹم کمپیوٹنگ ، نینو ٹیکنالوجی اور سائبر صلاحیتوں کو شامل کرنے پر کام کر رہی ہے۔ ان لوگوں نے کہا کہ تینوں سروسزکے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے اہم منصوبہ سازوں کی پالیسی پر کام کو تیز کرنے کے لئے آئندہ چند ہفتوں اور مہینوں میں متعدد اجلاس ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ سروسز کو پہلے ہی بتایا گیا ہے کہ وہ بغیر پائلٹ طیاروں کے حملوں سے نمٹنے کے لئے انسدادڈرون ٹیکنالوجی کے حصول پر توجہ مرکوز کرے۔جموں کے حملے کے بعد ، ہندوستانی فضائیہ نے سرحدی علاقوں میں واقع اپنے تمام اڈوں پر سیکیورٹی بڑھا دی ہے۔