اس بات سے پوری دنیا واقف ہےکہ کورونا وائرس ایک مہلک بیماری ہے،جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کر قیامت برپا کر دی۔. یہ وہ بیماری ہے جو ملک چین سے شروع ہو کر پوری دنیا میں پھیل گئی اور آج بھی کئی ممالک میں اپنا دبدبہ برقرار رکھی ہوئی ہے۔ لاکھوں لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس نے اپنے پر پھیلاتے ہی تمام دنیا کی سائنس اور ٹیکنالوجی کو خاموش تماشائی بنا دیا۔ دراصل دنیا میں اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے اللہ نے پوری دنیا کو اس مہلک بیماری میں مبتلا کر دیا۔ اللہ کی نافرمانی جب عروج پر پہنچتی ہے تو اللہ کی طرف سے یا تو کورونا وائرس جیسی بیماریاں پھیلتی ہے یا وہ ایسے عذاب نازل کرتا ہے جو عذاب ہم سے پہلے والی اقوام پر آئی ہیں، جن کا ذکر اللہ نے قرآن شریف میں کیا ہے۔اب اس عذاب سے بچنے کے لیے پوری دنیا اللہ کے اور رجوع کرنے لگی۔
اس بیماری سے لڑنے کے لیے پوری دنیا نے کئی تدابیریں کیں تاکہ اس بیماری سے نجات مل سکے۔اس مہلک بیماری کی وجہ سے پوری دنیا قریباً ایک سال تک مقفل ہو کے رہ گئی,۔لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے. سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر پوری طرح بند ہوگئے. پوری دنیا کا ماحول متاثر ہوگیا. ان ہی اداروں میں تعلیمی ادارے بند ہوگئے,۔ان تعلیمی اداروں میں ابھی بھی درس و تدریس کا سلسلہ جاری نہیں ہوا.۔ تعلمی اداروں کے بند رہنے سے بچوں کا مستقبل خرابی کی طرف جا رہا ہے، جن کے مستقبل کاا اندازہ لگانا اب مشکل ہوگیا ہے.۔دوسرے جغرافیائی علاقوں کے مقابلے میں کشمیر کی صورتحال کچھ مختلف ہوتی ہے۔ یہاں اکثر و بیشتر حالات خراب رہتے ہیں۔ ان خراب حالات میں بھی سب سے زیادہ متاثر اسکولی بچے ہوتے ہیں جو تعلیمی نظام سے بار بار دور رہ کر اپنا مستقبل کھو دیتے ہیں. ۔پچھلے تین سال کے حالات ابھی بھی ہمارے سامنے ہیں۔ ہم خوب جانتے ہیں کہ کس طرح یہاں کے حالات بد سے بدتر ہوگئے ہیں. 2019 میں دفعہ 370 ہٹنے سے پورا جموں و کشمیر بند ہوگیا۔ اس وقت کسی کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔. تمام سرکاری و غیر سرکاری دفاتر سرکار نے بند کروائے۔ اس وقت بھی بچوں کی تعلیمی نظام پر بہت برا اثر پڑا۔ بچے ایک سال تک گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔ کسی قسم کی تعلیمی سرگرمی ان کے لیے میسر نہیں تھی. 2020. میں کورونا وائرس کی بیماری پھوٹ پڑی.۔اس بیماری کی وجہ سے بھی اسکول بند رہے۔ بچے درس و تدریس سے محروم رہ گئے،وہی بچے بعد میں کئی غلط کاموں میں خود کو مبتلا کر گئے۔ان میں کئی بچے منشیات کا شکار ہو گئے۔کئی نے خودکشی کر لی ۔غرض کہ بہت سے بچے مختلف جرائم کا شکار ہوگئے۔ان خراب حالات کی وجہ سے نوجوان نسل منشیات کے استعمالکا بھی عادی بن گئے،بہت سے ڈپریشن کا شکار ہو گئےاور بعض نے مایوسی کے عالم میں خود کشی کو ترجیح دے دی۔
چونکہ بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیںلیکن کشمیر کا یہ مستقبل حالات کی مسلسل خرابی کے کارن تباہ و برباد ہوتا رہااور تا ایں دَم حالات میں ایسی کوئی واضح بہتری نہیں آرہی ہے کہ نظام تعلیم کا ڈھانچہ اپنی اصل شکل میں آجائے۔آج بھی ہمارا مستقبل یعنی ہمارا نوجوان نسل صحیح سمت کی طرف لوٹ نہیں رہا ہے۔ظاہر ہے کافی عرصے سے ہمارے بچے تعلیمی نظام سے دور ہوگئے ہیں تو یقیناً پورے جموں و کشمیر کے بچوں کا مستقبل لگ بھگ خراب ہوچکا ہےجس کے نتیجے میں. قوم آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے چلی جارہی ہے۔حالانکہ بچوں کا روشن مستقبل ایک قوم کی ترقی کے لیے ضروری ہوتا ہے۔جس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ کورونا وائریس جیسی مہلک بیماری نے جب پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیاتو ترقی یافتہ ممالک سے لے کر ترقی پذیر ممالک دم بہ خود رہ گئے۔ تمام دنیا کی سائنس اور ٹیکنالوجی اس بیماری کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی. میڈیکل سائنس نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ اس لیے کہ آج یعنی 21ویں صدی میں بھی کورونا وائریس جیسی بیماری کے لیے طبی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ یہ اللہ کا کرم ہے جس نے ہمیں اس مہلک بیماری سے نکافی حد تک محفوظ رکھا اور انشااللہ اس سے نجات مل رہی ہے۔لیکن اگر اب بھی اسی طرح کے حالات رہے تو مستقبل کیا ہوگا ان بچوں کا جنہیں آگے چل کر اس طرح کی مہلک بیماریوں کے لیے ادویات تیار کرنی ہیںتاکہ آنے والے وقت میں اللہ بچائے اگر اس طرح کی کوئی اور بیماری پھوٹ پڑتی ہے اس کا علاج پہلے سے تیار ہو۔
الغرض کہ اب حالات بہتری کی طرف آرہے ہیں۔ اب سرکاری دفاتر میں تھوڑا بہت کام کاج شروع ہوا ہے تو تعلیمی اداروں میں بھی SOP پر عمل کر کے درس و تدریس کا کام شروع کیا جانا از حد ضروری ہے۔ اس سے ایک فائدہ یہ ہے کہ ایک تو بچوں کا قیمتی وقت ضائع نہ ہوجائے,دوسرا یہ کہ بچوں کا مستقبل روشن ہوجائے ۔لگاتار تعلیمی اداروں کے بند رہنے سے بچوں پر غلط اثرات مرتب ہوجاتے ہیں. اور وہ غیر ضروری کاموں میں خود کو مبتلا کرتے ہیں۔آئے دن ہم خودکشی کے واقعات دیکھتے رہتے ہیں یہ اسی ماحول کا نتیجہ ہے کہ بچوں کا اسکول سے تعلق ٹوٹ چکا ہے۔سرکار نے خراب حالات کد مد نظر رکھ کر آن لائن کلاس شروع کئے جو کہ ایک خوش آئند فیصلہ تھا لیکن جو ماحول بچوں کو تعلیمی اداروں میں مل رہا ہے اس ماحول سے بچے دور ہورہے ہیں. لہٰذا سرکار کو حالات کو مدنظر رکھ کر تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کا کام جلد از جلد شروع کرنا چاہیے. تاکہ بچوں کے لیے ایک صحیح اور سود مند ماحول پیدا ہوجائے۔
ترہگام
9906609701