راجوری //تاریخی مغل شاہراہ پر انتظامیہ کی جانب سے عائد بندشیں ختم ہونے کے پہلے دن 75گاڑیوں نے شاہراہ پر سفر کیا جبکہ مسافروں و مکینوں نے انتظامیہ کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے مانگ کی کہ دوران آمد ورفت تمام بنیاد ی سہولیات دستیاب رکھی جائیں ۔دوسری جانب سے ٹریفک حکام نے بتایا کہ شاہراہ پر دن کو سفر کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے تاہم رات کا سفر کرنے پر بندشیں عائد کی گئی ہیں ۔غور طلب ہے کہ جموں وکشمیر انتظامیہ کی جانب سے مغل شاہراہ پر عام ٹریفک کی نقل و حرکت کو کووڈ کے دوران بند رکھا گیا تھا تاہم عوامی مانگ کے بعد لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے حالیہ دنوں میں شاہراہ سے بندشیں ہٹا دی تھی اور گاڑیوں کو کھلے عام چلنے کی اجازت دے دی گئی تھی جس کے بعد گزشتہ روز شاہراہ پر ٹریفک کو بحال کر دیا گیا ۔مکینوں نے بتایا کہ مغل شاہراہ کے بند ہونے کی وجہ سے خطہ پیر پنچال کے مریضوں اور طلباء کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا تھا اور اس دوران ان کو جموں سرینگر شاہراہ پر سفر کرنا پڑرہا تھا تاہم ٹریفک کی بحالی سے ان کو فائدہ پہنچے گا ۔راجوری سے تعلق رکھنے والے عارف احمد نامی ایک مسافر نے انتظامیہ کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوے کہاکہ اس عمل سے عام لوگوں کو فائدہ پہنچے گا ۔پونچھ سے تعلق رکھنے والے ناظم احمد نامی ایک مسافر نے کہا کہ انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ شاہراہ پر مواصلاتی نظام و دیگر سہولیات کا بندوبست کرئے تاکہ مسافروں کی پریشانیاں کم ہو سکیں ۔ڈپٹی ایس پی ٹریفک نے بتایا کہ مختلف زمروں میں آنے والی 75گاڑیوں نے پہلے دن مغل شاہراہ پر سفر کیا ۔انہوں نے بتایا کہ پونچھ کی جانب سے صبح 8بجے سے دوپہر 3بجے تک گاڑیوں کو شوپیاں جانے کی اجازت دی جاتی ہے ۔آفیسر موصوف نے بتایا کہ دن میں سفر کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے تاہم رات کے سفر پر بندشیں عائد ہیں ۔